روشنیوں کے شہر میں پانی کے ڈیرے عظمیٰ ظفر، کراچی

33

عروس البلاد تھا میرا شہر
یہ کس نے پانی میں بہا ڈالا

بہتے پانیوں میں ڈوبتی گاڑیاں، تیرتے کچرے، غلاضت کا منظر، مٹی کے تودے، ٹوٹی سڑکیں، قبرستانوں میں بہتی قبریں یہ سارے مناظر دیکھ دیکھ کر دل و دماغ میں طوفان سا اٹھ رہا ہے کہ کراچی کی عوام کا قصور کیا ہے۔ سننے میں آیا کہ دوسرے شہر والے اب کراچی کا مذاق اڑا رہے ہیں. جس کراچی کے لوگوں نے ہر مشکل وقت میں دوسرے شہروں کا ساتھ دیا اس کے لیے کوئی دوسرا صوبہ آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔

 

کوئی تو بے حس حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگائے مگر کون؟ ٹک ٹاک اور گیم شو سے نکلیں گے تو کچھ اور سوچیں گے۔بے چارے رضا کار ڈوبے گھروں کے مقیموں کو کب تک صرف راشن دیں گے؟ وہ رفع حاجت کو کہاں جائیں؟ کپڑے لتوں کا کیا کریں؟ چھتوں پر کب تک بھیگتے رہیں گے؟ اوپر سے تشویشناک خبر پھیلا دی گئی کہ منگھو پیر کے مگر مچھ غائب ہیں۔ نیو کراچی سرجانی کے لوگ خوف سے ہی مرجائیں گے۔

 

یہ تحریر بھی پڑھیں: گھر کیوں اجڑتے ہیں تحریر: عرفان اقبال جتوئی

 

درختوں کو کاٹ کاٹ کر زمینوں کو کمزور کیا گیا۔ بوند بوند ترستے پانی کی خاطر پائپ لائنوں کو کاٹا گیا۔ سڑکوں کو چھلنی کیا گیا، نالوں میں بجری اور سیمنٹ کے بورے ڈالے گئے۔ راتوں رات اچھی بھلی سڑک بیٹھ جاتی تھی، ناجائز تجاوزات کی من مانی نے سڑکوں کا الگ حشر کیا۔ کوئی ایک درد نہیں جس کو رویا جائے۔ اس نہج پر میرے شہر کو لایا گیا ہے، یہ سب کچھ خود سے نہیں ہوا۔

 

بارانِ رحمت تو کراچی والوں کے لیے زحمت بنا دی گئی ہے۔ منٹوں کا سفر اب کئی گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔ روزی کی خاطر گھر سے باہر نکلنے والے جب تک واپس نہیں آتے، دل حلق میں آتا ہے۔ اب لاک ڈاون کیوں نہیں کرتے؟ کم ازکم گھروں میں بند ہوجائیں۔ اب کرونا سے کوئی نہیں مرے گا سب بارش میں اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے۔ دعا کیجیے کراچی سلامت رہے ورنہ آپ بھی بھوکے مریں گے۔