صحرا کے پھول کی تقریب رونمائی اور مصنف کی پذیرائی ( حسب منشا ) تحریر : منشاقاضی

Desert Flower Unveiling and Author's Reception Written by Mansha Qazi

65

لفظوں کی فسوں ساز قندیلوں کے بطون سے جنم لینے والے خیالات کو کون گل و لالہ کا پیرھن عطا کرتا ھے جس صحراؤں میں بھی بہار آ جاتی ھے صحرا کے پھول نے مشام جاں کو معطر کر کے فضاؤں کو مشکبار ماحول میں بدل دیا ھے

Desert Flower Unveiling and Author’s Reception
Written by Mansha Qazi

اس میں کمال کس باکمال ھنر مند کا ھے ، پھول کا مصنف کا یا صحرا کا ، تاریخ میں میں نے جتنے عظیم المرتبت ھستیوں کے بارے میں پڑھا ھے وہ مصائب و آلام کی گود میں پلتے ھیں ، بیابانوں میں ابلے لے کر چلتے ھیں اور اپنے ھاتھ سے باغبانی کی بنیاد رکھ دیتے ھیں ،

 

یہ ساری وضاحتیں ، حکائتیں اور شکائتیں آپ کو صحرا کے پھول کی ورق گردانی سے ملیں گی اور اس کے مصنف کی جو پذیرائی صحرا کے پھول کی پرشکوہ تقریب رونمائی میں ھوئی ھے

Desert Flower Unveiling and Author’s Reception
Written by Mansha Qazi

وہ باید و شاید ھی ایسا ھوا ھو وکلا برادری کا خراج تحسین میرے نزدیک ایک ایسا یقین ھے جو ھمیشہ صدیق پیدا کرتا ھے

دلائل و براہین سے آراستہ قدیم ھتیار اس وقت بھی صرف وکلا ھی کے آج بھی مستعمل ھیں جو صبح قیامت تک متروک نہیں ھوں گے ،

 

خاور سلیم آذر ایک خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ھیں اور انتہائی خوشبخت ھیں کہ انہیں اپنے بچپن کے دوستوں نے نہ صرف پذیرائی دی بلکہ مسیحائی بھی کی ،

 

کراچی شہدا ھال لاھور ھائی کورٹ میں دیپالپور لائرز فورم کے زیر اھتمام پرشکوہ تقریب میں وکلا کی کثیر تعداد نے کھل کر مصنف کی کتاب کو پسند کیا اور پسندیدگی کا اظہار کیا

 

اور مصنف کے رفقاء کو بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ، صحرا کے پھول میں آپ کو ھر رنگ کا پھول اور ھر پھول کی خوشبو جدا جدا محسوس ھو گی ،

 

لفظوں کی سچائی کا ادراک طویل عرصے کے بعد ھوتا ھے اور جن کو ھوتا ھے ان پر الللہ تعالیٰ کا انعام ھے اور یہ الللہ تعالیٰ کی نوازش ھے

Desert Flower Unveiling and Author’s Reception
Written by Mansha Qazi

صحرا کے پھول پر اظہار خیال کرتے ہوئے ممتاز قانون دان میاں صبح صادق کلاسن نے کہا کہ مصنف سے میرا تعلق بچپن سے ھے

 

اور میں ان کی تمام خوبیوں سے آگاہ تھا مگر میری نگاہ خاور سلیم آذر کی اس خوبی سے کیوں اوجھل رھی اس پر مجھے حیرت بھی ھے اور تحیر انگیز کیفیت بھی کہ ھمارا دوست وکیل ، ادیب ،شاعر اور مصنف کے علاوہ جادو اثر مقرر بھی ھے

 

ھے آج ھم سب دوست اپنے ھمدم دیرینہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرحاں ھیں ، شاداں ھیں اور ھمارے دل کی دھڑکنیں رقصاں ھیں ، ھم خوش کیوں نہ ھوں آذر نے ھماری دھرتی کی آبرو میں اضافہ کیا ھے

 

اور صحرا کے پھول کی خوشبو سے آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب وسیراب کیا ھے ،

 

مصنف کے وکلا احباب کو حیرت انگیز اور تحیر انگیز کیفیت سے گذرنا پڑا جب ان کے ھاتھ میں دیدہ زیب کتاب جس کی اشاعت کے عقب میں محمد ذکی بصارت اور عارف صاحب کی فراست کارفرما تھی

 

، مصنف کے ساتھ ساتھ بپلشر کو بھی خوش نظری اور احترام کا حقیقی سزاوار قرار دیتا ھوں جن کی کاوش الللہ کی نوازش ھے ،

Desert Flower Unveiling and Author's Reception Written by Mansha Qazi
Desert Flower Unveiling and Author’s Reception
Written by Mansha Qazi

صحرا کے پھول کی خوشبو نے پورے ماحول کو معطر کر دیا ، صحرا کے پھول کے مصنف نے ایک ایک لفظ میں کہانی اور کہانی کے بین السطور میں بلبل ھزار داستان رقم کر دی ھے ،

 

دیپالپور لائرز فورم کے ھر رکن پر ایک ایک کالم میرے قلم پر قرض ھے جسے بہت جلد ادا کروں گا ،

 

ممتاز سماجی سائنسدان جناب مشتاق احمد بھٹی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ زرعی سائنسدان جناب حافظ وصی محمد خان کے علاوہ پاک آسٹریلیا فرینڈز شپ کے صدر جناب ارشد نسیم بٹ نے صحرا کے پھول کے مصنف کو اتنی اچھی تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ھے ،

 

دیپالپور لائرز فورم کا حسن انتظام اور حفظ مراتب کا خیال میں تازیست فراموش نہیں کروں گا ،

 

صحرا کے پھول کی تقریب رونمائی اور مصنف کی پذیرائی ( حسب منشا ) تحریر : منشاقاضی
Desert Flower Unveiling and Author’s Reception
Written by Mansha Qazi