تعلیمی اداروں کی بندش تین مراحل میں ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی گی

پہلے مرحلے میں 25 جنوری سے پرائمری سکولز، دوسرے مرحلے میں 4 فروری سے مڈل تا انٹرمیڈیٹ کی کلاسز اور تیسرے مرحلے میں 15 فروری سے یونیورسٹیوں کو کھولنے کا امکان

23

کورونا وبا کے پیش نظر بند تعلیمی اداروں کو تین مراحل میں کھولنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پہلے مرحلے میں 25 جنوری سے پرائمری سکولز، دوسرے مرحلے میں 4 فروری سے مڈل تا انٹرمیڈیٹ کی کلاسز اور تیسرے مرحلے میں 15 فروری سے یونیورسٹیوں کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بورڈز امتحانات مئی کے آخری ہفتے یا جون کے ابتدا میں امتحان لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

 

تعلیمی اداروں کو کھولنے کی تجویز کا ایجنڈا وزرائے تعلیم کانفرنس میں شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس 4 جنوری کو ہوگی۔ خیال رہے کہ وزیر تعلیم شفقت محمود نے تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے کہا تھا کہ 10 جنوری کے بعد تعلیمی ادارے کھلنے یا نہ کھلنے کا فیصلہ 4 جنوری کو ہو گا۔

 

اُن کا کہنا تھا کہ بطور وزیر تعلیم خواہش ہے کہ اسکول جلد کھلیں تاہم بچوں کی صحت پر کوئی رسک نہیں لے سکتے۔

 

شفقت محمود نے مزید کہا کہ ملک بھر کے دینی مدارس بند ہیں۔ یاد رہے کہ کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک ہوم لرننگ کا سلسلہ جاری رہے گا

 

،26 نومبر سے پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے سے آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں۔ اسکول کالجز، یونیورسٹیز، ٹیوشن سینٹرز سب بند ہوں گے۔ 25 دسمبر سے 10جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی اور تعلیمی اداروں میں بچے نہیں آئیں گے، بچے گھر بیٹھ کر تعلیم جاری رکھیں گے۔11 جنوری کو اگر حالات بہتر ہوئے تو تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دئیے جائیں گے ۔