ہر پانچ میں سے چار پاکستانیوں نے ملکی سمت کو غلط قرا ر دے دیا

ستمبر 2020 میں کیے جانیوالے سروے میں ملک بھر سے 1 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا

22

ہر پانچ میں سے چار پاکستانیوں نے ملکی سمت کو غلط قرا ر دے دیا ہے۔ریسرچ کمپنی آئی پی ایس او ایس پاکستان کی جانب سے گزشتہ ماہ کیے گئے سروے کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے،

ستمبر 2020 میں کیے جانیوالے اس سروے میں ملک بھر سے 1 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔سروے کے مطابق موجودہ ملکی حالات پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے والوں کی شرح 69 فیصد ، اطمینان کا اظہار کرنے والوں کی شرح 31 فیصد نظر آئی۔

رپورٹ میں معیشت پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کی شرح 74 فیصد ، اطمینان کا اظہار کرنے والوں کی شرح 21 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہو گئی۔آئی پی ایس او ایس کے سروے کے مطابق ملکی معیشت پر بھی عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکا اور 20 میں سے صرف ایک پاکستانی یعنی 6 فیصد نے ملکی معیشت کو مظبوط کہا، 41 فیصد نے موجودہ معیشت کو کمزور کہا ، 53 فیصدافراد نے نہ کمزور نہ مظبوط کہا۔

سروے کے مطابق ہر 5 میں سے 4 پاکستانی یعنی 56 فیصد نے آئندہ 6 ماہ میں ملکی معیشت مزید خراب ہونے کا کہا ، 21 فیصد نے مستقبل میں معیشت بہتر ہونے کی امید ظاہر کی۔عوامی سروے کے مطابق 79 فیصد افراد نے خیال ظاہر کیا کہ ملک غلط سمت کی جانب بڑھ رہا ہے ، صرف 21 فیصد افراد نے کہا

کہ ملک کی سمت درست ہے۔آئی پی ایس او ایس کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت معاشی معاملات پر سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کرتے نظر آئے، جس میں مہنگائی پر 36 فیصد افراد نے سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا، یہ شرح گزشتہ سروے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔