گورے سکیورٹی گارڈ نے سیاہ فام کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

نسل پرستی کی جنگ اور کتنے انسانوں کی جان لے گی،شہر بھر میں احتجاجی مطاہرے

9

یہ دردر ناک واقعہ برازیل کی ایک سپر مارکیٹ میں پیش آیا ہے جہاں دو گورے سفید فام سکیورٹی گارڈز نے ایک سیاہ فام کی جان گولی مار کر لے لی۔

 

گورے سکیورٹی گارڈ نے سیاہ فام کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

یہ واقعہ جمعرات کے روز ”بلیک کانشیئس ڈے“کی شام کو پیش آیا جس کے اگلے روز ہی نسل پرستی کے خلاف احتجاج سڑکوں پر ہونا شروع ہو گیا۔سپر اسٹور کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے

 

کہ چالیس سالہ سیاہ فام کو سکیورٹی گارڈ نے کئی بار منہ پر تھپڑ اور مکے رسید کیے اور تشدد کا نشانہ بنایا اور بعدازاں گولی مار کر قتل کر دیا۔

 

دونوں میں سے ایک سکیورٹی گارڈ آف ڈیوٹی ملٹری پولیس آفیسر تھا جو اس تشدد میں شامل تھا۔دونوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے

 

اور سپر اسٹور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس سکیورٹی فرم نے ہمیں یہ سکیورٹی گارڈ فراہم کیے تھے اس واقعہ کے بعد ہم نے ان کے ساتھ اپنا کنٹریکٹ ختم کر دیا ہے۔

 

اگر برازیل پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس ریاست میں نسل پرستی کی جنگ سب سے زیادہ خوفناک اور لانگ ٹائم رہی تھی اور امریکہ بھر کی ریاستوں میں سب سے آخر پر سیاہ فاموں کے گلے سے غلامی کا پٹا نکالنے والی یہی ریاست تھی۔

 

برازیل نے 1888میں سیاہ فاموں کو آزاد کرنے کا اعلان کیا تھا۔برازیلین وہ قوم ہیں جنہیں روایتی طور پر یہ بات سکھائی گئی ہے کہ وہ ایک نسل پرستانہ ملک کے باسی ہیں اور یہاں سیاہ فاموں کو کوئی حقوق حاصل نہیں مگر اب حالات چینج ہو رہے ہیں

 

اور برازیلین صدر نے نسل پرستی کی جنگ کو ختم کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔تاہم جمعرات کے روز ہونے والے اس بہیمانہ قتل کے نتیجے میں جمعہ کے روز شہر بھر میں احتجاج ہوئے

 

اور مظاہرین نے نسل پرستی کےخلاف پلے کارڈ بھی اٹھائے اور حکومت مخالف نعرے بھی بلند ہوئے۔

 

لوگوں نے پلے کارڈ پر ”میں وائٹ ہونے پر شرمندہ ہوں“اور”براہ مہربانی ہیں قتل کرنا بند کریں“کے سلوگن آویزاں کر رکھے تھے۔یاد رہے

 

کہ گزشتہ دنوں امریکہ میں جارج فلوئیڈ کے بہیمانہ قتل کے بعد ”مجھے سانس نہیں آرہا“کے سلوگن کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک میں سیاہ فام

احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔