جدید اردو غزل کے وارث۔۔۔۔عباس تابش تحریر–: لقمان اسد

Heirs of modern Urdu ghazal ... Abbas Tabish Written by Luqman Asad

33

اردو زبان و ادب کے بہت سے دیگر طالب علموں کی طرح اردو زبان کے ممتاز شاعر عباس تابش سے میری شناسائی کا سبب بھی ان کا یہ شہرہ آفاق شعر ہے۔

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

عباس تابش نے 1975؁ء میں پندرہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیے اور تبھی ان کی پہلی غزل روزنامہ "آفتاب” ملتان میں شائع ہوئی لیکن یہ خوبصورت شعر عباس تابش نے1985؁ء میں کہا۔یہ شعر کہتے ہی وہ شہرت کے بامِ عروج پر جا پہنچے۔دنیا کی کسی بھی زبان کا نثری ادب ہو یا شعری "ماں ” ہر زبان کے ادیب شاعر اور لکھاری کا محبوب ترین موضوع رہا ہے۔

 

کوئی بھی تخلیق کار جب تک ماں کی عظمت کو موضوع ِ سخن نہیں بناتا،اور اس انمول ہستی کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کرتا وہ اپنی لکھت سے مطمئن نہیں ہو پاتا۔

 

عباس تابش نے جس بے نظیر انداز میں ماں کی عظمت کو اپنے شعری پیرائے میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے،بلاشبہ وہ اپنی مثال آپ ہے۔

 

ماں جیسی عظیم المرتبت ہستی کی بے ریا محبتوں،رفعتوں اور پاکیزہ جذبوں کی سچی روداد کو اپنے اندر سموئے ہوئے عباس تابش کے اس شعر کا مرتبہ بھی گویا وہی ہے جو مومن خان مومن کے اس شعر کا ہے۔

 

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 

گو معنی و مفہوم اور اپنی ہیئت کے اعتبار سے مذکورہ دونوں اشعار جتنے بھی مختلف ہوں،لیکن دونوں اشعار کا فکری اور شعری مقام بہت بلند و بالا ہے۔

 

جدید اردو غزل کے وارث عباس تابش کا اصل نام غلام عباس ہے۔ان کا تعلق راجپوت بھٹی گھرانے سے ہے۔عباس تابش کے آباؤاجداد شجاع آباد کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد میلسی منتقل ہو گئے۔

 

عبا س تابش 15جون1961؁ء کو میلسی،ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کی۔1977؁ء میں میلسی سے میٹرک کیا،اور میٹرک کرنے کے بعد مختلف علاقائی اخبارات کیلئے کام کرنے لگے۔ایف اے پرائیوٹ طور پر 1981؁ء میں کیا۔

 

ایف اے کرنے کے بعد لاہور آ گئے اور روزنامہ جنگ جوائن کر لیا۔رونامہ جنگ میں ملازمت کے دوران ہی انھوں نے 1984؁ء میں بی اے کیا جبکہ 1986؁ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کرنے کے بعد بطور لیکچرار اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔مختلف کالجز میں تدریسی خدمات انجام دیں۔

 

اب گورنمنٹ کالج گلبرگ لاہور کے شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔عباس تابش زمانہ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج لاہور کے رسالہ ” راوی ” کے ایڈیٹررہے۔ان کے خاندان کے زیادہ تر لوگ تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ان کے والد علم و ادب سے والہانہ لگاؤ رکھتے تھے۔ اس لیے انھیں ابتدائی طور پر گھر میں ہی تاریخی وعلمی کتب بینی کا بھرپور ماحول میسررہا۔

 

بچپن میں ہی انھیں ” بانگِ درا” یاد کرائی گئی لیکن عباس تابشؔکی شاعری کی ابتداء ایک عجیب واقعہ سے ہوتی ہے۔ وہ جب نویں جماعت کے طالب علم تھے تو ایک رات وہ اپنے گھر میں نصابی مطالعہ میں مصروف تھے اور انھیں باہر سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔ وہ جب اِن آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے گھر کے قریب ایک باغ جسے ٹاؤن کمیٹی کہتے ہیں وہاں پہنچے تو دیکھاکہ ایک صاحب کچھ سنا رہے ہیں اور باقی مجمع واہ،واہ کر رہا ہے۔

 

عباس تابشؔ کو یہ منظر کچھ عجیب سا محسوس ہوا،کیونکہ یہ ان کیلئے ایک نئی بات تھی۔ گھر واپس آ کر انھوں نے سوچا کہ یہ کام تو وہ بھی کر سکتے ہیں۔بس اُسی رات انھوں نے کچھ لکھا اور ان کی شاعری کی ابتداء یہیں سے ہوتی ہے۔عباس تابش کے بقول،اس رات جو صاحب اپنی شاعری سُنا رہے تھے

 

انھیں خبر نہ تھی کہ شاعری میں ان کے پہلے استاد یہی شخصیت ہونگے۔یہ شاعر تھے میلسی سے تعلق رکھنے والے نذیر اذفر۔

 

عباس تابشؔ نے سب سے پہلے شعری اصلاح نذیر اذفرؔ سے لی جبکہ لاہور آنے کے بعد ممتاز شاعر خالد احمد سے وہ اصلاح لیتے رہے اور ان کا پہلا شعری مجموعہ”تمہید” جو 1982 ؁ء میں منظر ِ عام پر آیااسے بھی خالد احمد نے شائع کیا۔

 

عباس تابش کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تخلیقی سفر اور شعری شناخت کو اپنے اس بے مثال شعر تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ایک تسلسل کے ساتھ اچھے شعر کہہ رہے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے نہ صرف اردو شاعری کے میدان میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ ان کی وسیع فکر اورپختہ تخلیق کا رنگ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔

 

اپنی مٹی کا گنہگار نہیں ہو سکتا
تلخ ہو سکتا ہوں غدار نہیں ہو سکتا
میں نے پوچھا تھا کہ اظہار نہیں ہو سکتا
دل پکارا کہ خبردار نہیں ہو سکتا

جس سے پوچھیں تیرے بارے میں یہی کہتا ہے

خوبصورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا
اک محبت تو کئی بار ہو سکتی ہے
ایک ہی شخص کئی بار نہیں ہو سکتا
ویسے تو عشق کا ہوناہی بہت مشکل ہے
ہو بھی جائے تو لگاتار نہیں ہو سکتا
اس لیے چاہتا ہوں تیری پلک پر ہونا
میں کہیں اور نمودار نہیں ہو سکتا

عباس تابش کی مشقِ سخن کا محور و مرکز غزل ہے۔وہ جدید اردو غزل کے بے تاج بادشاہ ہیں۔بلاشبہ جب کبھی اردوشاعری کی تاریخ مرتب ہو گی تو عباس تابش کی غزل کو ایک معتبر اور مستند حوالہ کے طور پر اس میں شمار کیا جائے گا۔

 

عباس تابش کی غزل کے مختلف رنگ اور روپ ہیں لیکن ان کی غزل میں بڑی خوبی اور حسن یہ ہوتا ہے کہ ان کی ہر رنگ میں کہی گئی غزل دل پہ اثر کرتی ہے۔شعری موضوعات پر انھیں دسترس حاصل ہے وہ اپنے شعری پیرائے میں الفاظ کا چناؤ اس عمدگی اور خوبصورتی کے ساتھ کرتے ہیں

 

کہ سادہ سے سادہ لفظ بھی ان کے شعروں میں جب ڈھلتے ہیں تو ان الفاظ کی چاشنی،کشش اور لطافت کا معیا ر بہت بلند محسوس ہوتا ہے۔وہ ایک ایسے سنجیدہ فکر تخلیق کار ہیں جن کی تخلیقات میں علم،عمل اور انسانی سر بلندی کا تذکرہ نمایاں اندا ز میں ملتا ہے۔انھوں نے اس عہد میں اردو غزل کی روایت اور آبرو کو جلا بخشی ہے۔

 

میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے
یہ پرندے مجھے پاگل نہیں ہونے دیں گے
تو خدا ہونے کی کوشش تو کرے گا لیکن

ہم تجھے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے
یار! اک بار پرندوں کو حکومت دے دو
یہ کسی شہر کو مقفل نہیں ہونے دیں گے
یہ جو چہرہ ہیں یہاں چاند سے چہرہ تابش
یہ مرا عشق مکمل نہیں ہونے دے گے

شہرہ آفاق شاعر ” افتخار عارف” عباس تابش کی شاعری کے بارے میں رقمطراز ہیں :

 

” عباس تابش اردو غزل کی روایت کو ثروت مند بنانے والی نسل کے میرے نزدیک سب سے نمایاں شاعر ہیں۔ایک مکمل شاعر جو غزل کی کلاسیکی روایت کے دائروں میں رہتے ہوئے مضمونِ تازہ کی نئی راہیں نکالتا ہے اور غزل بہ غزل اور کتاب بہ کتاب بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔عباس تابش اپنی نسل کے مقبول ترین شاعروں میں سے ہیں "۔

 

میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں
اس لیے اب میں کسی کو نہیں جانے دیتا
جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو
رفتگاں خواب میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں
شادیِ مرگ کا ماحول بنا رہتا ہے
آپ آتے ہیں رُلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہم نے
ہم تو بس یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے یہاں
آپ تو آگ لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں

 

عباس تابش کی شاعری اس عہد کا وہ سچ ہے جس کی آواز اور گونج ہر سمت سنائی دیتی ہے۔وہ زندگی کے ہر احساس کو کھل کر اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔

 

ان کی شعری ریاضت،تخلیقی فکر،شعر و سخن کے فن کا تسلسل اور روز افزوں ان کی مقبولیت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ شاعری ہی ان کا پہلا اور آخری عشق ہے۔عباس تابش اردوغزل اور روایت کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

 

"روایت جو ہے یہ ایک بڑا جنگل ہے اور شاعر کیلئے اس جنگل میں جانا بھی بہت ضروری ہے۔بہت سے شعراء ہمارے جو کہ کم درجہ کے شاعر ہوتے ہیں وہ اس جنگل میں کھو جاتے ہیں۔ان کو واپسی کا راستہ نہیں ملتا،لیکن وہ شاعر جس نے اپنا جواز پیدا کرنا ہے،موجودہ عہد کیلئے اور آنے والے عہد کیلئے

 

وہ اس جنگل سے راستہ بنا کے باہر آتا ہے،اور ایک ایسی راویت کے ساتھ آتا ہے جو تازگی سے لبریز ہوتی ہے۔تازگی جو ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی چیز ہے غزل کیلئے۔

 

نیا شاعر جو آتا ہے اس کی غزلوں میں ابتدائی طور پر بڑی تازگی ہوتی ہے۔یہ نیچرل ہوتی ہے لیکن اگر اُس کا مطالعہ ہے،اور روایت کے جنگل میں گیا ہے،پھر وہاں سے نکلا ہے تو میرا خیال میں وہ اپنی تازگی کو دیر تک قائم رکھ سکتا ہے۔

 

اس کی تازگی کبھی ختم نہیں ہو گی اور جو ایسا نہیں کرتے وہ پھر اپنی تازگی کو جلد بسر کر لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد یا شاعری چھوڑ دیتے ہیں یا ان کی شاعری میں نئے مضامین اور تازگی دیکھنے کو نہیں ملتی”۔

 

دہائی دیتا رہے جو دہائی دیتا ہے
کہ بادشاہ کو اونچا سنائی دیتا ہے
ہم اس لیے بھی تجھے بولنے سے روکتے ہیں
تو چپ رہے تو زیادہ سنائی دیتا ہے

 

قادرالکلام شاعر احمد ندیم قاسمی ؔ عباس تابش ؔ کی شاعری کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:

 

"عباس تابش کے نزدیک شعر ایک ذاتی واردات کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اسے کوئی نظریہ یا کوئی فلسفہ نہیں سمجھتا،اگر اس کے اشعار پڑھتے ہوئے آپ پر بھی وہی کیفیات وارد ہوتی چلی جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری صورت میں عباس تابش آپ کو مجبور تامل نہیں کرے گا

 

کہ یہ اس کا مسلک نہیں۔وہ تو اپنی بات اپنے انداز میں کرتا چلا جاتا ہے۔کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار ٹھہرتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار نہیں بن پاتا تو بھی ٹھیک ہے کہ عباس تابش اپنی طبیعت میں نیاز رکھتے ہوئے بھی ذرا ہٹ دھرم واقع ہوا ہے "۔

 

تو اس سے مانگ رہا ہے فقط غزل کی بھیگ

خدا تو ملکِ سخن کی خدائی دیتا ہے
اک چٹائی تھی مری، اک پیالہ تھا مرا
عام ہو کر بھی یہی خاص حوالہ تھا مرا
میں کہ نقصاں کی خاطر ملا تھا خود کو
عشق کرنا مری جان ازالہ تھا مرا

 

عباس تابش کا تخلیقی سفر کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔اب تک ان کے چھ شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں "تمہید”،”آسمان”،”مجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا”،”پروں میں شام ڈھلتی ہے”،”رقصِ درویش”،” شجر تسبیح کرتے ہیں "اور کلیات "عشق آباد” شامل ہیں جبکہ ان کا شعری انتخاب "سلسلہ د لد اری کا”بھی چھپ کر منظرِ عام پر آ چکا ہے جسے شکیل جاذب نے مرتب کیا ہے۔

 

اسی لیے تو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتے
کہ اپنے جسم چراغوں میں ضم نہیں ہوتے
عجیب لوگ ہیں یہ خاندانِ عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
ابھی سے ترکِ تعلق کی بات کرتے ہو
یہ فیصلے تو میاں ایک دم نہیں ہوتے