لکڑ ہارے کی ایمانداری بچوں کی کہانی تحریر: عشاء مقبول، لاہور

Honesty of the woodcutter Children's story Written by Isha Maqbool, Lahore

12

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گا ¶ں میں ایک لکڑہارا اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ بہت غریب آدمی تھا۔

 

وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا تھا جس دن اسے خشک لکڑیاں مل جاتیں تو وہ انھیں بیچتا اور کچھ خورد و نوش خرید لیتا لیکن بڑی مشکلوں سے اسکے اخراجات پورے ہوتے۔ لکڑہارے کی بیوی اپنی غربت سے بہت تنگ آ چکی تھی اور آئے دن ان کا آ پس میں لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا۔

 

جس دن لکڑہارے کو جنگل سے خشک لکڑیاں نا ملتیں تو اسے بیوی بچوں سمیت بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا تھا۔
ایک دن جنگل کی طرف جاتے ہوئے اُسے ایک گھر نظر آیا۔ وہ دبے پا ¶ں اُس گھر میں چلا گیا۔ وہ گھر بہت خوبصورت تھا ہر چیز نمایاں اور صاف و شفاف دکھ رہی تھی۔ اتنا صاف ستھرا گھر اس نے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔ جب اس نے گھر میں نظر دوڑائی تو اسے گھر میں کوئی انسان نظر نہ آیا۔

 

لکڑہارا سوچھنے لگا کہ اگر گھر میں کوئی رہتا نہیں ہے تو یہ گھر اتنا صاف ستھرا کیسے ہے۔ خیر وہ ایک لمبی سانس بھر کے میز پر جاکر بیٹھ گیا اور اپنی بیوی کی باتوں کو سوچ کر پریشان ہونے لگا کہ اگر آج بھی گھر جاتے ہوئے کچھ لے کر نہ گیا تو بہت جھگڑا ہوگا۔

 

اسی دوران کسی نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا لیکن وہ اپنی پریشانیوں میں گم سم سامنے کی دیوار کو بے خیالی میں گھور رہا تھا اور اندر ہی اندر اپنی حالت زار پر رو رہا تھا۔ اچانک اسے اپنے عقب سے آواز آئی اور اسے تب محسوس ہوا کہ کسی نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔

 

وہ فوراً خوف زدہ ہوگیا اور اس کے جسم سے پسینہ چھوٹنے لگا اور کپکپی تاری ہونے لگی۔ لکڑہارے نے اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے جب پیچھے مڑ کے دیکھا تو ایک پر اسرار شکل دیکھی اور دیکھتے ہی چلا اٹھا۔

 

 

 

ایسی عجیب وغریب شکل جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ نا تو انسان لگتا تھا نا گدھا ، اس کا اوپر والا دھڑ گدھے کی طرح تھا اور نیچے والا دھڑ آدمی جیسا لیکن وہ انسانی آواز میں بولا گھبرا ¶ نہیں میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا تم سے پہلے بھی یہاں لوگ آتے رہے اور مجھے دیکھتے ہی بھاگتے رہے

 

لیکن تمہیں تو میرے آنے کا پتا ہی نہیں چلا ورنہ دوسروں کی طرح بھاگ کھڑے ہوتے۔ اب اس نے لکڑ ہارے سے دریافت کیا کہ وہ کس پریشانی میں ہے اور اتنا گم سم بے سدھ کیوں بیٹھا ہوا تھا۔ لکڑہارے نے روہانسی آواز میں اپنی غریبی کا پردہ چاک کرتے ہوئے

 

اپنے جملہ حالات کے بارے میں بتایا۔ وہ پر اسرار مجسم سب کچھ سننے کے بعد بولا کہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں اور تمہاری غربت کے خاتمے کو یقینی بما سکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کے تم راز کو راز رکھ گئے تب! لکڑہارا سنتے ہی چوکنا ہو گیا اور یکایک بعل اٹھا

 

میں تمہاری ہر بات ماننے کو تیار ہوں، یہ سن کر اس پر اسرار مجسم نے کہا کہ میں تمہیں ایک درخت کے بارے میں بتاتا ہوں جس کے پتوں میں انسانوں کے لیے علاج و شفا ہے، تم اس کے پتوں سے لوگوں کا علاج معالجہ کرنا اور جائز منافع کماتے رہنا، لوگوں کو شفا ملتی رہے گی

 

اور تمہاری غربت کا خاتمہ بھی ہو جائے گا لیکن تمہیں مجھ سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ تم علاج کا بہت کم معاوضہ لیا کرو گے اور غریبوں اور بے سہارا لوگوں کا تو مفت علاج کرو گے۔لکڑہارے نے اس بات کا بھی عہد کر لیا۔

 

لکڑہارے کے عہد و پیماں کے بعد اس پر اسرار مجسم نے اس درخت کی شناخت کروائی اور فوراً غائب ہوگیا۔لکڑہارا کچھ غیر یقینی اور تذبذب کی کیفیات میں اس درخت کے پتے اکٹھے کرنے لگا اور اس کے ساتھ بتائی ہوئی دیگر جڑی بوٹیاں بھی جمع کر کے گھر کی طرف پلٹا۔

 

جب وہ گھر پہنچا تو آج پھر اسکے پاس کھانے پینے کی اشیاءنہیں تھیں جسے دیکھتے ہی اسکی کھڑوس بیوی اس پر برسنا شروع ہو گئی اور حسب معمول کوسنے دینے لگی۔ لکڑہارے نے جڑی بوٹیاں ایک طرف رکھتے ہوئے بان کی بنی چارپائی پرایک لمحے کے لیئے بیٹھ گیا۔

 

 

 

 

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔ لکڑہارا بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع ہو گیا۔

 

دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔

 

لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور اسکا مزاق اڑانے لگے لیکن لکڑہارا بدستور اپنی آوازیں نکالتا رہا جسے سن کر ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

 

لکڑہارے نے اس بوڑھی خاتون سے کہا کہ میری دوا اپنی بیٹی کو کھلا ¶ وہ صحتیاب ہو جائے گی۔ بوڑھی عورت نے کہا اس کا علاج تو بڑے بڑے حکماءبھی کرنے سے قاصر رہے تمہاری دوا کیا خاک کام کرے گا

 

لیکن لکڑہارے نے بڑے پر اعتماد طریقے سے اس بچی کو پانی کے ساتھ دوا کھلا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے بچی کا درد غائب ہوگیا۔ یہ دیکھ کر وہ بڑھیا بہت خوش ہوئی اور بہت حیران بھی۔ یہ سارا ماجرا دیکھنے کچھ لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تھے جس سب حیران ہوئے۔ بڑھیا نے لکڑہارے سے دوا کی قیمت پوچھی تو لکڑہارے نے کہا صرف تین روپے۔

 

بڑھیا کو اور باقی تمام لوگوں کو اس دوا کی اتنی کم قیمت سن کر بہت تعجب ہوا اور بڑھیا نے شکریہ کے ساتھ تین روپے ادا کردیئے۔ لوگوں میں اس کا چرچا عام ہو گیا، جوک در جوک مریض آتے اور سستا علاج کرواتے اور باقی لوگوں میں چرچا عام ہوتا چلا گیا۔

 

جوں جوں لکڑہارے کی دوا مشہور ہوتی گئی لوگ زیادہ آنے لگے۔ لکڑ ہارا روزانہ وقت نکال کر جنگل جاتا اور حسب ضرورت اسی درخت کے پتے اور دیگر جڑی بوٹیاں لاتا اور گھر میں پیس کر دوا تیار کرنے کے بعد مریضوں کا علاج کرتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لکڑ ہارا امیر ہونے لگا اور اب تو غریب لوگوں کی مالی امداد بھی کرنے لگا۔

 

 

 

 

 

ایک روز ایک خوبرو جوان لکڑہارے کے پاس دوا لینے آیا، لکڑ ہارے نے حسب معمول بہت کم قیمت پر اسے دوا دی تو وہ آدمی بہت خوش ہوا اور پوچھنے لگا کہ کیا تم نے مجھے پہچانا؟ لکڑہارا اسے تجسس سے دیکھنے لگا لیکن اسے پہچان نہیں پایا اور کہنے لگا

 

نہیں میں نہیں جانتا اپ کون ہو۔ اس آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں وہی آدمی ہوں جس نے تمہیں اس درخت سے متعارف کروایا تھا

 

جس کی تم آج دوا بنا کر بیچتے ہو۔ وہ مزید بولا کہ میں بہت خوش ہوں کہ تم نے ایمانداری سے اس کام کو شروع کیا ہے

 

اور لوگوں سے پیسے بھی بہت کم لیتے ہو۔ لکڑہارا حیران تھا کہ اس کی تو عجیب و غریب ڈرا ¶نی اور پراسرار شکل تھی اور آج عام انسان جیسا خوبصورت جوان ہے۔

 

لکڑہارے نے دریافت کیا کہ پہلی ملاقات میں آپ کی شکل ڈرا ¶نی کیوں تھی؟ وہ آدمی ہنسنے لگا اور بتانے لگا کہ وہ دراصل ہیون نگر کا شہزادہ ہے۔

 

اس نے آگے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی گیند کھیل رہے تھے کہ ان کی گیند جھاڑیوں میں گر گئی اور جب وہ اسے لینے گیا تو وہاں ایک بزرگ بیٹھے نظر آئے جو اپنی عبادت میں مصرف تھے۔

 

دراصل ہماری بال غلطی سے ان کو جا لگی تھی جس سے ان کی عبادت میں خلل آیا تھا۔ میں تو بچہ تھا اور بہت شرارتی بھی تھا گیند لینے گیا

تو ان بزگوں کی ناگواری پہ میں بد تمیزی سے پیش آیا اور ساتھ ہی انھیں ٹھوکر بھی مار دی جس کی وجہ سے بزرگوں نے مجھے بد دعا دی اور میری شکل بگڑ گئی۔

 

شکل بگڑنے کے بعد میں انتہائی پریشانی کے عالم میں ان سے معافی طلب کرنے لگا لیکن بزرگ انسان نے ایک شرط رکھی کہ اس کا حل تب ہی ممکن ہے کہ تم اچھائی بانٹتے رہو اور مخلوق تم سے خائف نا ہو اور کوئی ایسا اچھا کام کرو جس سے مخلوق مستفید ہو۔

 

مجھے اس درخت کے بارے اپنے اجداد کی تحیقی مواد سے معلوم ہوا تھا کہ اس میں ہر بیماری کے لیئے شفا ہے۔ کوئی انسان میرے قریب ہی نہیں ٹھہرتا تھا کہ۔میں یہ اچھا کام کر کے اپنی سزا کا مداوا کر سکوں۔ جو بھی مجھے دیکھتا ڈر کے بھاگ کھڑا ہوتا۔

 

میں نے اس سزا کی قید میں برسوں گزار دیئے تب جا کر تم سے میری ملاقات ہوئی اور یوں تمہاری ایمانداری کی وجہ سے اس بد دعا کا اثر ختم ہوا اور دوبارہ میری انسانی شکل بحال ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ تسلسل میں بولا کہ اب مجھے اجازت دو وہ یہ کہہ کر رخصت ہوگیا۔

 

لکڑہارا اپنی ایمانداری کی وجہ سے امیر سے امیر تر ہوتا گیا اور لوگوں کا بہت قلیل سے پیسوں میں علاج کرتا رہا اور عیش و عشرت اس کے پا ¶ں چومنے لگی۔ تب سے لکڑہارے کی بیوی بھی لکڑہارے کے ساتھ خوش رہنے لگی اور اس کو عزت سے پکارنے لگی