لاہور۔مشہور مترجم کرنل (ر) مسعود اختر شیخ انتقال کر گئے

48

لاہور (محمد شعیب مرزا سے) معروف مترجم اور 25 سے زائد کتابوں کے مصنف کرنل (ر) مسعود اختر شیخ طویل علالت کے بعد 27 مارچ بروز جمعۃ المبارک اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے ادب کے توسط سے پاکستان اور ترکی کے درمیان ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لئے نصف صدی تک خدمات انجام دیں۔

 

ترکی کے تقریباً چالیس ادیبوں کے دو سو سے زائد افسانے، نظمیں، ناول اور ڈرامے اُردو، انگریزی اور پنجابی میں ترجمہ کرنے کے علاوہ کئی کہانیاں اور نظمیں اُردو اور پاکستان کی علاقائی زبانوں سے ترکی میں بھی ترجمہ کی ہیں۔ یوں انہوں نے پاکستان اور ترکی کے عوام کو قریب لانے کے لئے پل کا کردار ادا کیا ہے۔

پولیس انسپکٹر اور بچوں کے نامور ادیب، احمد عدنان طارق تحریر۔ اختر سردار چودھری

 

وہ دیگر اہم شخصیات کے علاوہ صدر ضیاء الحق کے ساتھ ترکی میں مترجم کے فرائض بھی انجام دیتے رہے اور ان کے ساتھ عمرے اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر حاضری کی سعادت بھی حاصل کی۔

 

وہ مسلسل دو سال تک ریڈیو پاکستان اسلام آ باد سے ترکی پروگرام میں روزانہ تبصرہ بھی نشر کرتے رہے۔ ترکی کی طرف سے مختلف اعزازات کے علاوہ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2006ء میں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ حال ہی میں انگریزی میں لکھی گئی ان کی سوانح عمری بھی شائع ہوئی تھی۔

"بوڑھے والدین پریشان” (افسانہ ) تحریر: شمائلہ ملک، بہاولپور