یوم دفاع پاکستان پر شہدا کی عظمت کو سلام تحریر: راشد علی

اے مادر وطن تو نے جب بھی پکارا، تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آئے

106

شہید زمین کا وہ روشن ستارہ ہے جو اپنے لہوسے کائنات کے ذرے ذرے حسن ورعنائی اورزندگی بخشتا ہے رزم گاہ ہستی میں اپنے لہو سے ایسے دیپ جلاتا ہے جس کی بدولت ہزاروں چراغ جل اٹھتے ہیں چاہے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والا قاضی ہو یا انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر تاریخی فیصلہ لکھنے والا جج،یا صادق وآمین کا مصداق امیر کارواں ہو یا سچائی،محبت اورخدائے احد کی تعلیم دینے والا عالم،حق لکھنے اورکہنے کی خاطر اپنی زبان کٹانے والا مبلغ ہو،یا میدان جنگ میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حقائق نشر کرنے والا صحافی ہو،یا صداقت،شجاعت اورامانت کا سبق پڑھانے والا استاد،یاامن و امان کیلئے جان دینے والا پو لیس کا سپاہی ہو یا ایمان و تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ کا منشور لیکر سرحدوں پر پہرہ دینے والا مجاہد،قبیلے کی آنکھ کا تارا ہیں.

یہ لوگ جو قوم کی خوابوں کی تعبیر بن کر جام شہادت نوش کرتے ہیں، اس لئے کہ شہادت نام ہے۔ زندگی کا عقائد کی نگہبانی کا، نظریات کے تحفظ کا، آنکھوں کی چمک اور قوم کی حیات کایہ جو تازگی ہے فضاؤں میں یہ جو روشنی کا حصار ہے ہے یہیں کہیں اسی خاک میں وہ جو قوم کی حیات ہے شہید کا مرتبہ بہت بلند ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایاہے ”جو لوگ ایمان لائے،ہجرت کی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا،وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبے والے اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں‘ انہیں انکارب خوشخبر ی دیتاہے،اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی،ان کے لیے وہاں دوامی نعمت ہے،وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں،اللہ کے پاس یقینا بہت بڑے ثواب ہیں۔“ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کے راستے میں ایک دن سرحدی محاذ پر پہرہ دینا‘دنیا اور جو کچھ اس پر ہے‘ سے بہتر ہے اور جنت میں تمہارے کسی ایک کے کوڑے جتنی جگہ کامل جانا دنیا اور جو کچھ اس پر ہے،سے بہترہے،اور اللہ کے راستے میں ایک شام یاایک صبح کو چلنا دنیا اور جوکچھ اس پر ہے‘سے بہتر ہے۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا‘سرحد پرایک رات اور دن کو پہرہ دینا‘ایک مہینے کے روزے رکھنے اور اس کی شب بیدار ی سے بہتر ہے،اور اس حال میں موت آگئی تو اس کا وہ نیک عمل جاری رہے گا، جو وہ کرتاتھا، اور اسکی روزی جاری رہے گی،اور وہ آزمائش میں ڈالنے والے سے محفوظ رہے گا۔شہید کا رتبہ بہت بلندہے افواج پاکستان ارضِ پاک پر امن قائم کرنے کے لیے دہشت گردوں اور خارجیوں کے خلاف جہاد کررہی ہے ارضِ پاک کے چپے چپے سے دشمنانِ پاکستان کا صفایا کررہی ہے پاک فوج کے نوجوانوں نے خو کود ملک کی سلامتی کے لیے وقف کررکھا ہے،یہ قوم کے عظیم سپوت اس شعر کے حقیقی مصداق ہیں:

اے مادر وطن تو نے جب بھی پکارا، تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آئے
پاک افواج کے جوانمرد سپاہی روزانہ وطن عزیز کے اندر اورسرحدوں پر اپنی جانیں نچھاور کررہے ہیں یہ ہی ہمارے حقیقی ہیرو ہیں،یہ ہی ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں،یہ ہی ہماری اصلی طاقت ہیں، ہمیں ان سے پیار ہے،یہ ہمارا فخر ہیں یہ ہی سرخروہوں گے دہشت گرد انسانیت اورامن کے دشمن شکست خوردہ ناکام ونامراد ہونگے،ہمیں شہید ہونے والے پولیس اورافواج پاکستان کے عظیم ستاروں پر فخر ہے جنہوں نے اپنی جانیں ارضِ پاک کی حفاظت کے لیے قربان کردی،اورلیے ان کی قربانیوں میں سبق موجود ہے؟
پاکستانی قوم نے محبت کے انمٹ نقوش ہمیشہ چھوڑے ہیں افواج پاکستان کا دہشت گردوں کے خلاف اعلان جنگ اورقوم کا عزم اتنامضبوط تھا جسے ہمارے دشمن کمزور نہ کرسکے تمام حربے اندازے طریقے اورچالیں ناکام ہوئیں کیوں نہ ناکام ہوتیں ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہے ہم سب کی ہے پہچان ہم سب کا پاکستان۔

شہید تم سے یہ کہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا
قسم ہے تم کو اے سرفروشو عدو ہمارا بھلا نہ دینا
وضوہم اپنے لہو سے کر کے خدا کے ہاں سرخرو ہیں ٹھرے
ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

اوربھلایا نہیں ہے چن چن کر بدلہ چکایا ہے ابھی کام ختم نہیں ہوا بہت ساباقی ہے۔آئیے مل کر دہشت گردوں کا قلع قمع کریں اپنی صفوں میں یکجہتی پیداکریں،قدم بہ قدم ایک ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر اگے بڑھیں اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دشمن کے لیے ایساطوفان ثابت ہوں گے کہ اس کے تمام ارادے تنکوں کی طرح پانی کی نذر ہوجائیں گے بقول شاعر:

ہیں ضبطِ باہمی سے قائم نظارے سارے
یہ نکتہ ہے نمایاں تاروں کی طرح سے

آئیے ہم سب مل کر اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور اس قوم کے منقسم شرازے کو سمیٹنے کی کوشش کریں اگر ہم ایسا کرلیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے شہیدوں کے خون کے ساتھ وفا کی ہے یہ بھی یاد رہے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا انشاء اللہ پاکستان عالم دنیا اوربالخصوص عالم اسلام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے زینہ ثابت ہوگا۔

شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔
لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکوٰت ہے۔

آئیے عزم کریں کہ ہم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ملک کی ترقی وخوشحالی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔آئیے عزم کریں ہم شہیدوں کے لہوکی پاسداری کرتے ہوئے دشمن کے ہر ارادے کو ناکام بنائیں گے۔آئیے عزم کریں ہم پاکستان کو سرسبز بنائیں گے۔تمام سرفرشوں کو سلام تمام شہداء کو سلام۔سلام ان ماؤں کو جنہوں نے اپنے جگرگوشے وطن عزیز کے دفاع کے لیے پیش کیے۔سلام ان گمنام سپوتوں کو جنہوں مادرِملت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔سلام ان بیٹیوں پر جنہوں اپنے سرتاج قربان کیے۔

سلام ان زعماء پر جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں مگر دشمن سے کبھی سمجھوتانہیں کیا۔سلام ان اہل مکتب معصوم طلباء پر جو گھر سے علم کی شمع روشن کرنے کے لیے نکلے اوردشمن کی بھینٹ چڑھ گئے۔پاکستانی قوم کے مجموعی صبرواستقامت کوسلام،سلام افواج پاکستان کو اورسلام پاکستان۔