چارسدہ میں بہنوئی نے کم سن سالی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

میڈیکل رپورٹ میں بچی سے زیادتی کی تصدیق ہوگئی

10

خیال رہے کہ حال ہی میں ملک بھر میں کم سن بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان زیادہ تر اُسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ چارسدہ میں بھی پیش آیا جہاں بہنوئی نے اپنی کم سن سالی کو ہی اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کے مطابق تھانہ پڑانگ کے حدود میں دس سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں بچی سےزیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے وحشی درندے کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کم سن سالی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے والے ملزم کی شناخت سلیم کے نام سے کی گئی ہے۔
قبل ازیں گذشتہ برس اکتوبر میں بھی چارسدہ میں ایک ڈھائی سالہ بچی سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس واقعہ میں ڈھائی سال کی بچی کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کردیا گیا تھا، میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی سے اٹھارہ گھنٹے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بچی کا پیٹ اور سینہ چیرا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود کے پی میں بچیوں سے زیادتی کے واقعات کم نہ ہوسکے۔ رواں سال جنوری میں‌ نوشہرہ میں 7 سال کی بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق بچی کی لاش کھیت کے قریب ٹینک سے برآمد ہوئی تھی۔ علاقہ مکینوں بچی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں دو ملزمان کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ کم سن بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافے پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی پر بھی کئی سوال اُٹھا دئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو کڑی سزائیں دے تاکہ ایسے درندہ صفت ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے۔