لاک ڈاؤن خدمت اور علاج  ( حسب منشا ) تحریر : منشاقاضی

56

کورونا کا ورود اٹلی، اسپین، اور ایران سے ہوا. جہاں جنازوں پہ جنازے اور خمیازوں پہ خمیازے بھگتنے پڑ رہے ہیں. یورپ بند دنیا بھر میں خوفناک اور ھولناک صورت حال میں مایوسیوں کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں. مسیحا خود بیمار ہو گیا جو دوسروں کی مسیحائی کرتا تھا. وہ بھی اس بلائے نا گہانی کے شکنجوں میں آ کر دم توڑ گیا. ڈاکٹر اسامہ ریاض شہید اور پہلی شہید نرس نے کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے میدان جنگ میں جان دی اور وہ شہادت کے عظیم رتبے کو پا گئے. انّالله و انّاالیه راجعون دوسروں کی چارہ سازی کرنے والا خود چارہ گر لا چارو بے بس ہو کر موت سے گلے لگ گیا. جوان سال مسیحا کی موت پر کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشک بار نہ ہوئی اس خوف اور ڈر کے ماحول میں امید کی ایک کرن نے ہارے ہوئے انسان کو حوصلہ دیا جنہوں نے ڈینگی جیسی موذی زہریلی خوف ناک بیماری کے خلاف نہ صرف جہاد کیا بلکہ پورے عزم و ثبات سے میدان عمل میں صف اول میں ڈٹ گئے.

گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں (حسب منشا) تحریر۔ منشا قاضی

 

آپ کے دست شفاء سے جان کنی کو پہنچے ہوئے مریض آج کورونا وائرس کی ھولناکیوں کے سامنے مطمئن دکھائی دیتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے مسیحا کی مسیحائی پر خدا کے فضل سے پورا یقین ہے پورے پاکستان میں اس وقت یہ مسیحا سرگرم عمل ہے اور کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام بڑی تعداد میں دوا اور دعا دونوں بے دریغ نچھاور کر رہے ہیں. تدابیر، پرہیز اور احتیاط کو علاج پر غالب کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی بلیغ چارہ سازی مسیحائی سے کم نہیں ہے. آپ کا طرز چارہ سازی بڑا حکیمانہ اور مریض سے مشفقانہ ہے . گزشتہ روز آپ کے ہمدم دیرینہ سابق چئیرمین ہلال احمر، ڈاکٹر سعید الہیٰ جو اس وقت کورونا وائرس کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میو ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال کے مسیحاؤں یعنی ڈاکٹروں، پروفیسروں، نرسوں اور صحافت کے میدان میں اپنے فرائض سرانجام دینے والے صحافیوں کے لئے حفاظتی لباس کٹ کی صورت میں کثیر تعداد میں تقسیم کئے. جن کو ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے بہت سراہا اور دونوں عظیم المربت نیک دل انسانوں نے دکھی انسانیت کو اس خوف سے نکالنے کے لئے باہمی حکیمانہ تبادلہ خیال جاری رکھا اور وہ حساس ترین حالات کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہوئے آپس میں رابطے میں رہیں گے

عید میلاد النبی ﷺدلوں میں جشنِ بہاراں، ہو نہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو (حسب منشا) تحریر۔ منشا قاضی

 

اس ملاقات کے بعد ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے سیدھا رخ اپنے ہسپتال کی طرف کیا جہاں معمول سے ہٹ کر مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو خوف اور ڈر کے مارے سارے کے سارے اشاروں اشاروں میں ہی گفتگو کر رہے تھے. اشفاق احمد جس کی فرض شناسی کا یہ عالم ہے کہ وہ احتیاط اور پرہیز کے ماہر ہی نہیں بلکہ ہر مریض پر نہ صرف نگاہ رکھتے ہیں بلکہ ان کے چہرے پڑھ کر ان کی بے طلب مدد کرتے ہیں اور ہر ایک کو ماسک فراہم کرتے ہیں . خوف کے اس ماحول میں مسیحا کو بھی گھر والوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا . مگر اس وطن عزیز کے عظیم ہیرو کو ستارہ امتیاز سے یوں ہی حکومت پاکستان کی طرف سے نہیں نوازا گیا. حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز دیا ہے. کوئی تو بات ہے نہ جو لاکھوں میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو ممتاز کرتی ہے.

 

کراچی۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے آن لائن اجلاس، رمضان المبارک کے دوران آن لائن دعوتی دروس کی پلاننگ پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لیا۔

کثیرالاوصاف اور کثیر الفیوض شخصیت ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا یہ کمال ہے کہ وہ اپنی موجودگی میں ایک روحانی آسودگی اور شگفتہ ماحول پیدا کر دیتے ہیں. مریضوں کی خوف میں مبتلہ بڑی تعداد کے چہروں پر ڈاکٹر صاحب کی آنکھ کی چمک سے مسیحائی کی تاثیر محسوس ہوتی ہے. رات گئے تک مریضوں کو دیکھتے رہے اور برقی زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی انٹرویو دیتے رہے. کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی ، احتیاطی اور پرہیز کے ساتھ ساتھ کورونا پلس سیرپ بھی دیتے رہے. دعا اور دوا دونوں کا حسین امتزاج مریض کو اطمنان عطا کرتا ہے. ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی طرز مسیحائی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خوف پر شوق و غالب کر دیتے ہیں اور پھر خوف اس ماحول سے بھاگ جاتا ہے ویسے بھی کورونا نے خوف کے زریلے پروپوگنڈے سے ہی اٹلی، اسپین اور ایران میں تباہی مچائی ہے. غم ماضی میں ہونے والے نقصان کا ہوتا ہے اور خوف آنے والے نقصان کا ہوتا ہے. ڈاکر آصف محمود جاہ ماہر نفسیات بھی ہیں اور وہ علاج سے پہلے احیتاط کے گڑ بتاتے ہیں اور مریضوں کی معاشی صورت حال بھی دریافت کرتے ہیں.

"ڈپریشن سے باہر نکلیں” تحریر : شمائلہ ملک، بہاولپور پاکستان

 

پھر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مریض شفا یاب ہو کر ہی ڈاکٹر صاحب کے ہسپتال سے باہر آتا ہے. کورونا وائرس نے جہاں خوف و ہراس پھیلادی ہے وہاں اس نے ان خوددار لوگوں کی کمر توڑ دی ہے جو دست سوال کسی کے سامنےدراز نہیں کرتے. بقول میر آگے کسو کے کیا کریں گے دست طمع دراز وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دہرے دہرے. خدمت اور علاج کی یہ انوکھی اور نرالی مثال آپ کو بہت کم ملے گی. کہ مریضوں کو ادویات کے ساتھ ساتھ سامان پرورش بھی فراہم کیا جاتا ہو اور رقم بھی بے روزگاری کے صدمے سے نڈھال اور مفلوک الحال بنا دینے والی صورت حال میں دی جاتی ہو. اشفاق اور جہانگیر کے منصوبہ بندی بڑی کارگر رہی اور انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کی روشنی میں بےروزگار افراد کی بحالی اور ان کے گھروں میں راشن پہنچانے کا اہتمام کیا. ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ہمیشہ مصیبتوں کا مقابلہ آنسوؤں سے نہیں کیا بلکہ حوصلے سے کیا ہے کیونکہ
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے-

کوروناوائرس کیخلاف جنگ جیتنے کیلئے جلدبازی نہیں عقل ودانش کی ضرورت ہے:ایم این اے ملک کرامت کھوکھر

 

اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کی لصرت کے لئے غیب سے اسباب پیدا کرتا ہے ان غیبی قوتوں میں ڈاکٹر آمنہ اصغر جیسی نیک دل مخیر خاتون کا دست تعاون بھی ڈاکٹر صاحب کے مشن کی راہ میں آسانیاں پیدا کرتا ہے آمنہ کا نام وہ اصغر ہے مگر وہ اپنے کاموں کے حوالے سے اکبر ہے تھر میں آب شیریں کے چاہ آصف جاہ کے ہمراہ آمنہ کا فی سبیل الله گروپ کا کردار جزواعظم ہے . عمران بٹ، اعجاز سکا کا اعجاز بھی ڈاکٹر صاحب کی مسیحائی کی تاثیر میں اکثیر ثابت ہوتا ہے.روٹری کلب کی سرگرم رکن اور باعمل عظیم خاتون محترمہ شاہین احمد بھی اس مصیبت کی گھڑی میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں. آپ کا گراں قدر عطیہ بھی عالمی وباء اور بلا کو ٹالنے میں کام آیا. دعا وباء کو ٹال دیتی ہے اور پھر جب دعا کے ساتھ صدقہ مل جاتا ہے تو وہ پھر بڑے بڑے متکبرین کی گردنوں سے سریے نکال دیتی ہے

"بوڑھے والدین پریشان” (افسانہ ) تحریر: شمائلہ ملک، بہاولپور

 

امریکہ بہادر کے ٹرمپ اور بھارت کے مودی کاغرور کورونا نے خاک میں ملا دیا ہے اور مظلوم کشمیریوں کی آہ پوری دنیا کی خاموشی کو لے ڈوبی. مظلوم کشمیری اپنے گھروں میں 7 ماہ سے محصور چلے آ رہے ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ
ہم چھین لیں گے تم سے یہ شان بے نیازی
تم مانگتے پھرو گے اپنا غرور ہم سے
ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی خدمت کا صلہ اللہ تعالیٰ دے گا خدمت اور علاج کی جو طرح آپ نے ایجاد کی ہے وہ مسیحائی کی تاثیر سے بریز مخیر حضرات کا ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا ڈاکٹر آصف محمود جاہ پر جپ اعتماد اور اعتبار ہے اس اس کو ڈاکٹر صاحب نے کبھی ٹوٹنے نہیں دیا یہی وجہ ہے ڈاکٹر آمنہ اصغر، عاجز سکا ، جنید اصغر ، ڈاکٹر خالدہ کی بہن ڈاکٹر عشرت، بیگم علی رضا کی عطیات بلوچستان، تھر، سوات، مردان، مظفر گڑھ کے مصیبت زدوں کو اس تکلیف میں ریلیف دے رہے ہیں اور یہ سارا کام بڑے سلیقے اور قرینے سے اشفاق احمد کے دست ہنر سے ہو رہے ہیں.

 

لفافیت اور میریت ( آرزوئے سحر) تحریر : انشال راٶ

 

ابتلاء کی اس گھڑی میں مبتلہ دکھی انسانوں کے لئے خدمت اور علاج کی اس ایجاد میں ڈاکٹر صاحب کی دختر لیک اختر ڈاکٹر یمنیٰ کی فرض شناسی خدمت اور علاج کے مطالب و معانی کو عملی عملی جامعہ پہنا رہی ہے. ڈاکٹر یمنی معلوم نہیں ہو گا ہماری بیٹی زر قانسیم کی بھی بیٹی ڈاکٹر مہا بھی کورونا کی جنگ کی تباہ کاریوں میں اس زہرناک اور خوفناک میں کا رزار میں بے خوف و خطر لڑ رہی ہے. الله ڈاکٹر یمنی کو اپنی ہم جنس ساتھیوں کے ساتھ اپنی امان میں رکھے. اس وقت بقول پروفیسر رف رف یہی وہ مسیحائی فوج ہے جس نے وطن عزیز کی حفظان صحت کی سرحدوں پر پہرہ دے رہی ہے. اس بڑی غلط فہمی کو دور ہوتے بہت قریب سے دیکھا ہے کہ قوموں کی بقا کی جنگ صرف جوف لڑتی ہے. آج دنیا کی بقا کی جنگ میڈیکل سٹاف بھی لڑ رہا ہے. پوری قوم اپنے ان جانبازوں، سرفروشوں، مجاہدوں، غازیوں اور کورونا وائرس کے میدان کارزار میں سر دھڑ کی بازی لگا دینے والے مسیحاؤں کو سلام کرتی ہے. جس کا اعتراف افواج پاکستان کے سربراہ جنرل آصف جاوید باجوہ نے بھی کیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی سے مزید مظبوط قوم بن کر نکلے گی.

کرونا وائرس،لاک ڈاؤن اورریلیف کی سرگرمیوں میں سیاسی و سماجی تنظیمیں پیش پیش رپورٹ:ایم اے بھٹی

جس قوم میں یمنیٰ ، ماہ نور اور مہا جیسی بیٹیاں ہوں اس قوم کو کورونا شکست نہیں دے سکتا بلکہ کورونا خود اپنی موت مر رہا ہے. ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی خدمت اور علاج کے سفر میں ابلاغ کرنے والوں کا تذکرہ نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی. ارشاد صاحب ، احمد سعید ، فاروق تسنیم، فرحاں یوسف، سلیمان شکور، نعمان شکور، علی، ایاز شجاع اور فرخ شہباز وڑائچ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خوشبو کی طرح ہوا کے دوش پر آگاہی مہم کو بام عروج پر پہنچا دیا اور کورونا وائرس کا تریاق کردہ کورونا پلس سیرپ نے تو دھوم مچا دی جس کے لئے وہ برقی اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کے بے حد شکر گزار ہیں. مولانا عبدالرؤف ملک نے ڈاکٹر صاحب کے اس سیرپ کو بڑی تعداد میں تقسیم کیا یہی وہ ڈاکٹر آصف محمود جا ہ عکا ظیم کارنامہ ہے جو انہیں لاکھوں میں ممتاز کرتا ہے. آج فرحاں یوسف نے آشیانہ قائد ، والٹن زرقہ نسیم وحدت روڈ اعزاز سعید اور فاروق تسنیم کے گھروں میں جا کر سیرپ کی بوتلیں پہنچائیں . کورونا جنگ میں جو لوگ ڈاکٹر صاحب کے معاون ہیں ان میں FBR کی چیئر پرسن محترمہ نوشین جاوید سے ڈاکٹر صاحب کا تبادلہ خیال بڑے خاصے کی چیز ثابت ہوا.

کورونا وائرس نے طاقت کے نشے میں بد مست ممالک کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا

 

چیف انٹرنیشنل کسٹمز فیاض رسول ایک با اصول احساس کے رشتوں کی عقیدت و محبت کی زنجیر کی میں بندھے ہوئے ہیں. بارہ کہو میں بھی ڈاکٹر صاحب کا لنگر جاری ہے اور وہاں لنگر انداز ہونے والے اسلام آباد کے مضافات کے بے سرو سامان لوگوں کے لئے یہ لنگر خانہ شجر سایہ دار درخت سے کم نہیں ہے. حق نواز، محترمہ مہناز، خواجہ ظفر اقبال اور خواجہ خالد ، ندیم احسن اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عامر زماں کی حوصلہ افزا اخلاقی مدد بھی شامل حال ہے. سلیمان، علی، نعمان ،خالد مسعود اور جہانگیر کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ایمبولینس میں کھانا پکوا کر غریبوں اور پولیس اہلکاروں میں تقسیم کرتے ہیں. جہانگیر بارہ کہو میں مصروف عمل ہے.

لفافیت اور میریت ( آرزوئے سحر) تحریر : انشال راٶ

 

اللہ تعالیٰ اس کار خیر کا اجر کثیر عطا فرمائے. اسلام آباد کی اداس شاموں پر ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا ناول بہت جلد منظر عام پر آ رہا ہے. ناول میں اظہار کے جتنے امکانات ہیں ادب کی کسی دوسری صنف اس کی متحمل نہیں ہو سکتی بقول احتشام حسین کے اچھے ناولوں میں ادب کی تخلیقی قوت اس نقطہ پر ہوتی ہے جہاں اعلی فلسفی اور ماہر سائنس دان پہنچ سکتے ہیں. ایک اچھا ناول تفریح سے زیادہ تہذیبی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اسلام آباد کی اداس شاموں کے ناول کی محرکہ ڈاکٹر یمنیٰ مبارکباد کی مستحق ہیں جن کی خواہش کا احترام ڈاکٹر جاہ کے لئے نہ کرنا نا ممکن ہے.

 

عالمی وبا ٕ کرونا وائرس کا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں ! تحریر : نوید احمد یوسفزٸی