درس قرآن ( قسط نمبر-16 ) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش

عربی میں شہد کی مکھی کو’’نحل ‘‘کہتے ہیں ۔ اس سورت کی آیت نمبر 68 میں اللّٰہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا

61

سورۃ نحل 16 شہد کا لفظ سن کر منہ میں ایک مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے پھر جب اس کے فضائل اور فوائد سنتے ہیں تو یوں لگتاہے کہ شہد تو قدرت کا عظیم شاہکار ہے ۔میرا دین کس قدر پیارا دین ،میرے دین کی عظیم الہامی کتاب کلام مجید کس قد ر عظمت والی کتاب ہے کہ جس میں ہر خشک و تر موجود ہے ۔مزے کی بات یہ کہ کلام مجید میں شہد کا ذکر بھی ہے نہ صرف ذکر بلکہ شہد (نحل کے نام سے)مکمل ایک سورۃ موجود ہے ۔آئیے اس سورۃ کے بارے میں جانتے ہیں ۔

 

سورۂ نحل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے ، البتہ آیت ’’فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ‘‘ سے لے کر سورت کے آخر تک جوآیات ہیں وہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئیں ،نیز اس بارے میں اور اَقوال بھی ہیں۔ 

(…خازن، تفسیر سورۃ النحل، ۳/۱۱۲۔)

  اس سورت میں 16رکوع ، 128آیتیں ، 2840 کلمے اور 7707 حروف ہیں۔ 

(خازن، تفسیر سورۃ النحل، ۳/۱۱۲۔)

 

عربی میں شہد کی مکھی کو’’نحل ‘‘کہتے ہیں ۔ اس سورت کی آیت نمبر 68 میں اللّٰہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ نحل‘‘ رکھا گیا۔

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ قرآنِ پاک کی سورۂ نحل میں ایک آیت ہے جو کہ تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے اور وہ یہ آیت ہے

’’اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ‘‘ (نحل:۹۰)

 

ترجمہ: بیشک اللّٰہ عدل اور احسان اور رشتے داروں کو دینے کا حکم فرماتا ہے اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

(معجم الکبیر، عبد اللّٰہ بن مسعود الہذلی، ۹/۱۳۲، الحدیث: ۸۶۵۸۔)

حضرت ہَرِم بن حَیَّان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کی وفات کا وقت قریب آیا توان)سے لوگوں نے عرض کی: آپ کوئی وصیت فرما دیجئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: میں تمہیں سورۂ نحل کی اس آیت’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ‘‘ سے لے کر سورت کے آخر تک (بیان کی گئی باتوں) کی وصیت کرتا ہوں۔

 

 (دارمی، کتاب الوصایا، باب فضل الوصیۃ، ۲/۴۹۶، روایت نمبر: ۳۱۷۹۔)

ا س سورت ِ مبارکہ کی بہت پیاری خصوصیت یہ ہے اس میں بڑی کثرت کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، حکمت اور وحدانیت پر دلائل دئیے گئے ہیں۔ اگر کثرت سے اس سورت کو سمجھ کر پڑھا جائے تو دل میں اللّٰہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت کا اضافہ ہوتا ہے۔ نیز اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان بہت کثرت کے ساتھ ہے ، اگر ان نعمتوں کے بارے میں بار بار غور کریں تو دل میں شکر ِ الٰہی کا جذبہ بیدار ہوگا اور محبت ِ الٰہی میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ا س سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔

 

() …جانوروں سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کئے گئے۔

() …جنہوں نے دنیا میں نیک کام کئے انہی کے لئے آخرت کی بھلائی ہے۔

() … فرشتے کفار کی جان کس طرح نکالتے ہیں اور متقی مسلمانوں کی جان کس طرح نکالتے ہیں۔

() … نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اَذِیَّت دینے والے کفارِ مکہ کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا۔

 

() …بیٹی کی ولادت پر کفار کا طرزِ عمل بیان کیا گیا۔

() …حشر کے میدان میں کفار کی بری حالت ذکر کی گئی ۔

() …عہد پورا کرنے اور قسمیں نہ توڑنے کا حکم دیا گیا۔

()…قرآنِ پاک کے بارے میں کفار کے شبہات کا رد کیا گیا۔

()…حالت ِاِکراہ میں کلمۂ کفر کہنے والے کا حکم بیان کیا گیا۔

() …اپنی طرف سے چیزوں کو حلال یا حرام کہہ کر اس کی نسبت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کرنے کی ممانعت فرمائی گئی۔

 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمختصر اور جامع انداز میں قرآنیات کا فہم عام کرناہمارا عزم ہے ۔مصروفیت کے اس سفر میں کسی کے پاس وقت نہیں ۔مادیت کے گہرے بادل نے حقانیت اور حقیقت کو مخفی رکھا ہواہے ۔لیکن ہم حق کی بات اور نفع کی بات کرتے رہیں گے ۔کیونکہ ہم کہہ چکے ہیں ۔

 

ہم دے رہے ہیں دعوتِ حق جو چاہے ہمارے ساتھ چلے  ہم روک رہے ہیں باطل کو جوچاہے ہمارے ساتھ چلے 

 

نوٹ:آپ ہمارے پیارے سلامت تاقیامت رہیں ۔جو سیکھیں وہ نیکی اور بھلائی کی نیت کے ساتھ دوسروں تک ضرور پہنچائیں ۔مذید طب ،نفسیات ،کیرئیر پلاننگ اور مذہب کے حوالےکسی قسم کی رہنمائی درکار ہوتو آپ ہم سے بلاجھجک رابطہ کرسکتے ہیں ۔

رابطہ نمبر :03462914283///وٹس ایپ:03112268353