درس قرآن ( قسط نمبر-14 ) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش

سورۂ کہف پڑھنے سے گھر میں سکون اور برکت نازل ہوتی ہے

64

سور ہ کہف 18 کلام مجید کا خطاب انسانوں سے ہے اور انسان کی جبلت میں یہ بات ہے کہ یہ مثالوں اور واقعات سے بات اچھے سے سمجھ جاتاہے چنانچہ انسان کی نفسیات اور مزاج کو روا رکھتے ہوئے کتاب مبین میں بھی واقعات اور قصص کے ذریعے انسان کو انسانیت اور اسلام کا پیغام سمجھا یا گیا۔آئیے ہم ایک سورۃ جس میں ایک بہترین واقع ذکر کیاگیا۔اس کے بارے میں جانتے ہیں ۔

 

سورۃ کہف  مکۂ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، تفسیر سورۃ الکھف، ۳/۱۹۶۔)

 اس سورت میں 12 رکوع، 111 آیتیں ، 1577 کلمے اور 6360 حروف ہیں۔(خازن، تفسیر سورۃ الکھف، ۳/۱۹۶۔)

 

ایک سوال ذہن میں پید اہوسکتاہے کہ اس سورۃ کو سورۃ کہف آخر کہتے کیوں ہیں ۔آئیے اس کے بارے میں بھی جانتے ہیں ۔کہف کا معنی ہے پہاڑی غار ، اور اس سورت کی آیت نمبر 9 تا 26 میں اصحاب ِ کہف یعنی پہاڑی غار والے چنداولیاءِ کرام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’ سورۂ کہف‘‘ رکھا گیا۔(صاوی، سورۃ الکہف، ۴/۱۱۷۹۔)

 

سورۂ کہف پڑھنے سے گھر میں سکون اور برکت نازل ہوتی ہے، چنانچہ حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سورۂ کہف پڑھی، گھر میں ایک جانور بھی تھا ، وہ بدکنا شروع ہو گیا تو انہوں نے سلامتی کی دعا کی (اور غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے؟ تو) انہیں ایک بادل نظر آیا ، جس نے انہیں ڈھانپ رکھا تھا، ان صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس واقعہ کا ذکر جب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کیا، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، اے فلاں! قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے رہا کرو، وہ بادل سکینہ تھا جو قرآنِ مجید کی وجہ سے نازل ہوا۔(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲/۵۰۴، الحدیث: ۳۶۱۴۔)

 

اب ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اس سورۃ کا مطالعہ کریں تو ہمیں کس قسم کا مواد اور مضامین ملیں گے ۔تو آپ کی آسانی کے لیے ان مضامین کو اجمالا بیان کردیتے ہیں ۔

سورۂ کہف کے مضامین:

 

اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َسے اَصحابِ کہف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں کئے گئے کفار کے سوالات کا جواب دیا گیا ہے ، چنانچہ آیت نمبر 9 سے لے کر 26 تک اصحابِ کہف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اس واقعے میں ان لوگوں کے لئے ایک بہترین مثال ہے جو اپنے دین اور عقیدے کی حفاظت کے لئے اپنا وطن، عزیز رشتہ دار، دوست اَحباب اور اپنا مال چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اصحابِ کہف چند نوجوان مسلمان تھے جو کہ بت پرست بادشاہ سے اپنے دین کی حفاظت کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر ایک غار میں پناہ گزیں ہو گئے تھے، اور آیت نمبر 83 سے لے کر 99 تک حضرت ذوالقر نین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ بیان کیاگیا اور اس واقعے میں بادشاہوں اور حکمرانوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت ہے کیونکہ حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حکمرانی مشرق سے لے کر مغرب تک تھی اس کے باوجود وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ، اس کے احکام کی اطاعت کرنے والے ، اپنی رعایا سے شفقت و مہربانی کے ساتھ پیش آنے والے اور ان کے ساتھ عدل وانصاف کرنے والے تھے۔ اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔

 

(1) …اس کی ابتداء میں قرآنِ مجید کے اوصاف بیان کئے گئے کہ یہ عدل والی اور مستقیم کتاب ہے اور مسلمانوں کو جنت کی بشارت دینے اور کافروں کو جہنم کے عذاب کی وعید سنانے کے لئے نازل ہوئی ہے۔

(2) …یہ بیان کیا گیاہے کہ کفار کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس قدر غمزدہ ہوا کرتے تھے۔

(3) … اصحابِ کہف کا واقعہ بیان کر کے حق ظاہر کرنے کے بعد کفار کی سرزنش کی گئی اور وہ عذاب بیان کیا گیا جو انکے لئے تیار کیا گیا ہے ۔

 

(4) …ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کی جزا جنت اور اس کی نعمتوں کو بیان کیاگیا ہے۔

(5) …ایک امیر آدمی جو کہ متکبر اور کافر تھا اور ایک غریب آدمی جو کہ مومن تھا ان کا واقعہ بیان کیا گیا تاکہ مسلمان اپنی تنگدستی کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور کافر اپنی دولت کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں۔

(6)…دنیوی زندگی کی ایک مثال بیان کی گئی ۔

 

(7) …فرشتوں کے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سجدہ کرنے اور شیطان کے سجدہ نہ کرنے کا واقعہ بیان کیاگیا۔

(8) …آیت نمبر 60 سے لے کر 82 تک حضرت موسیٰ اور حضرت خضرعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا۔

(9) …آخرت میں کفار کے اعمال برباد اور ضائع ہونے کا اعلان کیا گیا۔

(10) …نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو ابدی نعمتوں کی بشارت دی گئی ۔

(11) …آخر میں یہ بیان کیاگیا اللّٰہ تعالیٰ کے علم کی کوئی حد اور انتہاء نہیں۔

 

ہے نا معلومات کی بات ۔ہم عزم رکھتے ہیں کہ مختصر اور جامع انداز میں آپ تک قرآن مجید کی معلومات پہنچا سکیں ۔تاکہ وقت کا دامن کشادہ نہ ہونے کا عذر پیش کرکے راہ فرار اختیار نہ کی جائے ۔بلکہ کم وقت میں زیادہ معلومات کا حصول ممکن ہوسکے اور ہم کتاب مبین سے خوب تر فیضیاب ہوسکیں ۔یہ اے کریم ہمیں اخلاص کی دولت سے بہرہ مند فرما۔علم کے لیے ہمارے سینے کو کشادہ اور ہمارے وقت میں برکت عطافرما۔آمین

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ:قارئین:ہمیشہ سلامت رہیں ۔قرآن سیریز کو ہم لے کر چل رہے ہیں ۔آپ ہمیں ہردل عزیز ہیں آپ تک درست معلومات اور تحقیقی مواد پہنچانا ہم اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ۔چنانچہ آپ کو علمی میدان میں کسی بھی طور پر کوئی پریشانی لاحق ہوتو آپ ہم سے رجوع کرسکتے ہیں ۔ہمارا رابطہ نمبر :03462914283/////////ای امیل :insandost1122@gmail.com/////