بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم

بچوں کی خصوصی عدالت نے مجرم رستم علی کو 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جرم میں سزا سنائی

12

بچوں کی خصوصی عدالت نے بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں کم سن بچوں کی خصوصی عدالت نے 6 سالہ بچی کو زیادتی کرنے کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزا سنا دی۔عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم رستم علی کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں میں بچے،بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

 

 

حکومت زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لیے قانون لانے کا سوچ رہی ہے جس کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے بھی کیا ہے۔وزیراعظم زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا کے حامی ہیں۔ حکومت نے زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 

 

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون لانے کی منظوری دے دی ہے۔

 

 

وزیراعظم کی منظوری کے بعد قانونی ٹیم نے بل کے مسودے پر کام شروع کردیا ہے،بل میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا تجویز کی جائے گی۔اگر پاکستان میں زیادتی کے مجرمان کو ’نامرد‘ بنانے کا بل منظور ہو جاتا ہے تو پاکستان یہ سزا دینے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔

 

 

 

یہ عمل جراحی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔۔اسی حوالے سے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ زیادتی کے ملزم کے لیے سرعام پھانسی کی تجویز ہے۔

 

 

پھانسی کی سزا پر اتفاق نہ ہوا تو نامرد ہر صورت بنانے کی سزا رکھی گئی ہے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ مجرم کو نامرد بنانے کی سزا کا بل ہر صورت پاس کرائیں گے۔وفاقی وزراء اور وکلاء سے مشاورت جاری ہے۔ڈرافٹ پر تجاویز لے رہے ہیں۔متاثرہ خاتون کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔ظاہر کرنے والے افسر کو سخت تجویز کی جائے گی۔

 

 

 

 

نامرد بنانے کے بعد جیل میں رکھنے یا چھوڑ دینا ہے اس پر مشاورت جاری ہے۔حکومت نے اس حوالے سے بل لانے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے خواتین اور بچوں سے زیادتی کے کیسز میں سخت سزا دینے سے متعلق قانون کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔