موبائل فون نقصان دہ یا فائدہ مند؟ تحریر: عائشہ قریشی کراچی

گھر میں جھگڑے روزبروز بڑھنے لگے تھے

755

عامر صاحب بچوں کے اسکول سے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔آج ان کے سالانہ امتحانات کا نتیجہ آنا تھا۔ان کے دو ہی بچے تھے۔مریم اور آیان۔ان کی بیوی کی وفات ہو چکی تھی۔مریم ہی گھر کا کام کرتی اور چھوٹے بھائی کو پڑھاتی بھی تھی۔مریم نویں جماعت میں تھی جبکہ آیان تیسری جماعت میں تھا۔دونوں بچے ہرسال اچھے نمبروں سے کامیاب ہوجاتے تھے۔

وہ دونوں گھر آئے تو بہت خوش تھے۔ہرسال کی طرح اس سال بھی انھوں نے اپنی اپنی جماعتوں میں پوزیشن لی تھی۔عامر صاحب نے دونوں کو پیار کیا اور رات میں ان کے لیے تحفے لانے کا وعدہ بھی کیا۔رات میں وہ آیان کے لیے موٹر کار اور مریم کے لیے موبائل لائے ۔دونوں اپنے تحفے پا کر بہت خوش تھے۔

موبائل کے ملتے ہی مریم کی توجہ گھر سے کم ہوتی گئی۔وہ گھر کے کام کرنے میں سستی دکھاتی اور بات ہے بات آیان کو بھی ڈانٹتی رہتی۔رات کو دیر تک سونا تو اُسکا معمول بن چکا تھا۔عامر صاحب مریم کو سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے،لیکن وہ ان کی سنتی ہی نہیں تھی۔گھر میں جھگڑے روزبروز بڑھنے لگے تھے،تنگ آکر عامر صاحب نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

عامر صاحب نے تو مریم کو موبائل اس لیے دیا تھا کہ وہ اس سے اپنی پڑھائی میں مدد لیتی اور تھوڑا اپنا دل بہلا لیتی،مگر وہ تو موبائل میں نجانے کن چکروں میں پڑ گئی سارا دن ٹک ٹاک پر بیٹھی رہتی۔اسے نہ تو اپنے پڑھنے کا ہوش تھا اور نہ ہی چھوٹے بھائی کا۔عامر صاحب اتنے پڑھے لکھے نہ تھے کہ آیان کو پڑھاتے،نتیجاً اس سال وہ دونوں سالانہ امتحان میں بری طرح ناکام ہو گئے۔اب مریم کو اپنی غلطی کا ادراک ہونا شروع ہو گیا

اس نے موبائل استعمال کرنا ترک دیا آخر ایک دن اس نےاپنا موبائل عامر صاحب کو واپس کر دیا۔ عامر صاحب نے اس کو سمجھایا کہ دیکھو بیٹا موبائل میں بہت سی کام کی چیزیں بھی ہیں۔لیکن ہمارے یہاں اگر کسی کو موبائل ملتا ہے تو وہ سارا دن اس پر فضول چیزیں دیکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ بجائے اس کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے وہ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔اب آپکو موبائل تب ہی ملے گا جب آپ کواس کے صحیح استعمال کا پتا چلے گا۔

مریم نے یہ سن کر سعادت مندی سے وعدہ کیا کہ اب اسے جب بھی موبائل ملے گا وہ اس کا غلط استعمال نہیں کرے گی اور گھر والوں کو بھی وقت دے گی۔۔

 

ہر چیز کے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں۔کوئی بھی چیز بذات خود بری یا اچھی نہیں ہوتی۔لوگوں کا استعمال اسے اچھا یا برا بنا تا ہے۔ اگر آپ کے گھر والے آپ کو موبائل دے رہیں ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ اسے۔صحیح طریقے سے استعمال کریں۔اگر آپ موبائل استعمال کرنے بیٹھ رہیں ہیں تو اعوذ بالله اور دعائیں پڑھ کر بیٹھیں۔

کوئی مقصد لے کر اسے استعمال کرنے بیٹھیں اور مقصد پورا ہوتے ہی اسے آف کر دیں، ورنہ یہ ہمیں اپنے سحر میں جکڑ لے گا۔اس کے لیے اپنا وقت مقرر کریں۔اپنے اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔اور وقت کی پابندی کا خاص طور پر خیال رکھیں۔جب ہم موبائل استعمال کر رہیں ہوں تو،دنیا ومافہییا سے بے خبر نہ ہو جائیں بلکہ وقت کی پابندی کریں،

کیونکہ جب ہم موبائل استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔لہذا وقت کا تعین کر کے بیٹھیں۔ اور سب سے اہم بات اگر آپ طالب علم ہیں تو موبائل کو کم سے کم وقت دیں۔زیادہ تر وقت اپنی پڑھائی پر صرف کریں۔ موبائل تو ایک بے ضررچیز ہےاور آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔