صحت ، سہولت اور ضرورت پروگرام ۔۔۔ منشاقاضی

Health, Convenience and Needs Program: Mansha Qazi

57

صحت ، سہولت اور ضرورت پروگرام ۔۔۔ منشاقاضی ،، اگر آپ محتاجی سے بچنا چاھتے ھیں تو اپنی صحت کا خیال رکھیں ایک صحت مند آدمی کبھی محتاج نہیں ھو سکتا ،

 

میں ان لوگوں کو ھمیشہ آداب بجا لاتا ھوں جو ھزاروں میل دور رہ کر بھی اپنے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کی شمع روشن رکھے ھوئے ھیں

 

ایسے ھی لوگوں کو میں اھل دل میں شمار کرتا ھوں ، احساس کے یہ رشتے خونی رشتوں پر فوقیت کیوں رکھتے ھیں اس لئیے کہ ان کی سوچ کے بطن سے مثبت خیالات جنم لیتے ہیں آفتاب و مہتاب لوگ فانی زندگی کو ابدی حقیقتوں سے آشنا کر دیتے ھیں ، انسانی جسم کا صرف ایک ھی عضو قلب ھے جو لاکھوں میل دور کے فاصلے طے کر لیتا ھے

 

اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے دلوں کواپنی شفیق و روشن کرنوں سے منور کرتا ھے ان اوصاف حمیدہ سے متصف ایسے ھی عبقری شخصیات کے انمول موتیوں کی مالا گزشتہ روز میں نے optv امریکہ کی سکرین پر دیکھی اور گفتگو کی جستجو میں آرزو جاگ اٹھی کہ کیوں نہ ایسی عبقری شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے

 

سوشل میڈیا اور اخبارات و جرائد میں ان کے خیالات کا تذکرہ کروں جو ھزاروں میل دور رہ کر بھی ھمارے دلوں کو چھو رھے ھیں اور ان کی حقیقی خوبصورتی جہاں سے وہ پھوٹ رھی ھے

 

وہ دل ھے اگر دل سیاہ ھے تو چشم سیاہ کچھ کام نہیں دیتی ، سمندر پار پاکستانیوں کے دلوں کی خوبصورتی ان کی وطن عزیز کی عوام کی خوشحالی اور صحت کے شعبوں میں محتاطی تدابیر کے ذریعے سے حیرت انگیز انقلابی تبدیلی پر محو گفتار تھے

 

اور اسی رفتار آن لائن اس سیمینار کے محرک و مہتمم چیف آرگنائزر وقار علی خان کے دل کی دھڑکنیں مہمانان ذی حشم کے دلوں کے ساتھ دھڑک رھی تھیں

 

نیویارک میں مقیم فہیم و متین قونصلیٹ جنرل عائیشہ علی کا کلیدی خطاب کیا تھا ? پورے سیمنار کے اغراض و مقاصد اور اہداف کا خلاصہ اور فلاحی ریاست مدینہ کا تصور حیات نو تھا محترمہ عائشہ علی کی گفتگو کی جستجو میں پاکستان کے لاکھوں کان عائشہ علی کی بولنے والی زبان کے محتاج تھے

 

اور وہ ھمہ تن گوش تھے اور تقریر کا ھر لفظ موصوفہ کے دل کی آواز تھی ، اعتدال و توازن برقرار قائم نہ رکھنے والی قومیں اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھتی ہیں اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں میں صحت کے حوالے سے جو اندیشے اور خدشے پائے جاتے ان کے تدارک کے لیے عائشہ علی کی تجاویز کو بہت سراھا جا رھا ھے تعلیم ، صحت کے شعبوں میں محتاطی تدابیر اختیار کر کے حیرت انگیز انقلابی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ھے

،

عائشہ علی نے کورونا کا رونا روئے بغیر پورے ثبات قلب کے ساتھ پورے وثوق سے صحت کے شعبوں میں محتاطی تدابیر اختیار کر کے حیرت انگیز فوائد حاصل ھو سکتے ھیں ملیریا ، پولیو اور بخار پر قابو پایا جا سکتا ھے عائشہ علی کی تقریر میں صحت کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو سہولت اور ضرورت کے اسباب وزیراعظم تقسیم کر رھے ھیں جس کے نتائج بھی مثبت برآمد ہوئے ہیں

 

تعلیم ، صحت ، روزگار اور خود انحصاری کے جذبات و احساسات سے سرشار عائشہ علی کی تقریر کی تاثیر میں ڈوبی ھوئی نوید دے رھی تھی اور اب ھم آنے والے مسیحاؤں کی زبان سے سننے کے لئیے پاکستانی قوم بیتاب تھی ، عائشہ علی نے صحت کے شعبے میں پولیو ، ملیریا ، فالج اور بیماریوں کی ماں بے روزگاری کا علاج تجویز کیا ، بہرحال بات یہ ھے کہ ، جو تجھ سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں

 

، وہ علاج گردش لیل ونہار رکھتے ھیں ، ڈاکٹر ناھید عثمانی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو صحت کے شعبوں میں کام کرنے کی زیادہ ضرورت ھے عبادت کی عبادت اور خدمت کی خدمت ، ڈاکٹر اعجاز احمد ایک نامور ماھر امراضِ قلب ھیں جن کے ھاتھوں کی لکیروں میں شفا اور دوا ھے

 

، ڈاکٹر ناھید عثمانی کے بصیرت افروز خیالات کا چشمہ فلک نیلی فام سے پھوٹتا ھے اور سیدھا دل میں اتر جاتا ھے ، ڈاکٹر ناھید عثمانی کی طبع کی روانی اور جولانی دریائے صحت کی شناوری کا ایک بہت بڑا قیمتی تجربہ ھے محترمہ ناھید عثمانی ڈاکٹروں کی معروف تنظیم AppNA کی سربراہ کی حیثیت سے دورس نگاہ رکھتی ھیں ،

 

ڈاکٹر ناھید عثمانی کی نفیس شخصیت کا اعجاز مسعود ماحول میں آسودگی تخلیق کر رھا تھا ، ڈاکٹر سہیل مسعود کی فکری رعنائیوں کے چراغ روشن تھے اور آپ کے تجربات پوری انسانیت کے لیئے یونیورسٹی کی حیثیت رکھتے ھیں ، جناب شاھد خان کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ھے

 

امریکہ میں مقیم ڈاکٹروں کی تنظیم APPNA کی سربراہ محترمہ ڈاکٹر ناھید عثمانی نے پاکستان میں صحت کے شعبے میں بھر پور اپنا کردار ادا کرنے کا بلیغ اشارہ دیا

 

اور انہوں نے اس سیمنار کے انعقاد پر منتظمین کے حسن انتظام کی بہت تعریف کی اور اس موقع پر قونصلیٹ جنرل عائشہ علی نے بھر پور طریقے پاکستان کی نمائندگی کی اور پاکستان میں صحت کے حوالے سے ھونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی اور منتظمین کی کاوش کو بہت سراھا

 

یہاں معروف ادویات کی صنعت کے مندوبین نے پاکستان میں ھیلتھ کئر میں اپنے حصے کی شمع جلانے کا بھی عندیہ دیا اور سب شرکاء نے آخر میں وقار علی خان کی خدمات کی تعریف کی جنہوں نے اپنا سرمایہ اور وقت وقف کر دیا ، عادل انجم نے عقیدتوں کے تاج محل تعمیر کرنے کی بجائے حقائق کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانوں کو بھی بیان کیا ۔۔۔

 

ڈاکٹر ثنا خان کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ھے الللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ، ڈاکٹر ناصر قریشی کی فیاضی سے پاکستان کو مستفیض ھونا چاھیئے ،

 

ڈاکٹر عادل نجم کی مجموعی کارکردگی کا حسن بھی چاند کو شرما رھا تھا ، ڈاکٹر عامر احسان کا احساس زندہ ھے اور ڈاکٹر عامر کے اس بھاری احسان سے ملت پاکستانیہ کو فیض حاصل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاھئے ، آپ نے صحت سہولت اور ضرورت پروگرام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ،ڈاکٹر عاصمہ قیوم کی تقریر کا مفہوم فلک نجوم کی تابانی سے زیادہ تاباں تھا ،

 

جناب ندیم سلیم کی عقل سلیم آپ کے ثبات قلب و نظر کی رھین منت ھے ، آپ نے تجربات کا نچوڑ پیش کیا اور بڑی کامیاب، شاندار اور مؤثر ترین ابلاغ کی ضرورت پر زوردیا ، جناب وقار علی خان کی قیادت میں قافلہ ء نو بہار اپنی منزل مراد تک پہنچ کر دم لے گا

 

اور دنیا جان لے گی کہ خوشحال معاشرے کے افق پر صحت افزا آفتاب کیونکر طلوع ھوتا ھے ، ثوبیہ علی اور جمال خوجہ معاونین میزبانوں کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ھے جن کی کاوش الللہ کی نوازش اور وقار خان کی قیادت کا کھلا اظہارِ تشکر تھا ، تصاویر کے ساتھ حسب منشا یو ٹیوب چینل لاھور سے نشر ھو گی