پاکستان بل کی منظوری کے بعد زیادتی کے مجرمان کو نامرد بنانے والا چوتھا ملک بن جائے گا

تین ممالک میں زیادتی کے مجرمان کو نامرد کر دینے کی سزا رائج ہے جن میں انڈونیشیا، چیک جمہوریہ اور یوکرائن شامل ہیں،یہ عمل جراحی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے

27

لاہور (عوامی فیصلہ نیوز ) پاکستان بل کی منظوری کے بعد زیادتی کے مجرمان کو نامرد بنانے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون لانے کی منظوری دے دی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی منظوری کے بعد قانونی ٹیم نے بل کے مسودے پر کام شروع کردیا ہے،بل میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا تجویز کی جائے گی۔اگر پاکستان میں زیادتی کے مجرمان کو ’نامرد‘ بنانے کا بل منظور ہو جاتا ہے تو پاکستان یہ سزا دینے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔یہ عمل جراحی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

 

تین ممالک میں زیادتی کے مجرمان کو نامرد کر دینے کی سزا رائج ہے۔

 

ان میں انڈونیشیا، چیک جمہوریہ اور یوکرائن شامل ہیں۔انڈونیشین پارلیمنٹ نے اکتوبر 2016 میں قانون منظور کیا۔چیک جمہوریہ میں یہ قانون 1966میں منظور ہوا،اور 85 مردوں کو نامرد کیاگیا۔یوکرائن میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کی سزا کا قانون جولائی 2019ء میں منظور ہوا۔حال ہی میں ایسا ہی قانون نائجیریا میں بھی منظور ہوا تاہم اس قانون کی توثیق ہونا باقی ہے۔

 

11 جون 2019ء کو امریکی ریاست الباما میں بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کی سزا کا قانون لاگو ہوا تھا۔

 

سعودی عرب میں زنا کے مرتکب مجرموں کو کوڑے مارنے کی سزا دی جاتی ہے تاہم گذشتہ اپریل میں یہ سزا ختم کر دی گئی تھی۔

 

عام طور پر سعوی عرب میں جنسی مجرموم کو سرعام سر قلم کرنے کی سزا دی جاتی ہے۔بھارت میں جنسی مجرموں کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے جو 14 سال قید ہوتی ہے۔شمالی کوریا میں ایسے مجرموں کو گولی سے اڑا دیا جاتا ہے چین میں بھی نامرد کر دینے کی بھی سزا دی جاتی ہے۔