متحدہ عرب امارات میں اسلام کا بول بالا ہونے لگا

صرف دُبئی میں رواں سال ہزاروں غیر مسلم تارکین نے اسلام قبول کر لیا

15

اسلام دُنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔اس کا آفاقی پیغام اور حق پر مبنی تعلیمات گلوبلائزیشن کے دور میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔

 

یورپ اور امریکا میں بھی اسلاموفوبیا کے باوجود ہر سال ہزاروں غیر مسلم اسلام کے نور سے مالامال ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں 50 لاکھ کے لگ بھگ غیر مسلم موجود ہیں ، جن میں اسلام کا پیغام تیزی سے پھیل رہا ہے۔

 

اس کی ایک وجہ اماراتی حکومت کی جانب سے غیر مسلموں سے برابری کا سلوک اور مہمان نواز رویہ ہے۔ جس ان افراد کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

 

خلیج ٹائمز کے مطابق رواں سال کے دوران صرف دُبئی میں ہی 2,570 افراد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ دُبئی کے محمد بن راشد سنٹر فار اسلامک کلچر آف دی اسلامک افیئرز اینڈ چیریٹیبل ایکٹیویٹز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شائع کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق جنوری 2020ء سے لے کر ستمبر 2020ء تک ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا ہے۔

 

اس کے علاوہ اکتوبر اور موجودہ نومبر کے دوران بھی سینکڑوں غیر مسلموں نے اسلام کو گلے لگا لیا ہے۔ اسلامک سینٹر کی ڈائریکٹر ہند محمد لوطاہ نے بتایا کہ دُبئی میں سینکڑوں ممالک ، مذاہب اور قومیتوں کے لوگ آباد ہیں جو امارات کی اعلیٰ اسلامی و ثقافتی اقدار سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں،

 

 

یہاں کے حکمرانوں کی مذہبی رواداری اور اماراتی عوام کے حُسنِ سلوک کی باعث وہ اسلام کو جاننے کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔

 

ہزاروں افراد اسلامک سینٹر کا رُخ کرتے ہیں جہاں ان پر اسلام کی حقانیت اور انسانی بھلائی پرمبنی تعلیمات کا گہرا اثر ہوتا ہے

 

جس کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ شعبہ برائے فلاحِ نومسلم کی سربراہ حنا عبداللہ الجلاف نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے والے افراد مختلف ماحول اور ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں،

 

انہیں اسلامی تعلیمات سے جلد از جلد آگاہی کے لیے ان کے شعبے کی جانب سے بھرپور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل شارجہ کی جیل میں بھی چار قیدیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔