بچوں کے اسکول بیگ کے وزن کا تعین کرنے کیلئے بل خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش

جماعت اوۤل کے بچوں کے لیے بیگ کا وزن 2.4 کلو ، جماعت دوئم کے لیے 2.6 کلوگرام اور تیسری جماعت کے لیے 3 کلوگرام وزن مقرر کیا گیا جبکہ ہائی سیکنڈری کے طلبہ کے لیے بیگ کا وزن 7 کلوگرام تک ہوگا

22

خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی میں بچوں کے اسکول بیگ کے وزن کا تعین کرنے کے حوالے سے بل پیش کردیا گیا۔ اس حوالے سے تفصیلات کے مطابق مجوزہ بل میں کہا گیا ہے

 

بچوں کے اسکول بیگ کے وزن کا تعین کرنے کیلئے بل خیبر پختونخوا اسمبلی ..

کہ جماعت اوۤل کے بچوں کے لیے بیگ کا وزن 2.4 کلوگرام ہوگا ، جماعت دوئم کے لیے بیگ کا زیادہ سے زیادہ وزن 2.6 کلوگرام اور تیسری جماعت کے لیے 3 کلوگرام وزن مقرر کیا گیا ہے

 

جب کہ ہائی سیکنڈری کے طلبہ کے لیے بیگ کا وزن 7 کلوگرام تک ہوگا تاہم اگر بچوں کے اسکول بیگ کا وزن مقررہ مقدار سے زائد ہوگا تو سرکاری اسکول پرنسپلز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ، جب کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو 2 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔

 

بتایا گیا ہے کہ بل صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی کی طرف سے صوبائی اسمبلی میں اسکول بیگز لمی ٹیشن آف ویٹ بل 2020ء پیش کر دیا گیا

 

جوکہ آج اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت ہونے والے اسمبلی اجلاس میں پیش کیا گیا جس کا مقصد صوبہ خیبر پختونخوا میں بچوں کے اسکول بیگ کا وزن مقرر کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کا عمل شروع کرنا ہے۔

 

اس ضمن میں واضح رہے کہ اس سلسلے میں ایک درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو قانون سازی کا حکم دیا تھا اور 4 ماہ کی مہلت دی تھی ، جسٹس قیصر رشید نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے تھے کہ بھاری بستوں سے بچوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

 

اس سے پہلے مارچ 2018ء میں اس حوالے سے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کلینکل عباسی شہید اسپتال کراچی نے تمام اسکول پرنسپلز کو ایک خط میں کہا تھا

 

کہ بھاری بیگ اٹھانے والے بچے مختلف تکالیف کا شکار ہوتے ہیں ، انھیں گردن، ریڑھ کی ہڈی اور کندھے میں درد کی شکایات ہو سکتی ہیں ،

 

روزانہ کئی بچوں کو ان ہی تکالیف کے باعث اسپتال لایا جاتا ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ بیگ کا وزن مناسب رکھا جائے۔