عالمی وبا ٕ کرونا وائرس کا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں ! تحریر : نوید احمد یوسفزٸی

32

ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبر پختون خواہ کے ضلع شانگلہ میں کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایک طرف کئی دنوں سے مسلسل لاک ڈاؤن کیا جارہاہے جس کے دوران لوگوں کو گھروں میں رہنے اور باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی جارہی ہے تاہم اس کے باوجود بھی لوگ صبح اشیائے ضروریات خریدنے کیلئے گھروں سے نکلتے ہیں اورقریبی بازارو سے خریداری کرکے واپس چلے جاتے ہیں،

اللہ ”خالق و مالک“ ! تحریر : راشدہ سعدیہ

 

تو دوسری طرف ضلعی انتظامیہ نے زبر دست احتیاط اور بالغ نظری کا مظاہر ہ کرتے ہوۓ تمام اداروں کو متحرک کیا ہے ڈپٹی کمشنر شانگلہ عمران حسین رانجھا ۔تمام تحصیلوں کے اے سی صاحبان ۔ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان خان۔فوکل پرسن فار کرونا ڈاکٹر محمد واجد علی خان۔ڈی ایچ کیو ہسپتال الپوری کے ایم ایس ڈاکٹر شفیع الملک خان ۔ایمرجنسی ایم ایس ڈاکٹر منصور ۔فوکل پرسن ڈی ایچ کیو ہسپتال فار کرونا ڈاکٹر شبیر احمد ۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ ملک اعجاز احمد ۔تمام تحصیلوں کے ڈی ایس پیز صاحبان ۔اور ایس ایچ اوز سمیت تمام شانگلہ کے پولیس ۔

"میرے پاس تم ہو”

 

ٹی ایم ایز ۔محکمہ بلدیات کے اہلکار۔پاکستان ہلال احمر شانگلہ برانچ ۔اور میڈیا کے نمایندگان نے شانگلہ میں کرونا کے خطرات کم کرنے ۔عوام کو آگاہی دینے اور بروقت ریسپانس دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں جو لایق تحسین ہیں ۔کیونکہ شانگلہ ملاکنڈ ڈویژن میں کرونا کےخطرے کے حوالے سے سب سے حساس ضلع ہے شاہراہ قراقرم یہاں سے گزرنے کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں چاینیز یہیاں بشام میں موجود ہوتے ہیں دوسری طرف بشام ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کا سنٹر پواٸنٹ کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان تک جانے والی مسافروں ۔سیاحوں کا قیام گاہ بھی ہے۔ ضلع شانگلہ میں اس طرح اس لاک ڈاؤن سے مختلیف طبقات متاثر ہورہے ہیں اس سے کہیں زیادہ لیبر طبقہ بریطرح متاثرہورہاہے ملک کے مختلیف کویلہ کانوں میں کام کرنے والے شانگلہ کے ہزاروں کانکن پھنس کے رہ گۓ ہیں اور وہ اپنی بچوں کی پیٹ پالنے کے خاطر کویلہ کانوں کا رخ کرچکے ہیں انکے مزدروری رکھ جانے سے انکے گھروں میں فاقوں کا خدشہ ظاہر ہورہا ہے ۔ یہ وہ لوگ جو روزانہ کی بنیاد پر دہاڑی کرکے اہل خانہ کیلئے روزی روٹی کماتے ہیں مگرمسلسل لاک ڈاؤن سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑجانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے،

 

سب کو ایک کرنے والی جنگ ! تحریر : مریم چودھری

حقیقت یہ ہے کہ موجود ہ وقت میں لاک ڈاؤن حالات کا اہم ترین تقاضاہے جس کے ہم نہ صرف حامی ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ لوگ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں سے باہر نہ نکلے اورحفاظتی تدابیر پر عمل کریں مگرحکومت کی توجہ اس طرف ضرورمبذول کرائیں گے کہ وہ اس مزدور کار طبقے کا چولہا جلائے رکھنے کیلئے کوئی موثر حکمت عملی وضع کرے تاکہ انہیں بروقت دو وقت کی روٹی میسر آسکے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ مزدور کار طبقے کیلۓ ماہانہ بنیاد پر تنخواہ مقرر کریں اور حالات ٹھیک ہونے تک انکو گھروں تک پہنچانے کیلۓ انکی سکریننگ کرکے انکے لۓ گاڑیوں کا بندوبست کریں امید رکھتے ہیں کہ حکومت مزدور طبقات کیلۓ بھی عملی اقدامات کرے گی ۔ لاک ڈاؤن کی موجودہ حالات میں بھی بہت سے لوگوں کو اہمیت کا پتہ نہیں،اس وقت چونکہ کرونا نامی وائرس کی وباء پھیل گئی ہے جس کی روک تھام اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن حالات کا اہم ترین تقاضا بن چکاہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا اورلوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے،اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا سے محفوظ رہنے کیلئے تمام تر حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں جن میں ہاتھوں کو باربار دھونے سمیت صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا اور لوگوں سے میل جول محدود کرنا شامل ہے،

 

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ! تحریر سید ساجد علی شاہ :رحیم یارخان

 

اس حوالے سے حکومت،انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے مسلسل ہدایات بھی جاری ہورہی ہیں اورعوام سے اپیلیں بھی کی جارہی ہیں کہ وہ گھروں میں بیٹھ کر کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنائیں اورجن لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی نہیں انہیں بھی آگاہ کریں،عوام کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں حکومت،انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کویقینی بنائیں کیونکہ موجودہ وقت میں ان تدابیر پر عمل درآمد کرنے سے ہی کروناوائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے،لا ک ڈاؤن جو کہ حالات کا تقاضاہے جس میں سب کو حکومت کے ساتھ تعاؤن کرنا چاہئے تاہم جو طبقات اس سے متاثر ہورہے ہیں حکومت کو ان کیلئے پیداہونے والی مشکلات کو دور کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھانے چاہئے جس میں پہلا طبقہ تو مزدور کار ہے جس کا تذکرہ انہی سطورمیں کیا گیا مگر اس کے علاوہ جو لوگ ان حالات میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں کرونا سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھی ضروری سازوسامان فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے جن میں ڈاکٹرزاورہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والا دیگر عملہ بھی شامل ہے کیونکہ ان کا مریضوں کے ساتھ براہ راست واسطہ پڑتا ہے جس کے سبب ان کا امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ موجو دہے،

اپریل فول ، جھوٹ کے دن پورا سچ ! تحریر: اختر سردار چودھری

 

اسی طرح پولیس جوان جو اس وقت بازاروں سمیت دیگر مقامات پرعوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات موجود اورمتحرک رہتے ہیں انہیں بھی کرونا سے بچاؤ کاسامان فراہم کرنا چاہئے،اس کے علاوہ صفائی ستھرائی کا عملہ ٹی ایم اے کام کرتا ہے ان حالات میں بھی بڑی پابندی کے ساتھ محلوں اوربازاروں میں ڈیوٹیاں دیتا نظر آرہاہے درحقیقت یہ واحد طبقہ ہے جسے عام حالات میں بھی مختلف امراض لاحق ہونے کے خطرات موجود رہتے ہیں کیونکہ یہ لوگ روز روز گندگی اٹھاتے اور اسے ٹھکانے لگاتے ہیں مگر متعلقہ محکمہ کی طرف سے انہیں تاحال کسی قسم کا حفاظتی سامان میسر نہیں آیااوراب جبکہ موجود ہ حالات عام لوگوں کیلئے بھی ساز گار نہیں مگراس کے باوجود بھی یہ عملہ ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں لہٰذہ حکومت اس طبقے کو ضروری آلات فراہم کرے تاکہ ان کے سروں پر منڈلانے والے خطرے کے ساتھ چھٹ سکے،اس کے علاوہ ہمارے صحافی بھاٸی ہیں جو موجودہ حالات میں بے سروسامانی کی حالت میں فرائض انجام دے رہے ہیں

"بوڑھے والدین پریشان” (افسانہ ) تحریر: شمائلہ ملک، بہاولپور