تخلیق کے 51 سال تحریر: منشا قاضی

76

فکر کسی بھی سچائی کی شہہ رگ ہے اور فکر سے بڑی کوئی سائنس نہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایک شخص کو سر تا پا فکر پایا۔ اگر میں یہ کہوں کہ اظہر جاوید فکر کا پیکر متحرک تھا تو بے جا نہ ہوگا۔ اقبال نے فرمایا تھا کہ قومیں فکر سے محروم ہو کر تباہ ہو جاتی ہیں۔ ماہنامہ ”تخلیق“ کے بانی جو درد کے بانیوں میں تھے اور درد کی دولت کو عام کرتے تھے اور شریکِ درد رہتے تھے۔ آپ کا لگایا ہوا ادبی پودا آج 51 سال میں داخل ہوگیا ہے اور اظہر جاوید کے سعادت مند بیٹے نے اپنے باپ کی دردکی جاگیر کو سنبھال ہی نہیں رکھا اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے اور اُس کی رفیق حیات نے بھی سونان کا نہ صرف ہاتھ تھام رکھا ہے بلکہ اس نے بھی تخلیق کو حرزِ جاں بنا لیا ہے۔ اظہر جاوید نے اپنے پیچھے مادی دولت کے انبار نہیں چھوڑے اُس نے فقر و استغنا کی لازوال دولت تقسیم کی ہے۔ لوگ دولت جمع کرتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ دولت جمع کرنے سے ختم ہوجاتی ہے تقسیم کرنے سے بڑھتی ہے اور آج فالکن کلب کے پُر شکوہ ہال میں ہم نے دیکھا کہ اردو ادب کے برلا اور ٹاٹا کی دولت سلطنتوں کی سلطنتیں بھی آپس میں تقسیم کر لیں تو ختم نہ ہو۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com

اظہر جاوید ایک فلسفی تھا۔ فلسفی اس شخص کو کہتے ہیں جو حکمت پسند ہو اور عقل کی طرف سے مایوس نہ ہو، جو اس بات کا قائل ہو کہ حیات و کائنات میں کچھ مطلق اور مستقل صداقتیں پائی جاتی ہیں اور تلاش و تحقیق سے اِن صداقتوں کو ڈھونڈ نکالتا ہو اور پھر دنیا اور انسانیت کو اپنی ثابت کردہ سچائیوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے کمر بستہ رہتا ہو۔ اظہر جاوید کا زندہئ جاوید ”تخلیق“ ہماری روح کو تسکین عطا کرتا ہے۔ اظہر جاوید کے سعادت مند بیٹے نے اپنے باپ کی جاگیر کو سنبھال رکھا ہے۔ نقیب محفل بلبل ہزار داستان نواز کھرل کی دلنواز آواز کی گونج نے پورے ہال میں ایک سے ایک بڑھ کر ادیب شاعر، محقق، نقا د، ناول نگار اور سیاحت کے دلدادہ تشریف فرما تھے اُن سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اس سے پہلے ابتدائی کلمات کامران نے ادا کیے اور سونان اظہر نے باضابطہ طور پر نقیب محفل نواز کھرل کو دعوت دی اور جناب نواز کھرل نے حفظِ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے کرسیئ صدارت پر جلوہ گری کا بڑا بلیغ اشارہ دیا اور خواجہ محمد زکریا بڑی متانت سے جلوہ افروز ہوئے۔ آپ کے ساتھ بلبل پاکستان بشریٰ رحمن، عطاء الحق قاسمی، غلام حسین ساجد، ڈاکٹر حسن عسکری کاظمی اور عالمی مصور محمد اسلم کمال تشریف فرما تھے۔

 

 

کلب کے چیف ایگزیکٹو عزت مآب ڈاکٹر رفیق قیصر کا طرز و اسلوب ادب کا سراپا اور ادیبوں کے لئے اُن کے دیدہ و دل میں نے فرشِ راہ دیکھے۔ ڈاکٹر رفیق قصیر کی کامرانی کا راز میں نے تو پا لیا ہے کہ وہ ایک سعادت مند اور ظفر مند جلیل القدر انسان ہیں۔ انہیں اس لئے بھی کوئی دوسری ادبی تقریب یہاں کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ ہاتھی کے پاؤں کے نیچے سب کا پاؤں اور”تخلیق“ سے محبت کرنے والے دیوانوں کا شمار دنیا کے عظیم فنکاروں میں ہوتا ہے۔ راولپنڈی سے نسیم سحر، لندن سے سعدیہ سیٹھی، جناب ریحان اظہر،جناب حسین مجروح، بینا گوئندی، اسلم کمال، فراست بخاری، عذرا اصغر، پروفیسر ناصر بشیر، اعظم ملک، جناب پرویز کلیم، جناب عاصم بخاری، پروفیسر سلیمان باقر، محترمہ کوثر تسنیم، شعیب بن عزیز، شجاعت ہاشمی، پروفیسر ایوب اور بہت سارے چوٹی کے جید ادیب موجود تھے جو اظہر جاوید کی محبت میں یہاں بیٹھے تھے۔

 

سرخی خار مغیلاں سے پتہ چلتا ہے
تیرے دیوانے کہاں آئے کہاں تک پہنچے

awamifaisla.com
awamifaisla.com

اس تقریب میں شرکت کے لے محبانِ اظہر جاوید کے دلوں میں خواہش ہمیشہ بیدار رہتی ہے اور وہ سونان اظہر کے رابطے میں رہتے ہیں اس دفعہ بہت سارے شناسا چہروں کی زیارت نہ ہوسکی کہیں وہ مسلسل رابطوں میں شاید نہ رہے ہوں۔ بہرحال اظہر جاوید کمال کا انسان تھا جس نے مرنے کے بعد بھی اپنے دوستوں کومل بیٹھنے کا ایک بہانہ فراہم کیا ہے جو اس موقع پر یوں شرکت کرتے ہیں جیسے وہ ادبی میلے میں آئے ہوں اور اُن کے چہروں پر مسرت و شادمانی کی چاندنی ہویدا ہوتی ہے۔ ”تخلیق“ کے 51 سال نصف صدی کا زائد قصہ ہے۔ شاعروں، ادیبوں، انشا پردازوں کی تخلیقات کا مرکز و محور ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے خانوادے سے لے کر ابن صفی کے صاحبزادے تک اس تقریب میں موجود تھے جو پُرشکوہ، پُروقار اور با اختیار بنانے میں مدتوں یاد رکھی جاتی ہے۔ صدر ذی وقار خواجہ محمد زکریا سے لے کر ہر آنے والے مقرر خاص اسلم کمال تک تذکرہ کرتے ہوئے ”تخلیق“ اور بانی تخلیق کے ساتھ بلبل پاکستان بشریٰ رحمن کا بھی ذکر ہوتا رہا اور ہر مقرر نے کہاکہ ہم نے بشریٰ رحمن کو پڑھا بھی ہے اور سنا بھی ہے۔

 

 

دل چاہتا ہے کہ بشریٰ بولتی رہے اور ہم سنتے رہیں۔ مختار مسعودمرحوم نے بھی ایک بلبل ہند کو سنا تھا اور اس کی ماں نے اپنے بیٹے کے بارے میں کہا تھا کہ یہ کون کافرہ ہے جس کی جوانی پر مختار مسعود کا والد فریفتہ تھا۔ آج اس کی پیری پربیٹا فریفتہ ہے۔ سروجنی نائیڈو بولتی نہیں تھی موتی رولتی تھی اور اس کے جذبات و احساسات مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ وابستہ تھے۔ بشریٰ رحمن کو ”تخلیق“ ایوارڈ ڈاکٹر رفیق قیصر نے اپنے دستِ مبارک سے دیا اور جیوری نے اپنی تحقیق و جستجو کے میدان میں اپنی کاوش کو اللہ کی نوازش قرار دیا۔ سونان اظہر کوایک سعادت مند بیٹے کے حوالے سے سب نے یاد کیا اور تخلیق کی دیدہ زیبی اور حُسن آرائی میں سونان اظہر کے خونِ جگر کی نمود پائی گئی جسے سب نے بے پناہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ نسیم سحر نے اپنی یادوں کے چراغ روشن کرتے ہوئے اظہرجاوید کے زندہ جاوید ”تخلیق“ کی بے پناہ تعریف کی۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com

غلام حسین ساجد نے اپنے زورِ تحقیق و جستجو کی خوبی سے پاکستان میں بلبل کو عنقا قرار دیا اور کہا کہ بشریٰ کو بلبل پاکستان تو کہا جارہا ہے مگر پاکستان میں بلبل کہاں ہے۔ بشریٰ رحمن کو دیکھتا ہوں تو مسرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں واقعی بلبل موجود ہے اورایک بلبل ہے جو ہے محو ترنم اب تک ویسے تو بلبل مؤنث بھی ہے اور مذکر بھی خواتین میں بلبل پاکستان بشریٰ رحمن اور مَردوں میں بلبل پاکستان اظہر جاوید تھے۔ ویسے عربی زبان میں آفتاب مؤنث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لئے تذکیر و تانیث کوکوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے اس کا کام بولتا ہو اور دلوں میں رسائی رکھتا ہو۔ بلبل کو شاعروں نے مونث بھی لیا ہے اور مذکر بھی جس کی مثال دی جاتی ہے

 

کانوں میں گونجتے ہیں بخاری کے زمزمے
بلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں
اور یہاں مونث استعمال ہوا ہے
اڑتے ہی پڑ گئی صیاد کے پالے بلبل

 

awamifaisla.com
awamifaisla.com

بشریٰ رحمان کو اُن کی ادبی، شعری، صحافتی اور وطن دوستی کے اعتراف ِ عظمت کا اظہار کرتے ہوئے جیوری نے متفقہ رائے اور ”تخلیق“ کے پیمانے پر پورا اترنے پر آٹھواں تخلیق ایوارڈ کا سزا وار قرار دیا۔ تقریب سے پہلے مہمانوں کی چائے سے تواضع کی اور اختتام پر ہائی ٹی کا اہتمام تھا۔ حسن نقابت کی شیلڈ نواز کھرل صاحب نے وصول کی۔ ڈاکٹر حسن عسکری کاظمی کے بارے میں نقیب محفل نے اُنہیں مائیک پر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ

رکے تو چاند چلے تو ہواؤں جیسا ہے
یہ شخص دھوپ میں چھاؤں جیسا ہے

آخر میں سونان اظہر نے اپنے سارے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے استدعا کی کہ مجھے یقین ہے کہ آپ پہلے سے بھی زیادہ رابطوں میں رہیں گے۔ آپ کی حوصلہ افزائی میرے لئے مسیحائی سے کم نہیں ہے۔”تخلیق“ کے بااخلاق عملہ کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے جنہوں نے ہر لحظہ حفظِ مراتب کا خیال رکھا۔ چائے پر بھی اظہر جاوید کا تذکرہ جاری رہا
کوئی کرے تو ترا تذکرہ کرے
وگرنہ کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے