سائنسی علوم کو فروغ دو (  حسب منشا ) تحریر : منشاقاضی

106

قومیں زمین پر باوقار زندہ وھی رہ سکتی ھیں جو فراست کی دولت سے مالا مال ھوں اور حکمت و دانائی کے اوصاف حمیدہ سے لیس اور فنون و علوم سے آراستہ ھوں ۔ آبادی کی کثرت سےکوئی قوم بڑی قوم نہیں بنتی ۔ تعداد سے زیادہ استعداد ھی قوموں کا سرمایہ ء حیات ھوتی ھے ۔ میری عقل دنگ رہ گئی اور فکر بیرنگ رہ گئی جب مجھے معلوم ھوا کہ اس کرہ ء ارض پر ایک ایسا ملک بھی ھے جو آبادی کے لحاظ سے صرف 85 لاکھ نفوس پر مشتمل ھے اور یہ 85 لاکھ اربوں پر فائق کیوں ھیں ؟ کیا ان کی چار آنکھیں ، چار کان ،اور چار دماغ ھیں ، نہیں بالکل ھماری طرح ھی کے انسان ھیں مگر ان کو اس وقت دنیا کی ساری سہولتیں اور ضرورتیں خود دست بدستہ آداب بجا لا رھی ھیں سائنسی علوم ان کے گھر کا پانی بھرتا ھے اور دنیا کی ھر آسائش انکی نوکر ھے ۔ بڑے بڑے ملکوں کے حکمران ان کے چاکر ھیں ۔کیا بات ھے ان کے پاس کونسی کرشماتی اور طلسماتی قوت ھاتھ لگ گئی ھے ۔ کیا ھمارے ھاں ایسے دماغ نہیں ھیں جنہیں نابغہ ء روزگار کہا جاتا ھو ۔

"وبا ء کے دنوں میں کتب بینی ” تحریر:اختر سردار چودھری

 

آپ حیران ھو جائیں گے جب تمہارے علم میں اس ملک کا کل رقبہ صرف 22000 ھزار ایک سو 45 کلو میٹر پر محیط سنے گے مگر اس کی سوچ اور فکر کا رقبہ لا محدود ھے ۔اس کی پرواز کے سامنے بڑی بڑی قوتوں کی پرواز گرد راہ ھو کر رہ گئی ھے ۔ اس وقت اس ملک کا وزیر اعظم اپنی ترقی کے گھمنڈ اور غرورمیں رقصاں ،فرحاں اور شاداں ھے اس کی مسرت آلود فکر کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت ایک طرف دنیا حالات کی سنگینی اور واقعات کی بےرحم کرونا وار کی زد میں ھے اور دوسری طرف اس ملک کا وزیر اعظم سنگین حالات کے بطن سے اپنی قوم کے لیئے رنگین مستقبل کے خواب نہیں دیکھ رھا تعبیروں کو شرمندہ کر رھا ھے.
یہ ساری کامیابیاں اور کامرانیاں میرے نزدیک طاغوطی قوتوں کے محرک اسرائیل کو حاصل ھیں جس نے مومن کی فراست حکمت اور دانائی کو اپنی میراث سمجھ کر جدید عہد کے ابلاغی ویپنز پر پوری دنیا میں قبضہ کر رکھا ھے ۔ ھمارا میڈیا اس ملک کی مرضی و منشا کے خلاف نہیں بول سکتا ۔ ھم نے اپنی عبقری شخصیات کی صلاحیتوں ۔ ذھانتوں اور فطانتوں پر پہرے لگا رکھے ھیں ھمارے دیدہ وروں کے لیئے آزمائش ھی آزمائش ھے

"تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا” تحریر : علی رضا رانا (حیدرآباد سندھ)

 

ھمارے عظیم ھیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدان کے ساتھ ھم نے کیا سلوک کیا ھے جن کی بصیرت و بصارت کا لوھا نہ صرف مغرب مانتا ھے بلکہ پوری دنیا تسلیم کرتی ھے ۔ اس لیئے مومن کی فراست سے ڈرو تم کرونا سے ڈرتے ھو مومن کی نگاہ تا حد ادراک تک رسائی رکھتی ھے ۔ ھمارے حقیقی راھنما سیاستدان نہیں سائنسدان ھیں کیونکہ سائنس انسان کی سچی راھنما ھے ۔ سائنسی علوم دریافتوں ۔ ایجادوں اور محیرالعقول انکشافات و نظریات کو جنم دیتے ھیں ۔ اگر آپ کائنات کی اصل حقیقت اپنے اوپر روشن دیکھنا چاھتے ھو تو سائنس کا علم عام کرو ۔ ھم نے اس علم کا دائرہ جب سے محدود کیا ھے ھم بیچارگی اور تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رھے ھیں ۔ گذشتہ روز میری حیرت کی انتہا نہ رھی جب میں نے اپنے ھمدم دیرینہ کی تحقیقی کاوش کا حقیقی منظر نامہ میری نگاھوں کے سامنے گھوم گیا تو میں الللہ کے حضور سجدہ ء ریز تشکر ھو گیا کہ نا امیدی کفر ھے اور اقبال کا شعر گنگنا اٹھا کہ ۔۔ نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ۔۔ ذرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی ۔۔انڈس فاونڈیشن کے سربراہ دین و دنیا سے آگاہ پروفیسر سید سجاد حیدر شاہ کا آئی ٹی اور تحقیق و جستجو کے شعبے میں ھوم ورک ھمالہ صفت ھے اور وہ تحقیق و جستجو کے میدانوں میں اپنے گھوڑوں کو چاق و چوبند رکھے ھوئے ھیں ۔

 

رقصِ بسمل (خصوصی تحریر ) تحریر: محمد فاروق عزمی

 

فاونڈیشن کے اغراض و مقاصد پر جتنا بھی.غور کرتا چلا گیا شعور و ادراک کے باب کشا ھوتے چلے گئے۔ اور میرے دل سے جوانوں کے راھنما پروفیسر سید سجاد حیدر شاہ کے لیِے دعاوں کی آبشار نور کہکشاں میں بدل گئی ۔ میں نے محسوس کیا کہ فنی محاسن اور کامیابیاں فلک سے نازل نہیں ھوتیں اگر ھم خرد دشمنی اور تعصب کا خاتمہ کرنا چاھتے ھیں تو سائنسی علوم کے لیئےھمیں سید سجاد حیدر شاہ اور ان کی پوری ٹیم کے نہ صرف ھاتھ مضبوط کرنے ھیں بلکہ ان کے پاوں بھی مضبوط کرنے ھوں گے کیونکہ پاوں کی مضبوطی کا تعلق ثبات قلب سے ھے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ سائنس کا مطالعہ اور تحقیق لوگوں کے ذھنوں میں سماجی اور سیاسی تصورات کو نکھرنے میں مدد دیتا ھے اور جہالت کے اندھیروں کو جنوں سے رھا کرا دیتا ھے ۔ اس وقت انڈس فاونڈیشن کا طرز فکر سائنسی ھے اور یہ فکر جزباتی نہیں ھوتا یہ خاموش عمل ھوتا ھے جس کی تقلید خود بخود لوگ کرتے چلے جاتے ھیں ۔ اور پھر آپ نے ہہ بھی دیکھ لیا کہ سائنسی طرز فکر رکھنے والے عالی ظرف ھوتے ھیں وہ متعصب نہیں ھوتے ۔ان کی حب الوطنی کسی شک و شبہ سے بالا تر ھوتی ھے ۔

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے۔(طنزومزاح) تحریر:فوزیہ سعید (ماہر نفسیات)

 

میں نے انڈس فاونڈیشن کے پلیٹ فارم سے بڑی بڑی نابغہ ء عصر شخصیات کو گفتگو کرتے سنا ھوا ھے جن میں محترمہ سیدہ عارفہ جو بولتی نہیں موتی رولتی ھے بلبل ھند کی صدائے باز گشت ھے دلائل و براھین سے آراستہ بلاغت کے دریا بہا دینے والی عارفہ بولتی رھے اور ھم سنتے رھیں ۔اسی طرح ڈاکٹر شازیہ شہزادی کا بھی زور تکلم تابناک مستقبل کی کرنوں سے مزین و آراستہ محسوس ھوتا ھے کہ آپ کے وہ الفاظ تحفہ ھیں جو دوسروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ھیں اور واقعی حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ھیں ۔ پروفیسر ایم اے رفرف کی لطف گفتار کے ھم سبھی شکار ھیں وہ جب چاھیں ھنسا دیں اور جب چاھیں رلا دیں سامعین ان کی مٹھی میں اور وہ خود اوج ثریا سے بھی آگے محو حیرت کر دینے والی طلسماتی شخصیت کے مالک ھیں میں نے رفرف سے رفتہ رفتہ بہت آھستہ آھستہ سیکھا ھے وہ ھمارے حقیقی مصلح قوم ہیں آپ کی جو لوگ قدر کر رھے وہ اپنی قدر کرتے ھیں ۔یامین صدیقی کانام صورت گری کے حوالے سے ھی ذھنوں پر ابھر کر نہیں آتا وہ کیمرے کی آنکھ کے علاوہ بھی اپنی چشم بینا رکھتے ھیں ۔ آپ شاہ جی کی صلاحیتوں کے بہت بڑے مداح اور دوستوں کے خیر خواہ ھیں

کورونا وائر س کہیں دجالی سازش تو نہیں؟ تحریر:ظفر اقبال ظفر

فہد عباس جواں سال ماھر تعلیم زیکاس سکول ۔ سیدہ عابدی ۔ علی رضا نقوی ۔ پروفیسر خورشید رضوی ۔ عامر عطا خان ۔ قاضی نعیم ۔ طاھرہ صاحبہ جناب شمسی ۔ علی رضا رضوی ۔ پروفیسر زینت آفاق ۔ سحرش یہ وہ عبقری قافلہ ء نو بہار ھے جو پروفیسر سید سجاد حیدر شاہ کی جواں سال قیادت میں خزاں کو سازگار کر رھے ھیں انڈس فاونڈیشن کے کثیر المقاصد منصوبہ جات کی تکمیل سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرامودات کی عملا تعمیل ھو گی ۔ پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ کے صدر ارشد نسیم بٹ کے پر زور اصرار پر خامہ فرسائی کی گئی ھے اور انشاءالللہ وہ وقت دور نہیں ھے جب سائنسی علوم کے جگمگاتے ستارے پاکستان کے آسمان پر ماہ کامل بن کر دمکیں گے ۔ سید سجاد حیدر شاہ ملت پاکستانیہ کے محسن اور اقبال کے شاھین ھیں آپ نے شاعر مشرق کی روح کو تسکین کا سامان فراھم کیا ھے

کروناوائرس اورجڑی بوٹیوں کی چائے کی اہمیت تحریر: حکیم احمد حسین اتحادی

۔ جو عالم ایجاد میں ھے صاحب ایجاد
۔ ھر دور میں کرتا ھے طواف اس کا زمانہ ۔..
تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
۔۔ کر اس کی حفاظت کہ یہ گوھر ھے یگانہ
۔اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک ۔
ھے جس کے تصور میں فقط بزم شبانہ ۔۔
لیکن مجھے ڈر ھے کہ یہ آوازہ ء تجدید ۔
مشرق میں ھے تقلید فرنگی کا بہانہ

کرونا وائرس: آزمائش انسانیت اور ہماری ذمہ داریاں ! تحریر: رائے محمد نذیر

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد کی سربراھی میں جامعات کے وائس چانسلروں پر کمیٹی بنی ھے جو قرآن کریم کو ترجمعہ کے ساتھ طالب علموں کو پڑھانے پر عمل کروائے گی یہ کام قیام پاکستان کے وقت سے ھی ھو جانا چاھیئے تھا قائد یونیورسٹی تو ایک طویل عرصے سے قرآن میں غوطہ زن ھے اور آج ان کا سائنسی طرز و اسلوب قرآن کریم کے غور و فکر کا رھین منت ھے ۔ ڈاکٹر نصیر احمد ناصر اور موجودہ سائنسدان بشیر الدین کے تراجم اکسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرتے ھیں ۔۔ ڈاکٹر نیاز احمد انڈس فاونڈیشن کے عبقری سربراہ سید سجاد حیدر شاہ کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں ۔۔
انڈس فاوںڈیشن کی پوری ٹیم کو سلیوٹ ۔۔آخر میں آو یک زبان ھو کر پکار اٹھیں ۔۔۔۔کہ ۔۔۔۔
اگر ھمارے نصیبوں میں نو بہار نہیں ۔۔۔
آؤ چمن پرستوں خزاں ھی کو ساز گار کریں۔

 

”تم پھرحکومت کرلینا“ تحریر:امتیازعلی شاکر