تقریب بہت ملاقات تحریر : منشاقاضی(حسب منشا )

Ceremony very meeting Writing: Manshaqazi (customized)

70

لاک ڈاؤن میں سات ماہ کے بعد ھمدرد لوگوں نے یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا نامساعد حالات کی سنگینی نے ھماری بہت ساری اقدار میں پژمردگی محسوس کی جا رھی ھے اور بہت ساری اقدار بدل کر وہ ھوتی جا رھی ھیں کہ جن کا تعلق اسلام اور اسلامی طرز زندگی سے بڑی حد تک باقی نہیں رھا ھے

 

 

معاشرہ ان حالات سے متاثر ھے جو آج مغرب کا طرہ ء امتیاز ھیں ، مگر خود مغرب کی بے بس متانت ان پر انگشت بدنداں ھے ۔ یہ بات بڑی تفصیل کی محتاج ھے کہ اسلامی اقدار کیوں اور کیسے گہن میں آ گئیں ، مگر اس کے خطرات بہت ھیں ۔ اگر پاکستان میں اسلام کا پوری طرح تحفظ نہ ھو سکا تو پھر اسے قیامت سمجھنا چاہئیے ۔

 

 

تقریب بہت ملاقات تحریر : منشاقاضی(حسب منشا )
تقریب بہت ملاقات تحریر : منشاقاضی(حسب منشا )

 

 

اس سخت دور میں جو لوگ برسرپیکار ھیں اور روایات اسلامی کے تحفظ کو مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں اور تعمیر ملک و ملت کے عظیم و مقدس فرض کی بجاآوری میں مصروف و مشغول ھیں ، ان کی راہ بڑی کھٹن ھے ، پرخار ھے ، مگر وہ سزاوارِ تحسین و آفرین ھیں ۔ ھمدرد مجلس شوریٰ کے مقررین کا شمار ان ھی بلند شخصیتوں میں ھے ۔

 

 

یہ وہ اھل فکر و نظر ھیں جنہوں نے ھمدرد مجلس شوریٰ کے اجلاس سے قوم کو دعوت فکر دی ھے ۔ ھمدرد مجلس شوریٰ کے منتظمین کا رواں رواں ان کا شکر گزار ھے ، ھمدرد مجلس شوریٰ کی مجالس شروع ھو چکی ھیں اور تعمیر ملک و ملت کے لئیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی ۔

 

 

یکساں نصاب تعلیم کی بات ھو یا نفاذ اردو زبان کی دلدادہ تنظیموں کے اجلاس ھوں ھمدرد مجلس شوریٰ کے پلیٹ فارم سے قوم کو فکر و عمل کی دعوت دیتے رھیں گے اور آج بھی موجود خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں سماجی فاصلوں کی پابندی کے باوجود شریک ھو کر میری روح کو مطمئن رکھا ھے ، دختر نیک اختر سعدیہ راشد نے میرے مشن کو آگے بڑھایا ھے اور سید علی بخاری کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاھتا ھے ۔

 

 

بلبل پاکستان بشری رحمن کی نقابت بھی دیکھ رھا ھوں کہ ایک بلبل ھے جو ھے محو ترنم اب تک ۔ نفاذ اردو زبان کے صدر جناب جمیل بھٹی صاحب اور فاطمہ قمر کے علاوہ ھال میں تمام خواتین و حضرات کو سید علی بخاری ھمدرد مجلس شوریٰ کے رابطوں کے ماھر میرا سب کو سلام پیش کر دیں آج میری روح بہت خوش ھے ۔ یہ تھا حکیم محمد سعید شہید کا عالم برزخ سے خصوصی پیغام ھمدرد مجلس شوریٰ کے اراکین کے لیئے اب میں نے جو سنا جو دیکھا وہ بھی قارئین کی خدمت میں حاضر ھے

 

 

طباعت و تقسیم کار کتب ڈائریکٹر جہانگیر بک ڈپوفواز نیاز نے شدید ترین گرمی ء گفتار سے سامعین کو ھمدرد مجلس شوریٰ کی بجائے ناصر باغ کے میدان سیاست میں لا کھڑا کر دیا ، آپ کو معلوم نہ تھا کہ ھمدرد مجلس شوریٰ کے بانی حکیم محمد سعید شہید اس دانائے راز غالب سے اس لیئے ناراض تھے کہ اس نے ایک شعر میں چیرہ دستی کا ذکر کیا ھے ۔

 

 

عجز و نیاز سے تو نہ وہ آیا راہ پر ۔ دامن کو اس کے آج حریفانہ کھنچیئے ۔ آپ نے کرپشن کے الزامات کے انبار لگا دیے ۔ نفاذ اردو زبان کے صدر جناب محمد جمیل بھٹی نے اردو زبان میں یکساں نصاب تعلیم کی طرف توجہ دلائی اور زور دے کر کہا کہ ھم زبان غیر کو اپنی زبان اردو پر ھر گز غالب نہیں آنے دیں گے ۔

 

 

میں نے یکساں نصاب تعلیم پر ، تقریب کو بہت ملاقات کو غالب پایا ھے اور سات ماہ کی خود ساختہ جدائیوں کے صدموں سے چور اپنے احباب سے ملاقات ہوئی اور دل خوش ہو گیا ۔ سید علی بخاری ایک صابر اور رابط قوت ارادی کی منتہا کو پہنچی ھوئی فکر کے ھمدرد انسان ھیں جن کی وجہ سے لوگ جوق در جوق چلے آتے ھیں ۔۔

 

 

آپ نے حکیم محمد سعید شہید سے فیض کی نظر کی ھے ۔ ھمدرد مجلس شوریٰ کی کاروائی کا آغاز علامہ فاروق نے تلاوتِ قرآن کریم سے کیا اور ابتدائی کلمات بشریٰ رحمان نے ادا کر کے پروگرام کو آگے بڑھایا اور مہمان مقررین میں سب سے پہلے ممتاز ماھر تعلیم اور پرنسیپل سائنس کالج ڈاکٹر میاں محمد اکرم کو دعوت دی گئی

 

 

آپ نے یکساں نصاب تعلیم پر جو بات کی وہ یقین جانیئے قرآن وسنت کے مطابق تھی آپ نے پاکستان کی اسلامی نظریاتی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم پر جو بات ھو رھی ھے وہ خوش آئند ھے

 

 

اردو پوائنٹ کے سربراہ شاھد نوید چودھری کی بڑی جچی تلی رائے تھی کہ یکساں نصاب تعلیم کے منصوبہ ساز ذھن کے بطن سے یکساں نصاب تعلیم جنم لے گا اس اھل دانش کے تحفظات ھیں یکساں نصاب تعلیم کی اصل روح تو ھماری اسلامی روایات و اقدار ھیں ان کی موجودگی ھی روحانی آسودگی کا سامان پیدا کر سکتی ھے

 

 

پنجابی زبان میں بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ ۔ پھڑے جانے آں اسی نحق بندے ہیڈن قلماں تے ہتھ فرشتیاں دے ۔۔ لکھے گئے سن جدوں اعمال نامے کول ساڈا وکیل مختار وی سی ۔ فواز نیاز نے نیاز مندی سے کہا کہ مجھے ھمدرد مجلس شوریٰ کی تقریب میں پہلی بار شرکت کا اعزاز حاصل ھوا ھے اور اس شائستہ اور شستہ ماحول سے آشنا ھوا ھوں آئندہ شائستہ طبع مشاھیر کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرتا رھوں گا ۔

 

 

ھمارے مرحوم دوست ادیب جاودانی کے فرزند دلبند نے بھی شاندار گفتگو کی ۔ میری ذاتی رائے یہ تھی کہ ھم تعلیم پر جتنا زور دے رھے ھیں اس شور میں تربیت دب کر رہ گئی ھے ۔ تعلیم دس فیصد اور تربیت نوے فیصد لازمی قرار دیدی جائے تو سوسائٹی عظیم انسانوں سے آباد ھو جائے گی ۔ اس وقت ڈگریاں ، اعلیٰ تعلیمی امتیازات سے متصف پی ایچ ڈی لوگ موجود ہیں مگر ان میں مجھے ایک حکیم محمد سعید شہید کی یادگار شخصیت چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈ کر لا دو نہیں ملے گی ۔

 

 

انیسویں صدی نے بڑے لوگ پیدا کیئے ھیں اور بیسویں صدی انہیں کھا گئی ھے اور آج اکیسویں صدی میں ان کی فوٹو کاپی بھی نہیں مل رھی ھے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اس کیفیت پر زور دار ماتم کیا ھے ۔ پھر نہ اٹھا کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے ۔ وھی آب و گل ایراں وھی تبریز ھے ساقی ۔۔

 

 

اس تقریب میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور توقع سے زیادہ اس لیئے لوگ سات ماہ سے گھروں میں عدم مصروفیت کا شکار تھے اور بھلا ھو ھمدرد مجلس شوریٰ کے منتظمین خاص طور پر محترمہ سعدیہ راشد اور لاھور میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ جناب سید علی بخاری صاحب کا جنہوں نے حفظ مراتب کا خیال رکھا ھوا ھے جس سے حکیم محمد سعید شہید کی روح لطیف راحت محسوس کرتی ھے ۔

 

 

سید علی بخاری صاحب سے ھمدردانہ استدعا ھے کہ ممتاز ماھر تعلیم جناب شہباز خان آف شیخوپور کا نام بھی لکھ لو ھمدرد لوگوں میں ۔ فاطمہ قمر اور رانا امیر علی خان کی خامشی میں بھی بلاغت کے دریا بہہ رھے تھے ھماری انتہائی محترمہ فرح زیبا کی گفتگو سے بھی محروم رھے ۔ پھول کے پھلدار مدیر شعیب مرزا ، میجر خالد نصر ، اعزاز سید ، عمران خان، علامہ فاروق سے بھی اسی بہانے ملاقات ھو گئی ۔

 

 

نصاب تعلیم کی تکمیل اور یکسانیت پر بہت کچھ سن رھے ھیں اگر ایسا ھو گیا تو فراز کا یہ مصرعہ جو محاورہ بن گیا ھے کہ ۔ تیرا میعار بدلتا ھے نصابوں کی طرح ۔ سید علی بخاری صاحب کے حسن ترتیب اور اھتمام کی تعریف نہ کی جائے تو نا انصافی ھو گی ھمدرد کا عملہ جن کی قیادت عمران خان کے سپرد تھی ھمدرد مجلس شوریٰ کی نیک نامی کے متحرک اشتہار تھے الللہ تعالیٰ پاکستان کے ھر ادارے کو ھمدرد بنا دے ۔۔

 

 

الللہ تعالیٰ حکیم محمد سعید شہید کی روح کو تسکین ابدی سے ھمکنار فرمائے ۔ آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے اور سبزہ ء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرئے آمین ثم آمین

 

 

محمد جمیل بھٹی نے پبلشرز فواز نیاز کی تنقیدی رویے کی بڑی شائستگی سے اصلاح کی اور کہا کہ ھمدرد مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ھے ۔

 

 

فواز نیاز نے نیاز مندی کی جو طرز ایجاد کی اسے بہت سراھا گیا ادھر لب ھلے ادھر شکایات نے دم توڑ دیا ۔ انہوں نے کتب میں غلطیوں کی تصحیح کی بھی بات کی بقول غالب ۔

 

 

پکڑے جاتے ھیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق ۔ آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا