اسلام آباد میں انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی چوری کی واردات

بنی گالہ میں چور شہری کی گاڑی کے ٹائر اتار کر لے گیا، چور جاتے ہوئے معذرت کا خط چھوڑ گیا کہ غریب ہوں مجبوری میں چوری کی ہے، بددعا نہ دیجئے گا

19

اسلام آباد میں چوری کی دلچسپ لیکن انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی واردات سامنے آئی ہے، بنی گالہ میں چور شہری کی گاڑی کے ٹائر اتار کر لے گیا، چوروں نے خط چھوڑا مجبوری میں چوری کی ہے، بددعا نہ دیجئے گا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد بنی گالہ میں چوری کا ایک الگ تھلگ دلچسپ لیکن ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، چوری نے چوری کے کرتے وقت ایک خط چھوڑا کہ معذرت کرتا ہوں، میں غریب ہوں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میں نے مجبوری میں چوری کی ہے۔
مجھے معاف کردینا، بدعا نہ دینا ، چور بنی گالہ میں شہری کی گاڑی کی ٹائر اتار کرلے گیا اور جاتے ہوئے معذرت کا خط بھی چھوڑ گیا۔ دوسری جانب پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کرکے قانونی کاروائی شروع کردی ہے۔
دوسری جانب اگر واقعی یہ حقیقت ہے کہ اس بندے نے جو کہ چور ہے، اس نے چوری مجبوری میں کی ہے، تو پھر اس سے حکومت کو سبق بھی لینا چاہیے کیونکہ غریب لوگوں کی قوت خرید صفر ہوگئی ہے، لوگ فاقوں پرمجبور ہیں،

جب بچے بھوک سے بلکتے ہیں تو ان سے دیکھا نہیں جاتا، جب مزدوری بھی نہ ملے، گھر میں بچے بھوکے ہوں، بیمار ہوں ، تنگدستی ہو، پھر لوگ چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اگرچہ چوری گناہ ہے، جرم ہے، لیکن کچھ بھوک ننگ کے ہاتھوں مجبور ہوکر غلط راہ روی ، چوریاں کرنے لگتے، کچھ بھیک مانگنا شروع کردیتے ہیں جبکہ وہ سفید پوش جن سے یہ کام بالکل نہیں ہوپاتا، وہ قرض اٹھاتے ہیں یا پھر خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جبکہ خودکشی کرنا بھی اسلام میں حرام ہے۔
پھر یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کہ ان تمام جرائم کی ذمہ دارجو کہ لوگ بھوک غربت اور تنگدستی کی وجہ سے کرتے ہیں، حکومت ہوتی ہے جس کی نااہل پالیسیوں، مہنگائی بے روزگاری کی وجہ سے لوگ ان مجرمانہ سرگرمیوں اور بے راوی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ملک میں چوریوں جیسے جرائم بڑھنے کی ایک وجہ مہنگائی، بے روزگاری کا بڑھنا بھی شامل ہے،ایسے جرائم کو روکنے کیلئے حکومت کو ہی نہیں اہل علاقہ ، ہمسایوں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا، لوگوں کو چاہیے اپنے آس پاس نظر رکھیں کہ کوئی بھوکا تو نہیں، اپنے کمزوراور مستحق ہمسایوں کا خیال رکھنے سے بھی ان جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔