محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور ترقی پسند سیاسی رہنما تحریر: عائشہ یاسین ، کراچی

رسول اللہ نے ایک سیاستدان اور حاکم وقت کے طور پر سینکڑوں فیصلے کیے جن میں سے ہر فیصلہ ہمارے لیے بصیرت اور راہ نمائی کا سرچشمہ ہے۔

105

آپﷺ آخری رسول و نبی ہیں، سب سے بڑے قانون دان ہیں، سب سے بڑے جرنیل ہیں، سب سے اعلیٰ حکمران ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاست دان بھی ہیں۔ آنحضرت کی سیاسی زندگی کے مختلف اور متنوع پہلو ہیں۔ سیاسیات کے حوالہ سے آپﷺ کی تعلیمات کا ایک حصہ وہ ہے جن میں اسلام کے سیاسی نظام کا تعارف کرایا گیا ہے، اسلامی ریاست کی بنیادوں کا تعین کیا گیا ہے اور ایک مسلم حکومت کے فرائض اور ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں۔ راست بازی، امانت داری، ایفائے عہد، عدل و انصاف، ثابت قدمی، پاکیزہ نظریات اور رعایا کے حقوق سے بخوبی واقفیت، آپﷺ ان تمام صفات سے آراستہ تھے۔

اگرچہ مکی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکلات کا شکار رہے۔ آپ کی دعوت کے ابتدائی برس، جن میں مسلمانوں کو بہت زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا(جیسے حضرت بلال حبشیؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت صہیب رومیؓوغیرہ)جو غلام تھے، آپﷺ کی ترغیب سے مخیر حضرات نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ گویا آپ کی نظر پہلے ہی مظلوم اور پسے ہوئے طبقہ پر تھی جبکہ دوسرا حصہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ نے ایک سیاستدان اور حاکم وقت کے طور پر سینکڑوں فیصلے کیے جن میں سے ہر فیصلہ ہمارے لیے بصیرت اور راہ نمائی کا سرچشمہ ہے۔ تیسرے نمبر پر آپﷺ نے مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا چنانچہ اس کے لیے حضرت زید بن ارقمؓ کا گھر بطور مدرسہ تجویز ہوا۔ آپ کے انہی شاگردوں کی کوششوں سے سیدنا عمر بن خطابؓ، سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ جیسے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

حضور ﷺ کی حاکمانہ (سیاسی)زندگی کی ابتدا:
آپ ﷺ کی قبل ازہجرت،مکی زندگی میں سیاست کی پہلی کڑی ہجرت حبشہ ہے، جس کی بدولت اسلام ایشیاءسے افریقہ تک پہنچ گیا۔ دوسری کڑی بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔ مسلمانوں سےلیا گیایہ اقرارایک عظیم اور مثالی سلطنت کی خشت ِاول ثابت ہوا۔ سیاست رسولﷺکے نمایاں پہلو اور ان کے ثمرات کا مختصر جائزہ پیش نظر ہے۔

وفاقی مملکت کا قیام
ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کواپنا مسکن بنایا اور مسلمانوں کا دفاعی نظام مضبوط کرنے کوترجیح دی،مدینہ منورہ میں“وفاقی شہری مملکت”کا قیام عمل میں لاکر مسلمانوں کی شیرازہ بندی کی اور یہود سے سیاسی سمجھوتے کےلیے پچاس دفعات پر مشتمل ایک دستور مرتب کیا۔

دشمن کی جاسوسی ومعاشی استحصال:
داخلی استحکام سے فارغ ہوکر“حفظ ماتقدم“کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ ﷺ نے کفار مکہ کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کی تدبیر یوں فرمائی کہ مدینے کے جنوب مغربی ساحل پر واقع قبائل“بنو ضمرہ، جہینہ، بنو غفار،مزینہ اوراشجع” وغیرہ جوقریش کے تجارتی قافلوں کی گذرگاہ تھےان سے سیاسی معاہدات شروع کردیے تاکہ قریش کا معاشی استحصال ہو اور ان کی نقل وحرکت سے باخبر رہاجاسکے۔آپﷺ کے اس سیاسی عمل نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ کا میاب خارجہ پالیسی داخلی استحکام کے مرہون منت ہوتی ہے۔

عام معافی نامہ:
فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ کے تاریخ ساز الفاظ : ”لا تثریب علیکم الیوم”آج تم پر کوئی الزام نہیں تم آزاد ہو ”سیاسی فراست کامظہر ہیں، اسی کا ثمر ہے کہ مکہ مکرمہ تادم تحریر مسلمانوں کے زیر تسلط ہے۔

سفارتی مہم کا آغاز:
خیبر اور مکہ کے زیر ہوتے ہی آپﷺ نے مملکت اسلامیہ کی حدوود بڑھانے اور آفاقی دین لوگوں تک پہنچانے کے لیے سفارتی مہم کا آغاز کیا۔ سلاطین کے نام دعوتی خطوط ارسال کیے۔

عوام سے رابطہ:
آپﷺ نے اللہ کے حکم سے مختلف قبائل سے رشتہ داری قائم فرمائی۔ کامیاب حکمران کا اپنی رعایا سے رابطے میں رہنا ضروری تھااور رشتہ داری سے زیادہ رابطے کی کوئی م ¶ثر صورت ہو نہیں سکتی۔

حضور ﷺ کی داخلی وخارجی سیاست کے زَرِّیں اصول

دشمنوں کا دل موہ لینا:
سورة التوبة آیت نمبر 60 میں مال کے خرچ کی مَدَّات میں ایک مَدّ”وَال ±مُ ¶َلَّفَةِ قُلُوبُہُم”ہے:”کسی علاقے یا ملک کے باشندوں پر مسلم حکمران کا اس لیے مال خرچ کرنا کہ وہ اسلام کی طرف راغب ہوجائیں“۔ فتح مکہ سے قبل قحط سالی کے زمانے میں آپﷺ نے پانچ سو اشرفیوں کی خطیر رقم غریب ونادار لوگوں میں تقسیم کی۔

عہد وپیمان کی پاسداری:
صلح حدیبیہ کے عہد نامہ میں ایک شق یہ تھی کہ اگر مکہ کا کوئی باشندہ مسلمان ہوکرمدینہ آئے تو اسے اہل مکہ کے سپردکردیا جائے۔ بظاہر اس شرط کی پاسداری محال تھی، اس کے باوجود آپﷺ نے اس پر عمل کرتے ہوئےابو جندل بن سہیل کو صبر کی تلقین فرماکر کفار کے حوالے کردیا۔

اقلیتوں کی خودمختاری:
 یہودی زانی اور زانیہ کا مقدمہ جب اسلامی عدالت میں پیش ہوا تو آپﷺ نے یہود کی مذہبی خود مختاری کا لحاظ رکھتے ہوئےتوریت کے مطابق ان پرسزا نافذ کی۔

متفقہ بات کی دعوت دینا

سیاسی ہم آہنگی اور بین الاقوامی معاملات کی خوشگواری کےلیےآپﷺنے اپنے اور دوسری اقوام کے“مشترکہ امور ” کو مد نظر رکھتے ہوئےدعوت دین کا آغازکیا۔

شجاعت وبہادری:
سیاسی معاہدات میں جہاں شفقت،نرمی اور حسن سلوک کا برتا ¶ کیا،وہاں بوقت ضرورت سختی وبہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا رعب بھی قائم رکھا۔غزوہ خندق کے بعد فتح خیبر میں یہودکی ریشہ دوانیوں کی بناپر ان کے ساتھ سختی سے پیش آنااور منافقین کی مسجد ضرار کو نیست ونابودکرنااس کاواضح ثبوت ہے۔
معاشی و معاشرتی نظام اصول:
کسی بھی ریاست کے حصول دولت کے درج ذیل ذرائع ہوتے ہیں: مال غنیمت، خراج، جزیہ، فَے، تجارت، کاشتکاری،

محصول، عطیات اور صدقات و زکٰوة۔آپﷺ نے نہ تو کسی پر ناجائز ٹیکس لگایا اور نہ ہی امراءکی دولت چھین چھین کر غرباءمیں تقسیم کی گویا نہ تو سرمایہ دارانہ نظام قائم کیا اور نہ ہی سوشلزم بلکہ ایسا نظام مرتب کیا جس سے نہ صرف طبقہ غرباءکا تالیف قلب ہوا بلکہ طبقہ امراءکو بھی ریلیف ملا۔ آپ نے زکٰوة و صدقات اور عشر کا تصور دیا۔ مال غنیمت میں ہر مسلمان کو حصہ دار بنایا اور جزیہ و خراج اور مالِ فے ریاست کی بھلائی کے لیے استعمال کیا۔ نیز تجارتی مسائل کے حل کے لیے بازار کے نگران مقرر کیے۔

نیز بعثت سے قبل ہی آپ ﷺ اپنی اعلی صفات کی بنیاد پر اس منصب کے اہل ہوچکے تھے۔حجر اسود کی تنصیب کا حکیمانہ فیصلہ،جس سے تمام قبائل خونریزی سے بچ گئےاس کا منہ بولتاثبوت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی دس سالہ حکومت میں معاشرے میں رونما ہونے والے ہر قسم کے مسائل کا تسلی بخش حل پیش کیا۔ آپﷺ کی حیثیت محض قاضی ہی کی نہیں بلکہ شارع اور مقنن کی بھی ہے۔ اس لیے آپ کے فیصلوں کوناقابل ترمیم قانون کی حیثیت حاصل ہے۔ خلفاءراشدین، صحابہ وتابعین غرض امت کے مقتدر طبقات نے عدالتی نظام میں آپﷺ کے فیصلوں سے استفادہ حاصل کیا۔

آپﷺ نےبہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے سیاسی و سماجی اصطلاحات پر عمل کرکے ایک بہترین مملکت قائم کی جہاں عدل و انصاف کو مقدم رکھا گیا اور عوام کے جملہ حقوق محفوظ رکھے گئے۔ حکمران ہونے کے باوجود مساوات سے معاشرے کو توازن میں رکھا اور رہتی دنیا تک ایک ایسی ریاست قائم کی جہاں دین الہی کے احکام کو رائج کیا گیا اور اسلامی مملکت کی بنیاد ڈالی گئی۔