سموگ کے باعث لاہور سمیت بیشتر شہروں میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا عندیہ دے دیا گیا

سموگ سے فضائی آلودگی کا تناسب 300 سے تجاوز کرنے پر تعلیمی ادارے بند کر دیئے جائیں، ٹیکنیکل سب ورکنگ گروپ برائے انسداد کرونا کی تجویز

24

حکومت پنجاب نے لاہور میں سموگ کے باعث تعلیمی ادارے بند کرنے کا عندیہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کے ٹیکنیکل سب ورکنگ گروپ برائے انسداد کرونا نے تجویز پیش کی ہے

 

 

کہ سموگ سے فضائی آلودگی کا تناسب 300 سے تجاوز کرنے پر تعلیمی ادارے بند کر دیئے جائیں ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم اے میں بنائے گئے ٹیکنکل سب ورکنگ گروپ نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں سموگ کے باعث فضائی آلودگی کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔

 

میڈیا ذرائع کے مطابق ٹیکنکل سب ورکنگ گروپ نے شہر میں سموگ سے فضائی آلودگی کا تناسب 300 سے تجاوز کرنے پر تعلیمی ادارے بند کرنے کا کہا ہے۔ٹیکنکل سب ورکنگ گروپ نے حکومت کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ شہر میں مارکیٹس، بازار سات بجے بند کردیئےجائیں جبکہ شادی ہالز 9 بجے سے پہلے بند کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

 

میڈیا ذرائع کے مطابق شہر میں سموگ سے فضائی آلودگی کا تناسب دن بدن بڑھنے پر پی ڈی ایم اے کے ٹیکنکل سب ورکنگ گروپ نے یہ تجاویز پیش کیں ہیں۔

 

آئندہ تین روز میں سموگ سے فضائی تناسب کا جائزہ لے کر مزید حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ کی محکمہ ماحولیات کے ساتھ مل کر اینٹی سموگ کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک کا کہنا تھا

 

کہ سگیاں روڈ محمود بوٹی واہگہ ٹاؤن میں کارروائیاں کی گئیں۔ دو مزید فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میاں راحیل پائیرولائیزز پلانٹ اور نعیم مغل ماشاءاللہ سٹیل مل کو سیل کر دیا گیا،

 

دونوں فیکٹریوں میں غیر قانونی طور پر فیول جلایا جا رہا تھا۔ تمام فیول کو ضبط کرکے ایف آئی آر کا اندراج کروا دیا گیا ہے۔ یاد رہے

 

کہ حکومت نے پہلے ہی کرونا کی دوسری لہر کے اندیشے کے پیش نظر کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کا حکم دے رکھا ہے۔