پاک ترک دوستی کی بنیاد عشق پر ہے تحریر:منشا قاضی

21

ترک صدررجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھی ترکی کے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو نمائندہ ایوان کے توسط سے سلام محبت پیش کرتا ہوں اور مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کر نے پر سب کا شکر گزار ہوں جس طرح سے پاکستان میں پُرجوش استقبال ہوا اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کا شکر گزار ہوں۔ پاکستان آکر بھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا پاکستان میرے لئے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے۔

 

آج ترکی اور پاکستان کے تعلقات قابل رشک ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور تعلقات بہت اہم ہیں۔ ترکی کے دروازے پاکستانیوں کے لئے کھلے ہیں اور اس وقت پاکستان میں ترکی جتنی سرمایہ کاری کر رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ترکی کے سرمایہ کاروں کے بڑے گروپ کے ساتھ آئے ہوئے صدر طیب اردوان نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا اور پاکستان سے لازوال محبت کا ثبوت د یتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں سے محبت نہیں کریں گے تو اور کس سے کریں گے۔

دیکھ تجھے کتنا چاہا ہے کبھی غور تو کر
ایسے تو ہم کبھی اپنے بھی طلب گار نہ تھے

ترک تحریک آزادی کی حمایت میں پاکستانی خواتین نے اپنے زیور بیچ دیئے تھے۔ پاک ترک دوستی مفاد پر نہیں عشق پر ہے اور عشق عقل کی نہیں مانتا وہ بے خطر آتش نمرود میں کود پڑتا ہے۔ ا س لئے پاک ترک دوستی ہمیشہ قائم رہے گی۔ پاکستانی قوم کے جذبات کی کڑیاں اور دل و نگاہ کی لڑیاں آداب کہتی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی قومی زبان اردو میں خطاب کرنا چاہئے تھا جس طرح ترک صدر نے اپنی قومی زبان ترکی میں خطاب کیا اور اپنی قوم کی ترجمانی کی۔ اس وقت پاک ترک دوستی بہت ساری قوتوں کو تنگ کر رہی ہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے مسلمان جسدِ واحد کی مانند ہے۔

 

ہمارے دوست سردار مراد علی خان نے پریس گیلری سے صدر طیب اردوان کی پوری تقریر کا خلاصہ مجھے سنایا اور کہا کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں … مسلمان اور مومن میں بھی فرق ہوتا ہے۔ مسلمان اللہ کو مانتا ہے اللہ کی نہیں مانتا مگر مومن اللہ کو مانتا بھی ہے اور اللہ ہی کی مانتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جو استقبال ترک صدر کا ہوا ہے سردار مراد علی خان نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے ایسا کسی کا نہیں ہوا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت پاک ترک دوستی کے رشتے کو کمزور نہیں کرسکتی رجب طیب اردوان کے بارے میں یہ بات چراغ حق کی طرح روشن ہے کہ وہ پاکستان کے خیر خواہ اور پاکستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے اسی طرح سوچتے اور عمل کرتے ہیں جس طرح وہ اپنے ملک کی بہبود کے لئے ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

 

اُن کا دل پاکستانی عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اور پاکستان پر جب بھی کوئی آسمانی یا زمینی مصیبت آئی تو رجب، طیب اردوان نے دست تعاون بڑھانے میں تمام ممالک سے پہلے سبقت لی اور اُن کی بیگم نے جنوبی پنجاب کے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے اپیل بھی کی اور خود بھی اس کام میں پیش پیش تھیں انہوں نے اپنا انتہائی قیمتی نیکلس فروخت کرکے اس کارِ خیر میں حصہ لیا تھا۔ 2010 ء میں سیلابِ بلا کی بلا خیز موجوں نے شہروں کے شہر جنوبی پنجاب کے برباد کرکے رکھ دیئے تھے اُن اندوہناک حالات میں بھی رجب طیب اردوان کی اہلیہ کا دست تعاون کھلے آسمان تلے حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے لوگوں کے لیے حوصلہ کا سبب بنا تھا۔

 

انہی دنوں کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر آصف محمود جاہ بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پہنچے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ترکی میں بھی شامیوں کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ترک قوم کے جذبات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاک ترک دوستی کی پائیداری اور ترک صدر کی چارہ سازی کو پاکستانی اور ترکی قوم صدیوں تک نہ بھلا سکے گی۔ آخر میں الطاف حسن قریشی نے جو پاک ترک تعلقات کے حوالے سے تاریخی نظم ترکی میں پڑھی تھی وہ ترک صدر طیب اردوان اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے تجارتی وفد کی نظر کرتا ہوں۔

 

ترکی میں جان و دل کا عجب رابطہ ہوا
دونوں طرف چراغ وفا جاگتا ہوا
دیکھا ہے اُس دیارِ محبت میں دوستو
اپنے وطن کا نام دلوں پر کھدا ہوا
تاریخ کا شعور اخوت میں ڈھل گیا
صدیوں کا اعتبار فضا میں رچا ہوا
سچی محبتوں کے مناظر تھے بے کراں
جذبہ نگاہِ شوق سے آگے بڑھا ہوا
اے ہم نشیں نہ پوچھ تب و تابِ قونیہ
عالم تھا ایک شعلہ رقصاں بنا ہوا
رعنائی سرود کا وہ آبشارِ نور
چہرہ ریاض لَے سے گلستاں بنا ہوا
ہر آنکھ میں خلوص و محبت کی چاندنی
ہر سمت دوستی کا دریچہ کھلا ہوا
الطاف ترک قوم کو میرا سلام شوق
ہر ایک جبیں پہ حرف شجاعت لکھا ہوا