"عوام میں بڑھتا خوف” تحریر: محمد ارسلان مجدؔدی

29

صبح سے شام تک ہر شخص کسی نا کسی خوف میں نظر آتاہے۔ کوئی بڑھتی مہنگائی کے خوف میں اور کوئی بچوں اور اپنی جان کے تحفظ کے خوف میں ہے۔ پاکستان بھر میں یہ خوف ہمیشہ عوام کی گردن پر ہی رہا ہے۔ غزائی اجناس گزشتہ 2 سال میں اس قدر مہنگی ہوئیں کہ مفلس اور مسکین سوچ کر ہی بیمار پڑ گیا۔ کئی افراد فاقہ کا شکار ہوئے تو کئی "فلاحی تنظیموں” کا تقسیم کردہ کھانا کھانے پر مجبور ہوئے۔

”پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جاۓ گا“ تحریر: زین العابدین

مرد اور بچے تو وہاں کھا لیتے ہیں پھر بچوں کا کیا قصور وہ گھروں میں محصور رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف بچوں اور بڑوں کی گمشدگی و قتل کے واقعات میں اضافہ محسوس ہوتاہے۔ "شہر قائد” کے ایک علاقے میں دن کی روشنی میں کم سن بچے کو اغوا کرکے اس کی آنکھیں نکال کر اسے پھینک دیا گیا۔ خوف پھیلا اور لیکن کیا کرفیو جیسی صورتحال پیدا کرکے والدین بچوں کو قید کرلیتے بلکہ نہیں انکی بہادری دیکھیں انہوں نے بچوں کے تحفظ کا ذمہ خود لیا۔ پھر اسکول، مدرسہ آنے جانے اور محلے میں کھیل کود کے دوران خود خیال رکھنے لگے۔ پھر بھی اغواکاری نہیں رکی۔

گدڑیوں میں لعل ! تحریر: نمرہ ملک

اب اغواکاروں نے بچیوں کو لڑکوں کی نسبت زیادہ اغوا کرنا شروع کیا۔ شرپسند کیا مقصد رکھتے ہیں اس تو اللہ ہی واقف ہیں لیکن احتیاط کی گنجائش اور خوف کی لہر مزید پھیل گئی۔ اسکول، کالج ، سرکاری اور نجی تمام اداروں کے باہر سیکورٹی گارڈ نظر آتےہیں۔ اس کے باوجود "شہر قائد” میں قتل و غارت بڑھ رہی ہے۔ کبھی ڈاکٹر، معلم، وکیل یا کوئی سرکاری افسر بلاوجہ بےقصور قتل ہوجاتاہے۔ کل مورخہ 18 جنوری 2020ء کی خبر دیکھی جب بتایا گیا کہ ایک اسکول مالک کو قتل کر دیا گیا ہے۔

 

بینظیر بھٹو کی یاد میں !! (گمان) تحریر : سجاد وریاہ

کراچی کی روزنامہ کرائم رپورٹ پڑھیں تو افسوس کے ساتھ حیرانگی ہوتی ہے اتنی بےدردی سے قتل عام کیوں؟ سالوں سے شہر قائد میں خون بہایا جارہا ہے آخر یہ سلسلہ کب تھمے گا۔ عوام سکون کا کب لےسکیں گے؟ عوام میں بڑھتا خوف کب ختم ہوگا؟

سردیوں کی سوغات : دودھ جلیبی (رپورٹ ) محمد عرفان اللہ اختر