” حِدّت ” ۔۔۔۔ افسانہ ۔۔۔۔ از قلم : کائنات اقبال

آخری مٹی سے بھری مُٹھی سالار نے زینت اور شِفا کے دِلوں میں اپنی قبر پر خود ڈالی

235

” میں بتا رہی ہوں نا میں نے کچھ نہیں کِیا "

” آج تُو میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گی . خون کر دونگا میں تیرا ۔۔۔ "

اُس نے اپنی بیوی کو جلا کر راکھ کر دینے والی نظروں سے دیکھا

” مجھے میرا قصور تو بتا دو … "

زینت آنکھوں میں آنسوؤں کا دریا لیے گھٹنوں کے بل بیٹھی التجائیں کر رہی تھی کہ اُسے اُس کا قصور بتایا جائے …

سالار آگ بگولہ ہوئے سٹور کی جانب گیا
کچھ لمحوں میں دوبارہ اپنے کمرے میں نمودار ہوا اور اُسکے ہاتھوں میں سامان باندھنے والی موٹی رسّی تھی . اُس نے زینت کے کانپتے ہاتھ اُس رسی سے باندھ دیے …

” سالار میں امّی کے گھر ہی گئی تھی آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں میری بات تو سنیں پلیز "

” تمہیں آج میں سبق سِکھاتا ہوں تم مجھے بیوقوف سمجھتی ہو . تمہیں لگتا ہے کہ میں اندھا ہوں۔ تمہیں میں نے یہ بات ایک بار نہیں ہزار بار سمجھائی ہے لیکن لگتا ہے تمہارے بھیجے میں میری کوئی بات بیٹھتی ہی نہیں ہے "

سالار نے رسی کے کئی گھیرے کس کر اُس کی نازک سی کلائیوں پر باندھ دیے …

” سالار میری بات سنو آپکو غلط فہمی ہوئی ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کِیا جیسا آپ سمجھ رہے ہیں مجھے نہیں پتا آپ کو ہوا کیا ہے مجھے آخر بتائیں تو صحیح میں ۔۔۔۔ "

” چپ کر بے غیرت …….

بالکل چپ ……. تیری زبان حلق سے کھینچ کر گلے سے لپیٹ دونگا اگر ایک اور لفظ بولا تو …”

اتنے میں سالار نے زینت کو اُسکی چوٹی سے پکر کر اسکا ماتھا پاس پڑے بیڈ کی نوک پہ دے مارا ….

زینت کی روح تک کانپ گئی اورکچھ بولنا تو دور وہ اپنا سر اُٹھانے سے بھی قاصر ہو گئی۔

” امّی …………”

 

شِفا (زینت کی بڑی بیٹی) یہ ماجرا کمرے کی دروازے کی کھِسکی ہوئی درز سے دیکھ رہی تھی اپنی آہ پر قابو نہ پا سکی
ماں کی ایسی حالت دیکھ کر اُسکا سینہ جیسے چِر گیا تھا۔ چوٹ ماں کے سر پر آئی تھی دُنیا شِفا کی گھوم گئی تھی ۔ 7 سالہ شِفا خود کو دروازے کے پیچھے چھپائے اپنی چیخوں کو حلق میں ہی دبوچ رہی تھی . مگر امّی کی چوٹ پہ اُسکا دل دہلا تھا زمین پیروں تلے کھسک گئی تھی .
سالار نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ، آواز کی سِمت کو ٹٹولا ، شِفا کا ماتھا خوف سے ٹھنکا …
سالار نے شِفا کو اُسکی گردن سے دبوچ لیا

” ابّو میں نے کچھ نہیں کِیا ابّو "

 

شِفا گڑگڑائی تھی پر سالار کو رحم نہ آیا

” تُو اِسی بے حیا عورت کی جَنی ہوئی ہے نا تُو بھی دیکھ لے اِسکا انجام دیکھ لے تجھے بھی میں یہیں اِسی کمرے میں گاڑھ دونگا "

سالار شِفا کو گردن سے گھسیٹتا ہوا اُسکی ماں کے پاس لے آیا

” میری بچی کو تو چھوڑ دو اُس معصوم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے سالار "

خوں رسیدہ ماتھے کو چھوڑ کر زینت نے سالار کے سامنے ایک اور التجا کرتے ہوئے ہاتھ جوڑے …

” کِیا نہیں ہے اور میں اِسے کرنے بھی نہیں دونگا یہیں تم دونوں کی قبر بنا دونگا تُو کان کھول کر سُن لے میری بات "

 

ایک نہیں، دو نہیں، تین تھپڑ زینت کے منہ پر رسید کرتے ہوئے سالار نے اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے زینت کے دل میں اپنی ہی قبر کھودنی شروع کر دی .

” ابّو امّی کو نہ ماریں ابّو "

” کتیا سالی تُو نکالے گی آج کے بعد گھر سے باہر قدم میں تیری ٹانگیں نہ توڑ دوں تو کہنا ….. آج تو میں تجھے سبق نہ سِکھایا تو میرا نام بھی سالار نہیں”

اپنے غصّے پہ قابو نہ پاتے ہوئے سالار کچن میں گیا اور چولہے میں آگ جلا کر اس نے چمٹا سیکنا شروع کردیا .

 

کانپتے دِلوں کے ساتھ زینت اور شِفا کمرے میں موت کے آجانے کا انتظار کر رہی تھیں اور خوف اُنکی نسوں میں خون کی مانند دوڑ رہا تھا کہ زینت سالار کو چمٹے سمیت اندر آتا ہوا دیکھ کر سُن ہو گئی . اُسکا دل چاہا تھا کہ یہیں بند ہو جائے ….

” سالار ……. سالار یہ کیا ہے ….. میرا یقین کرو میں نے سچ میں کچھ نہیں کِیا ہے سالار
سالارررر …………..
سالاااااااااااااااااااارررررررر "

 

اس نے زینت کی پیٹھ پر سے قمیض ہٹائی اور تپتا چمٹا پیٹھ پر اِس شِدّت سے رکھا کی زینت اُس چمٹے کی حِدّت سے چٹخ کے رہ جائے ….

اور ایسا ہی ہوا سالار نے اپنی آگ بجھانے کے لئے زینت کے جسم کو آگ کی حِدّت سے داغدار کردیا

” ابّووووووووو”

 

شِفا نے سالار کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی تو سالار نے اُلٹے ہاتھ کا تھپڑ شِفا کے پھول سے گلابی چہرے پر رسید کر دیا . وہ اوندھے منہ زمین پہ گِری ….

آخری مٹی سے بھری مُٹھی سالار نے زینت اور شِفا کے دِلوں میں اپنی قبر پر خود ڈالی …
زینت اپنا درد بھولی اور شِفا کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے کر بندھے ہاتھوں سے اپنے سینے میں چُھپا لیا ……….