خان صاحب! پختہ لیڈر شپ پیدا کریں! تحریر: مبشر نور کامیانہ

Khan Sahab! Create strong leadership! Written by Mubashir Noor Kamiana

119

لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ خوش اخلاق،ملنسار ہو۔شجاعت اور بہادری سے لیس ہو۔بکھری ہوئی عوام کو ایک قوم بنانے کا سلیقہ و طریقہ جانتا ہو۔

 

اگرلیڈر میں غیرت اور دشمنوں سے نمٹنے کے لیے شجاعت نہیں تو اسکو وہ عہدہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اگر شجاعت نہیں تو اپنے سیاسی حریفوں ا ور مخالفین سے مقابلہ نہ کر سکے گا۔اگر شجاعت نہیں تو اپنی جماعت کو اپنے ملک کے طول و عرض میں پھیلا نہیں سکے گا۔ اس طرح رعایا متنفر ہو جائے گی۔ اگر علم وسیع نہ ہوگا تو وہ سطوت سے اُنکو برباد کر ڈالے گا۔اگر حکیمانہ سوچ کا مالک نہ ہو گا

 

تو وہ قوم میں مختلف مسائل اور بیماریوں کے اصل حقائق کو نہ سمجھ سکے گا۔لیڈر کو چائیے کہ وہ بالغ،آزاد مرد ہو۔بینا،شنواء اور گویا ہو۔ذی عقل اور دانا ہو۔

 

رعایا اسکے اچھے فیصلوں،اسکی مثبت سوچ اور اسکے خاندان کے اعزازات کو دل سے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں اور یہ بات بخوبی بھانپ جائیں کہ ہمارا لیڈر ملکی مسائل کو حل کرنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا۔

 

لیڈر کو چائیے کہ رعایا کے دلوں میں اپنے لیے محبت اور اعزاز بیدار کرے۔اگرلیڈر نے من مانے فیصلے شروع کر کے رعایا کا جینا حرام کر دیا تو رعایا کے دلوں میں بد دعائیں اور نفرت بڑھ جائے گی۔تو ضروری امر ہے کہ رعایا کی زندگیوں کو آسان تر بنانے کے لیے مثبت فیصلے کر کے رعایا کا دل جیتا جائے۔

 

جو لیڈر اپنے جاہ و مرتبے کو قائم رکھنا چاہے تو اسکو چائیے کہ اپنے اعلیٰ اخلاق سے خود کو پیراستہ کرے جو اسکی ریاست اور اسکے مرتبہ کے شایانِ شان ہوں۔اگر کسی جگہ کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اپنی غلطی پر خود کو عوام کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا کرے اور قوم سے فی الفور معافی مانگ کر آئندہ سے ایسی لغزش نہ کرنے کا پختہ عہد کرے۔

 

لیڈر قوم کو فیاضی کا درس دے۔ لیکن!خود بھی بالطبع فیاض ہو۔خود عوام کیساتھ گھل مل جانے کا وقت دیا کرے۔تو ایسے وقت میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا لباس اور ایسی گفتگو اختیار کرے جس سے لوگوں کے دلوں میں کشش پیدا ہو۔لوگوں کے درمیان اپنے کسی بھی مخالف کے بارے ایک لفظ بھی بول کر عوام میں خود کو خود غرض ثابت نہ کرے۔

 

ایسا رویہ اختیار کرنے سے رعایا ٹوٹ،پھوٹ کا شکار ہو کر ملکی مسائل سے بیزار ہو کر دوری اختیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔جس وجہ سے پھر ملک کے حالات کو سمجھنے والے کم پڑ جاتے ہیں۔اور مفاد پرست لوگوں کا جمِ غفیر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔اور ایسی گفتگو بھی نہ کرے کہ لوگ یہ سمجھ کر اُس سے دور ہو جائیں کہ یہ تو اپنے شکار سیدھے کرنے کے چکروں میں ہے۔یہ ہمارے مسائل حل کرنے نہیں آیا۔

 

لیڈر کو اپنے مخالفین پر سب سے زیادہ مہربان ہو کر عوام کے دل جیتنا ضروری ہے۔دہشتگردی کا شکار افراد یا کسی بھی مسائل میں گھرے کسی بھی علاقے سے وابسطہ افراد کی سخت خبر گیری کر کے انکی زندگیوں میں امن و سکون برپا کرے۔ اگر ایسا نہیں کرے گا تو رعایا یہ یقین کر لے گی کہ یہ تو فلاں فرقے،فلاں طبقے،فلاں لوگوں کا دشمن ہے۔آئیندہ الیکشن میں اِسکو ووٹ نہیں دیں گے۔تو اس طرح رعایا بکھرنا شروع ہو جاتی ہے

 

اور نظام تباہی کی دلدل میں بہتا چلا جاتا ہے۔تو اس طرح ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا دور، دورا ہونے لگ جاتا ہے۔ان سب بیماریوں پر قابو پانالیڈر کی بہت زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔کہ کسی بھی طقبے،کسی بھی فرقے،کسی بھی قسم کے لوگوں کے ساتھ بے انصافی مت ہو۔جس سے لوگوں کے دلوں میں نفرتیں پیدا ہونا شروع ہو جائیں۔

 

لیڈر کو چایئے کہ وہ مخالفین کی تنقید کو برداشت کرے۔تحمل برداری سے کام لے۔غصہ نا ہو۔مخالفوں کی بری باتوں کا جواب مثبت انداز میں دے۔کسی محفل میں کوئی کوئی تنقید یا کسی کے سخت سوال کا جواب نہایت ہی احسن اور ٹھنڈے دماغ سے دے نہ کہ ہائپر ہو کر محفل سے اٹھ جائے۔

 

دنیا میں جتنے بھی آج تک بڑے لیڈر گزرے ہیں انہوں نے اپنی مثبت سوچ،مثبت صفات،اعلیٰ اخلاق سے لوگوں کے دل جیتے اور اعلیٰ منصبوں پر فائز ہو کر دنیا کو بدلا۔ویسے تو مثالیں دنیا میں بہت سی مل جاتی ہیں۔ ایسے ہی میں کچھ مثالیں (سکندرِ اعظم) کی بتاتا چلوں۔سکندرِ اعظم کا شمار دنیا کے چند اور قلیل ترین جرنیلوں میں ہوتا ہے۔

 

سکندرِ اعظم (ایلگز ینڈر، دی گریٹ)356قبل مسیح ’مقدونیہ‘ میں پیدا ہوا۔20 سال کی عمر میں بادشاہ بن گیا۔22سال کی عمر میں دنیا فتح کرنے نکل پڑا۔32 سال کی عمر میں اُسنے 30ہزار کلو میٹر اور 70 ملک فتح کر لیے۔اور صرف 33 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ بھی کر گیا۔لیکن!وہ ایک دانا اور عقلمند جرنیل تھا۔

 

ہندوستان میں سب سے پہلا گھوڑا سکندرِ اعظم لے کر آیا تھا۔یہاں پینٹ اور پتلون بھی متعارف کرائی۔ہندوستانیوں کو ستون بنانے کا فن بھی سکھایا اور سب سے بڑھ کر یہ پہلا شخص تھا جس نے ہندوستانیوں کو یہ بتایا کہ دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔
سکندرِ اعظم نے جب ایران فتح کیا تو(بادشاہ دارا)کے تمام وزرا اور خادموں کو قتل کروا دیا۔

 

کسی نے سکندر کو رپورٹ دی کہ محل سرا میں دارا کی بہت ہی نفیس اور خوبصورت بیٹی رہتی ہے۔اس کے علاوہ شاہی حرم اور شاہی خاندان کی بے شمار دوشیزائیں بھی حسین و جمیل ہیں۔تو آپ محل سرا کی سیر کر کے لطف اندوز ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں۔لوگوں کا خیال تھا کہ شائد سکندر ابھی اندر جا کر (دارا)کی خوبصورت بیٹی کو اپنی ملکہ بنا کے لے جائیں گے۔لیکن!آپ نے نہایت ہی شاندار جواب دیا کی (ہم دارا کے شہ زور مردوں کو شکست فاش کر چکے ہیں تو ہم یہ نہیں چاہتے کہ اُسکی کمزور عورتیں ہمیں اپنے بہکاوے میں لے کر زیر کر لیں)۔

 

سکندر وہاں سے فی الفور اپنی فوج واپس لے گیا۔

اُسکی کامیابیوں کی وجہ آپ اُسکے ایک چھوٹے سے واقعہ سے بھی لگا سکتے ہیں۔ایک دن اپنی فوج کیساتھ(مڈل ایسٹ) کے ایک صحرا سے گزر رہا تھا۔راستے میں پانی کی قلت ہو گئی اور بھوک نے بھی ستانا شروع کر دیا۔وہ ’دو ہفتے‘ اپنی فوج کیساتھ صحرا میں بھٹکتا رہا۔پوری فوج بھی بھوک اور پیاس سے بہت بری طرح ہلکان ہو گئی۔

 

(میرا یہ کہنا ہے کہ قدرت ایسی مشکل گھڑیوں میں ایسے لوگوں کا امتحان بھی لیتی ہے)۔ سکندرِ اعظم سب سے آگے چل رہا تھا۔راستے میں اُسکے ایک خادم نے کہیں سے تھوڑا سا پانی ایک پیالے میں لا کر دیا۔ سکندرِ اعظم ’چار دن‘ سے پیاسا تھا اور پیاس نے اِسقدر ہلکان کر کے رکھ دیا تھا کہ اُسنے پانی کا پیالا دیکھا تو بے اختیار اپنے منہ کو لگا لیا اور پانی ہونٹوں سے لگنے سے قبل اپنے خادم سے پوچھا کہ کیا میرے فوجیوں کے پاس اتنا پانی موجود ہے؟

 

تو خادم نے نہیں کا جواب دیا تو سکندر نے پانی نیچے ریت پر گرا دیا اور سفر جاری رکھا۔خادم نے اِ س ناراضگی کی وجہ پوچھی تو سکندر نے کچھ تاریخی الفاظ یوں بولے!

 

(میں کمانڈر ہوں اور کمانڈر ماؤں کی طرح ہوتے ہیں۔یہ سب میرے زیرِ نگرانی رہ رہے ہیں۔ ان تمام کی دیکھ بھال اور ضروریات میرے ذمہ ہے۔ جس کمانڈر کی فوج چار دن سے بھوکی، پیاسی ہو تو اُس کمانڈر پر پانی کا ایک گھونٹ پینا بھی حرام ہے۔مزید کہا کہ اگر میں اِن لوگوں کا کمانڈر ہوں تو مجھے اُس وقت تک پانی نہیں پینا چایئے

 

جب تک میری فوج کے ایک،ایک سپاہی کی پیاس نہیں بجھ جاتی)۔”حالانکہ وہ خود غیر مسلم ہو کر بھی خود پہ ایسی چیزوں کو حرام تصور کرتا تھا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُسنے اتنے بڑے کارنامے کیسے سر انجام دے لیے؟وہ تاریخ کا اتنا بڑا لیڈر کیسے بنا؟اسنے خود کو دنیا کا عظیم انسان کیسے منوا لیا؟اِسکی بے شمار وجوہات ہیں۔ اُن تمام وجوہات میں سب سے نمایاں اور سب سے بڑی وجہ تھی اخلاق، انصاف اور مساوات۔ وہ اپنی فوج اور سپاہیوں کیساتھ اچھا برتا ؤ رکھتا تھا اور عام سپاہیوں جیسی زندگی گزارتا تھا۔عام سے خیموں میں رہتا تھا۔فوجی لنگر خانوں سے سب کیساتھ بیٹھ کے کھانا کھا لیتا تھا۔

 

 

کبھی خود کو بڑا،عالیشان،معتبر اور منفرد انسان نہیں سمجھا۔اپنے سپاہیوں کیساتھ گھوڑوں پر پیدل سفر کر لیتا تھا۔کبھی خود کو بہت بڑا سپہ سالار اور جرنیل ہونے کا ذہن میں خیال بھی نہیں لاتا تھا۔آج ہمارے حکمرن کیا گل کھلاتے پھرتے ہیں؟“۔ ان سب کے کرتوت دنیا کے سامنے ہیں۔ تو اسے ہی لیڈر شپ کہا جاتا ہے۔

 

وہ اپنی اِنہی خوبیوں کی بنا پر کامیاب لیڈر بنا اور یہ وہی لیڈر شپ ہے جسکو آج سینکروں برس بعد بھی دنیا کا ہر ایک انسان (سکندر اعظم)کے نام سے جانتا ہے۔

 

لہٰذا!محترم!عمران خان صاحب!پختہ لیڈر شپ پیدا کریں اور اعلیٰ اخلاق پیدا کر یں تاکہ رعایا آپکو ایک منفرد اور کامیاب لیڈر مان جائے اور رہتی دنیا تک آپکا نام ہمیشہ قائم و دائم رہے۔