درس قرآن ( قسط نمبر-18 ) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش

حقیقی معبود وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پوری کائنات میں ا س کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے

35

سورۃ ابراہیم 14

2020کس قدر آزمائش کا وقت ہے ۔چہار سو فتنے اور مصائب کی بھرمار ہے ۔کرونا نامی مرض نے پوری دنیا کو بے بس کردیا۔دنیا کے ہر حربے بے سود ۔بے بس انسان کو اس کی اوقات کا اندازہ ہوگیا۔اس کی ٹیکنالوجی اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔انسان یہ ماننے پر مجبور ہوگیا کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو مخفی ہے اور اس کائنات کا نظام چلا رہی ہے ۔اور تمام تعریفیں اور ثنا اسی کی ہے ۔لیکن دوسری جانب مذہب پر شب خون مارنے والوں کی بھی کمی نہیں ۔قرون اولی سے لیکر ابھی تک اسلامی تاریخ کے روشن دریچوں کو مسخ کرنے کے لیے فتن پرور طاقتیں سرچڑھ کر بو ل رہی ہیں ۔وہ جسے مذہب اور مذہبی  کی اساس سے کچھ انسیت نہیں ہے وہ بھی مولوی ،مذہب ،اساس دین پر تبصرے کرتا پھرتاہے ۔بضد اس قدر ہے کہ دلیل اور دلائل و براہین بتانے پر بھی اپنی بات پر اٹل ہے گویا کوا سفید ہے ۔الامان والحفیظ ۔

آپ میرے پیارے ہیں آ پ تک درست اور تحقیق شدہ علم پہنچانا میں اپنا قلمی قرض اور دینی فرض جانتے ہوئے بتدریج کوشش کررہاہوں ۔میں کس قدر کامیاب ہوایہ آپ کی دعائیں بتائیں گیں ۔آئیے :ہم وقت ضائع کیے بغیر قرآن مجید کی سورۃ ابراہیم کے متعلق رب کے پیغام کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

سورۂ ابراہیم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی البتہ اس کی یہ آیت ’’اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعْمَتَ اللہِ کُفْرًا‘‘ اور اس کے بعد والی آیت مکہ مکرمہ میں نازل نہیں ہوئی ۔ (خازن، تفسیر سورۃ ابراہیم۔۔۔ الخ، ۳/۷۳۔)

 اس سورت میں 7رکوع، 52 آیتیں، 861 کلمے اور 3434 حروف ہیں۔ (خازن، تفسیر سورۃ ابراہیم۔۔۔ الخ، ۳/۷۳۔)

اس سورت کی آیت نمبر 35 تا 41 میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اطاعتِ الٰہی کے حسین واقعے اور آپ کی دعاؤں کو بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ ابراہیم‘‘ رکھا گیا۔

اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر ایمان لانے کو دلائل کے ساتھ ثابت کیاگیا اور یہ بتایاگیا ہے کہ حقیقی معبود وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پوری کائنات میں ا س کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔

(1) …کفار کی مذمت بیان کی گئی اورکفر کرنے پر انہیں شدید عذاب کی وعید سنائی گئی اور مسلمانوں سے ان کے نیک اعمال کے بدلے جنت دینے کا وعدہ کیا گیا۔

(2) …حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کے

ــــــبعد والے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے واقعات بیان کر کے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی اور ان قوموں پر نازل ہونے والے عذابات سے کفار ِمکہ کو ڈرایا گیا۔

(3) … خانۂ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مکہ والوں کے لئے امن اور رزق کی،لوگوں کے دل خانۂ کعبہ کی طرف مائل ہونے کی ،اپنی اولاد کے بتوں کی پوجا سے بچنے کی،اپنی اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق دینے کی ،اپنی ،اپنے والدین اور مسلمانوں کی مغفرت کی جو دعائیں مانگیں وہ بیان کی گئیں۔

(4) …ایمان اورکلمۂ حق کی مثال پاک درخت سے جبکہ گمراہی اور کلمۂ باطل کی مثال خبیث درخت سے بیان کی گئی۔

(5) …قیامت کی ہولناکیاں بیان کر کے نصیحت کی گئی اور ظالموں کے لئے مختلف قسم کے عذابات بیان کر کے انہیں ڈرایا گیا۔

(6) … قیامت کے دن تک عذاب مؤخر کرنے کی حکمت بیان کی گئی۔

یااللہ !!تو ہمیں دنیا کے فتنوں سے محفوظ فرما۔ہم پر حق کو واضح فرمااور ہمیں اپنے مقبول بندوں میں شمار فرما۔ہماری آتی نسلوں کو حق بجانت گامزن رکھنا۔آمین 

نوٹ:پیارے قارئین:ہمیشہ سلامت رہیں ۔کاروان علم و دانش کی اس کوشش میں ہمارے دست راست بنیں ۔ہمیں آپ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔

رابطہ نمبر:03462914283//////وٹس ایپ:03112268353۔۔۔۔۔ای میل :insandost1122@gmail.com