گگلی ماسٹر عبدالقادر (مرحوم) کی یادیں (دوسری قسط) تحریر۔عمارہ وحید

14,430

گگلی ماسٹر زیادہ کہیں آنا جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ اپنے دفتر میں ہی محفلیں سجائے رکھتے یا کبھی کبھار کسی تقریب میں شرکت کر لیا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر وہ انٹرویوز دینے سے بھی معذرت کر لیتے تھے۔ بہرحال جب میرے ماموں کی طرف سے انہیں رات کے کھانے پر گھر مدعو کیا گیا تو انہوں نے بغیر کسی تردد کے دعوت قبول کر دی۔

 یہ تحریر بھی پڑھیں گگلی ماسٹر عبدالقادر (مرحوم) کی یادیں (پہلی قسط) تحریر۔عمارہ وحید

ان کا دعوت قبول کرنا میرے ماموں سے ایک طرح سے محبت کا اظہار ہی تھا۔وہ 27جنوری 2011ء کی سرد مگر خوبصورت شام تھی کہ جب عبدالقادر صاحب (مرحوم) چند دوستوں کے ہمراہ ہمارے گھر آئے۔ یاد رہے کہ وہ ڈائٹ کے حوالے سے اپنا خاص خیال رکھتے تھے اور سلاد وغیرہ پر مشتمل منتخب غذائیں کھاتے تھے لیکن دعوت والے روز انہوں نے معمول سے ہٹ کر تمام لوازمات کے ساتھ انصاف کیا اور بلا تکلف جو دل کیا کھایا۔ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ہمارے گھر وہ کرکٹر آیا ہے، جو اپنے دور کا ہیرو تھا اور اب لیجنڈ ہے۔ نہ تکلف، نہ نخرا، نہ اپنے مرتبے کا احساس۔ وہ ہماری فیملی سے اس طرح ملے جیسے برسوں سے جانتے ہوں۔ کھانے کے بعد تصویروں وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب نے ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں اور خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب انہوں نے ہمارے گھر یلو ملازم کے کندھے پر بڑی محبت سے ہاتھ رکھا اور خود کہہ کر اس کے ساتھ تصویر بنوائی۔

 یہ تحریر بھی پڑھیں قیامت چھو کر گزر گئی! تحریر۔ملک نذیر اعوان(خوشاب)

بڑا آدمی بننے کے بعد اکثربڑا انسان بننے میں کافی دشواری پیش آتی ہے لیکن عبدالقادر (مرحوم) سے پہلی ہی ملاقات کے بعد یہ احساس ہو گیا کہ وہ اعلٰی پائے کے لیگ سپنر ہونے کے ساتھ ساتھ نیک سیرت، اچھے، دوسروں کیلئے دردِ دل رکھنے والے ایک بڑے انسان ہیں۔ گھر آنے پر مجھ سے خاص طور پہ وہ ملے، بلکہ میرے کمرے میں آئے، بیٹھے۔ یہ نشست غالباً دس منٹ پر محیط تھی لیکن ان دس منٹ میں انہوں نے مجھے ایسی حیرت انگیز معلومات دیں، جن کی بدولت نہ صرف میرے علم میں اضافہ ہوا بلکہ آگے چل کر میرے کام بھی آئیں۔ یہ معلومات دنیاوی بھی تھی اور دینی بھی۔ اس کے علاوہ عبدالقادر صاحب (مرحوم) نے اپنے کیریئر سے منسلک ایک دو قصے بھی سنائے، جن میں تفریح کا رنگ غالب تھا۔ بڑے لیگ سپنر میں بڑی بات یہ بھی تھی کہ وہ اپنی زندگی کے حوالے سے کچھ چھپاتے نہ تھے۔ میرے اور میرے گھر والوں کے سامنے انہوں نے برملا کہا۔”ایک زمانے میں نے ریڑھی پر بھنے چنے بھی بیچے ہیں۔“یعنی وہ سمجھانا چاہ رہے تھے کہ اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی کام بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ میرا اندازہ غلط ہو لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ انہیں اپنے سٹار ہونے سے زیادہ فخر اس کام پر تھا، جو وہ کرکٹر بننے سے قبل ایک محنت کش کے طور پر کرتے رہے۔ بہرحال عبدالقادر صاحب (مرحوم) نے اس ملاقات میں مجھے بہت سی باتیں، بتائیں اور سکھائیں۔ کھیل کے میدان سے وابستہ رہنے کے باوجود وہ دین سے بہت قریب تھے، ہمیشہ قرآن سے مثال دیا کرتے تھے، ہر مشکل کا حل قرآنی تعلیمات کومدِ نظر رکھ کر تلاشنے کی کوشش کرتے تھے۔

 یہ تحریر بھی پڑھیں قومی کشمیر کانفرنس تحریر۔منشا قاضی

عبدالقادر صاحب (مرحوم) نے جاتے جاتے مجھے روزانہ دو رکعت نماز برائے حاجت پڑھنے کا مشورہ دیا اور بڑی تفصیل سے سمجھایا کہ یہ نماز کیسے ادا کرنی ہے۔میں نماز برائے حاجت کی پابندی تو نہیں کر سکی لیکن جب کبھی کوئی پریشانی یا تکلیف کا سامنا ہو تو یہ نماز ضرور پڑھ لیتی ہوں۔ جاتے جاتے میں نے عبدالقادر صاحب (مرحوم) کو گلدستہ پیش کیا، جسے انہوں نے محبت قبول کیا اور اس کے ساتھ ہی اس یادگار ملاقات کا اختتام ان کی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔ لیجنڈری لیگ سپنر عبدالقادر (مرحوم) کو گفتگو میں فنِ کمال حاصل تھا۔ وہ صرف میدانِ کرکٹ میں ہی گگلیاں نہیں کروایا کرتے تھے بلکہ باتوں کی گگلیوں سے بھی مقابل کے چھکے چھڑا دیا کرتے تھے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ علم کا ایک دریا تھے اور یہ علم ان کی سادہ گفتگو میں بھی جھڑنے کی مانند بہتا تھا۔ گفتگو کا آغاز کرتے تو بلاتوقف بولتے چلے جاتے، بات سے بات نکالتے اور ہر بات دلیل کے ساتھ کرتے۔ اس کے علاوہ اندازِ گفتگو کچھ ایسا دلچسپ ہوتا کہ سننے والا بوریت کا شکار نہ ہوتا۔ عبدالقادر صاحب (مرحوم) کی وفات کے بعد زمانے کی زبان سے سنا گیا کہ وہ ایک سچے انسان تھے، ہمیشہ حق کی بات کی اور سچ کا ساتھ دیا۔ بے شک ایک ورلڈ کلاس لیگ سپنر ہونے کے ساتھ ساتھ سچائی،ایمانداری، حق گوئی اور وطن سے بے پناہ محبت، ان کی شخصیت کا خاصا تھا اور انہیں دوسروں سے مختلف بناتا تھا۔

 یہ تحریر بھی پڑھیں پولیس کی غفلت سے حیوانیت کی انتہاتک (صدائے سحر) تحریر شاہد ندیم احمد

کرکٹ کے حوالے سے وہ جب بھی کسی چینل یا ٹاک شو میں تجزیہ دیتے تو بلاخوف کرکٹ کے ان نام نہاد کرتا دھرتاؤں کا ذکر کرتے کہ جن کی وجہ سے کرکٹ آج اس نہج پہ پہنچ چکی ہے، مقابل خواہ کوئی بھی ہوتا لیکن عبدالقادر صاحب (مرحوم) حق بات کہتے نہ ہچکچاتے تھے۔ اسی لیے بہت سے ناقدین کو سچائی پر مبنی ان کی باتیں گراں گزرتی تھیں۔ مایہ ناز لیگ سپنر 2008ء میں قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بنے اور 2009ء میں بغیر کوئی وجہ بیان کیے استعفیٰ دے دیا۔حالانکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ان کی سلیکٹ کردہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے 2009ء کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیت لیا تھا لیکن بطور سلیکٹر اس کامیابی کے باوجود انہوں نے مزید اس عہدے پر رہنا گوارا نہ کیا۔ بعد میں کئی موقعوں پر ان سے استفسار کیا گیا کہ انہوں نے اتنے پرکشش عہدے کو چھوڑ کیوں دیا؟ تو ان کا جواب یہی تھا کہ وہ اس ماحول میں کام نہیں کر سکتے، جس میں منافقت ہو اور ٹیلنٹ کی قدر نہ ہو۔
(جاری ہے)

awamifaisla.com
awamifaisla.com