ڈاکٹر فرحت عباس کی کتاب ”یہ عشق“ کی تقریب رونمائی رپورٹ ۔نمرہ ملک

132

ئئئئہار جائے گی زندگی لیکن!!
ہارنے کا نہیں مرا یہ عشق
ہمہ جہت شخصیت کے مالک ڈاکٹر فرحت عباس نے نہ صرف شاعری کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیابلکہ انہوں نے تحقیق و تنقید میں بھی اپنا لوہا منوایا۔انہوں نے شاعری کا آغاز ستر کی دہائی میں کیا۔آپ محکمہ صحت پنجاب سے وابستہ رہے۔گذشتہ دنوں ان کی نئی شاعری کی کتاب ”یہ عشق“کی تقریب رونمائی تلہ گنگ بلدیہ ہال میں منعقد ہوئی۔اس سے پہلے ان کی غزلیات کے دو مجموعے ”بھیگتی پلکیں،،اور ”زلف دراز“ جب کہ اشعار کی کتاب ”فردیات فرحت“ کے علاوہ نظموں کی ایک کتاب ”استعارہ“ بھی مارکیٹ میں آچکی ہے۔فرحت بہترین تنقید نگار بھی ہیں۔ان کی ایک تنقید کی کتاب ”معنی کی محبت میں“ان کی تنقیدی صلاحیتوں کا خوبصورت نمونہ ہے۔

آٹھ دسمبر اتوار کو ”یہ عشق“ کی خوبصورت تقریب رونمائی نے تلہ گنگ کو ایک اور اعزاز بخشا کہ معروف لکھاری اور شاعر ڈاکٹر فرحت عباس اپنے رفقاء کے ہمراہ غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین پہ تشریف لائے۔تلہ گنگ کی معروف ادبی،فلاحی،سماجی اور ثقافتی تنظیم ”تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی“کے زیر اہتمام بلدیہ ہال میں جب تقریب شروع ہوئی تو ادب کے روشن ستارے سٹیج کی زینت بنے نظر آئے۔تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے روح رواں اور سرپرست اعلیٰ معروف ادبی شخصیت اور طارق محمود ملک نے نظامت کے فرائض سنبھالے تو ہال میں جوش کی لہر نظر آئی۔انہوں نے پرخلوص انداز میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے رکن تلہ گنگ کے نامور فنکار اختر حسین نے تلاوت کی اس کے بعد سوسائٹی کے ہی سرگرم رکن اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اے۔بی فاررقی تشریف لائے اور انہوں نے ہدیہ نعت پیش کیا اور حاضرین کے دل و روح کو مدینہ طیبہ کے مکین ﷺ سے خوبصورت انداز میں محبت سے روشناس کروایا۔اے۔بی فاروقی سوسائٹی کے مخلص رکن ہی نہیں بلکہ ان کا اخلاص اور فنکارانہ صلاحیتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔طارق ملک نے صدر مجلس معروف لکھاری اور انیس کتابوں کے مصنف معروف ادبی شخصیت اور صحافت کے ماتھے کے جھومر جبار مرزا کو سٹیج پہ آنے کی دعوت دی تو ہال کتنی ہی دیر تالیوں سے گونجتا رہا۔

صدر مجلس کے بعد مہمانان خصوصی تشریف لائے۔معروف شاعر اور مصنف نسیم سحر اور مسکراتے چہرے لیکن سنجیدہ طرز بیان کے حامل معروف شاعر،تنقید نگارعارف فرہاد مہمان خصوصی کی سیٹوں پہ جلوہ افروز ہو چکے تو مہمانان اعزاز کو دعوت دی گئی کہ وہ سٹیج کو رونق بخشیں۔عالمی شہرت یافتہ مصور،فخر ڈھرنال،سپوت تلہ گنگ اور فخر پاکستان مصور منیر ڈھرنال،معروف شاعرہ اور خوبصورت لب ولہجے کی مالک صائمہ جبین مہک،پیارے لفظوں کے خالق دوستانہ مزاج و شخصیت کے مالک معروف شاعر ڈاکٹر مظہر اقبال اور پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر معروف صحافتی اور سیاسی شخصیت یاسر ملک مہمانان اعزاز تھے۔جب کہ تلخ قلم کار معروف بزنس مین عمران سرور جبی نے خصوصی طور پہ تقریب میں شرکت کی۔راقمہ(نمرہ ملک)میزبانوں کی فہرست میں تھیں۔تلہ گنگ صحافتی اور ادبی حلقوں کی جانب سے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور ڈاکٹر فرحت عباس کی کتاب پہ مقالہ پڑھنے کے لیے سٹیج سیکریٹری نے سب سے پہلے مجھے ہی دعوت دی۔ہم نے ڈاکٹر فرحت عباس اور ادب کے باقی روشن ستاروں کو پریس فورم میڈیا گروپ اور تلہ گنگ کے ادبی حلقوں کی جانب سے خوش آمدید کہا اور غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین پہ ”یہ عشق“ کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عشق آسمانی صحیفہ ہے،یہ وہ جذبہ ہے جو نصیب والوں کی میراث بنتا ہے۔عشق واحد جذبہ ہے جو فانی ہو یالافانی،مجازی ہو یا حقیقی۔۔بندے کو محبوب کی قربت نہیں بلکہ معرفت عطا کر دیتا ہے،ڈاکٹر فرحت کی شاعری میں صرف ہجر کے نوحے نہیں،وصال کی دستک بھی ہے۔کسی شاعر کی سب سے بڑی کامیابی اس کی تصانیف کا مارکیٹ میں آنا نہیں بلکہ اس کے کلام کی پزیرائی ہے۔بلاشبہ ڈاکٹر فرحت کی شاعری دل کو چھو لینے والے جذبات کی بھرپور عکاسی ہے۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com

اس کے بعد معروف سیاسی شخصیت،صحافی اور قلمکار،پاکستان تحریک انصاف کے ضلع چکوال کے روح رواں بہت پیاری بلکہ دیسی معصومیت کی حامل شخصیت ملک یاسر پتوالی سٹیج پہ تشریف لائے اور انہوں نے ڈاکٹر فرحت عباس کو ان کی نئی تصنیف پہ مبارکباد پیش کی۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں صدر مجلس جبار مرزا اور ڈاکٹر فرحت باس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پہ گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں اس کے پیچھے جبار مرزا جیسے دانشور کی اخلاقی معاونت ہے جس کی بنا پہ وہ قومی سطح کے صحافی بنے اور ”پردیس“جیسے اخبار نکال پائے۔انہوں نے تلہ گنگ میں ادب کی ترویج کے حوالے سے تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے بھرپور کردار کی تعریف کی اور ادبی تقریب منعقد کرنے پہ مبارکباد دی۔ اس دوران فخر ڈھرنال مصور منیر تشریف لائے۔مصور منیر عالمی ایوارڈ یافتہ مصور ہیں اور اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر تلہ گنگ کی ہر ادبی و سماجی تقریب میں ضرور تشریف لاتے ہیں جو ان کے ایک بڑے فنکار ہونے کی علامت ہے۔وہ صرف فنکار نہیں بلکہ ایک روحانی شخصیت ہیں۔سٹیج سیکریٹری نے انہیں سٹیج پہ تشریف فرما ہونے کی دعوت دی۔مصور منیر ڈھرنال سٹیج پہ تشریف لائے تو حاضرین نے کھڑے ہوکے ان کا استقبال کیا۔یہ ایک عظیم شخصیت کے علم و فن کو خراج عقیدت تھا۔

اس کے بعد ٹمن کی معروف شاعرہ اور”سلگتی یادوں کی دیپک“کتاب کی خالق صائمہ جبین مہک سٹیج پہ آئیں اور انہوں نے ”ٰیہ عشق“کی تکمیل پہ خوبصورت مقالہ پڑھا۔انہوں نے ڈاکٹر فرحت کا کلام سنایا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔پروفیسر ڈاکٹر مظہر اقبال سٹیج پہ تشریف لائے اور انہوں نے تلہ گنگ میں اک خوبصورت ادبی تقریب منعقد کرنے پہ مبارکباد دی۔انہوں نے تلہ گنگ کے شعراء،ادبی شخصیات اور تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے کردار کو سراہا اور ڈاکٹر فرحت عباس کی کتاب کی تلہ گنگ رونمائی پہ خراج تحسین پیش کیا۔غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین پہ قلم کی سیاہی کو تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فرحت عباس اک عہد کا نام ہیں جن کاکلام دل کو چھو کے امر ہوتا ہے اور یہ ان کے بڑے شاعر ہونے کی علامت ہے۔
مصور منیر ڈھرنال تشریف لائے اور ان کی سحر انگیز شخصیت اور جادو اثر الفاظ نے سماں باندھ دیا۔انہوں نے صاحب کتاب ڈاکٹر فرحت عباس کو ان کی نئی تصنیف پہ مبارکباد دی اور اس کے بعد اپنے شاندار علم و فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”یہ عشق“ کے سرورق کے رنگوں پہ سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے مختلف رنگوں کی زبان سے حاضرین کو آگاہی دی۔اک فنکار کی انگلیوں کے نیچے اک اک رنگ اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے بول رہا تھا۔انہوں نے سرورق کے رنگوں کی بولی کے بعد تجویز دی کہ ٹائٹل کو مزید بہتر بنانے کے لیے اسے ”لا“ کی شکل میں ڈھالا جائے تو اس سے عشق کی اصل صورت واضع ہوتی ہے کیونکہ عشق میں ”لا“کی اہمیت مسلم ہے اور وحدانیت پہلی شرط ہے۔لا حسب،لا نسب،لا تکبر،لا دروغ،لا ہوس،لا جھوٹ۔۔لااپنی ذات کی نفی اور محبوب کی خاطر مٹ جانے والا کلمے کا پہلا حرف ہے۔ بے شک ’لا‘محدود ہے۔
ڈاکٹر فرحت نے بھی یہ ہی اعتراف کیا ہے
عشق کے ہاتھ خود کو بیچ دیا
ایک سودا کیا گراں دل کا

awamifaisla.com
awamifaisla.com

اب معروف شاعر اور مہمان خصوصی نسیم سحر تشریف لائے۔ خراماں۔۔خراماں،معطر۔۔معطر نسیم آرہی ہے کہ وہ آرہے ہیں۔۔خوبصورت لفظوں اور جذبوں کے خالق شاعر نسیم سحر نے پیارے انداز میں صاحب کتاب ڈاکٹر فرحت عباس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر فرحت عباس کی حالیہ کتاب ان کے ادبی سفر کا سرمایہ ہے۔مہمان خصوصی معروف شاعر اور نقاد عارف فرہاد سٹیج پہ تشریف لائے اور انہوں نے خوبصورت انداز میں ڈاکٹر فرحت کی شاعری اور استاد شعراء مومن،میر تقی میر،مصحفی،غالب اورفیض کے علاوہ کئی حالیہ شاعروں کے اشعار کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے انہیں دور حاضر کا میر قرار دیا۔عارف فرہاد کا شاعرانہ تجزیہ واقعی کمال درجے کا اک سمندر کی سی گہرائی رکھتا ہے جس کا اندازہ ان کی گفتگو سے اچھی طرح ہوتا ہے۔ صدر مجلس جبار مرزا تشریف لائے۔آپ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ معروف شاعر،نثر نگار،ادیب،سنئیر صحافی،محقق،سوانح نویس،ڈرامہ نگار،مدیر اور کالم نگار ہیں۔لفظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے اس خوبصورت تقریب رونمائی کے انعقاد پہ تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کو مبارکباد پیش کی اور ڈاکٹر فرحت کو”یہ عشق“ کی تکمیل پہ خراج تحسین پیش کیا۔اگرچہ عشق کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ کبھی سیراب نہیں ہوتا اور تا عمر اس کی تشنگی باقی رہتی ہے لیکن ”یہ عشق“ کی کتابی صورت آنا ادب کی دنیا میں اک سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے۔جبار مرزا نے ملک یاسر پاتوالی کے جذبات کی تعریف کی اور کہا کہ دنیا میں صرف وہی قوم عشق کے درجے پہ پہنچتی ہے جو اپنے راہبروں کو فراموش نہیں کرتی۔انہوں نے پیشہ ورانہ زندگی کے کئی تجربات شئیر کیے۔جبار مرزا نے کمال شفقت سے مجھے اپنی کتاب ”پہل اس نے کی تھی“گفٹ کی جو کہ میرے لیے اعزاز ہے۔اس پہ اپنی رائے فی الحال محفوظ رکھتی ہوں۔آخر میں صاحب مجلس ڈاکٹر فرحت عباس تشریف لائے۔انہوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاداورمہمانوں کی آمد پہ تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے ”یہ عشق“ کو اپنی زات کی تکمیل قرار دیا اور کتاب سے اپنا خوبصورت کلام سنایا۔تقریب کے آخر میں تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے صدر مختیار احمد فاروقی نے ڈاکٹر فرحت عباس کو ”یہ عشق“کی بہترین تصنیف 2019ء کا خصوصی ایوارڈ پیش کیا۔یہ ایوارڈ نہیں بلکہ تلہ گنگ کے لوگوں کی محبتیں ہیں جو ڈاکٹر فرحت عباس کو یاد دلاتی رہیں گی کہ تلہ گنگ صرف غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین نہیں بلکہ دلوں کی امین سرزمین ہے جہاں محبتوں اور اخلاص کے ساتھ ساتھ عشق حکومت کرتا ہے۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com