دکھ کی دوا ۔۔۔ دعا اور دوا ۔۔۔۔۔ (حسب منشا ) تحریر ۔۔۔۔ منشاقاضی

74

حالیہ وبا نے سفید پوش لوگوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں ۔ مانگنے والوں کے تو عیش ہو گئے ہیں مگر خود دار تختہ ء دار پر جھول رہے ہیں اگر کوئی طعام المسکین کی روح کو بہت ہی کم لوگ سمجھے ہیں جو مسکینوں کو ان کا سامان پرورش ان کے گھروں کی دہلیز پر پہنچا رہے ہوں ۔ ریاست مدینہ میں تو امرا سے لیکر غربا میں تقسیم کیا جاتا ھے مگر اس وقت لاک ڈاون میں جو انداز اپنایا جا رہا ہے وہ حقیقی مستحقین تک نہیں پہنچ رہا ۔ اس نازک اور آزمائش کی گھڑی میں کسٹمز ھیلتھ کئر سوسائٹی کا عملہ اور من جملہ احباب کا طرز مسیحائی قابل صد ستائش اور قابل تقلید ہے ۔۔

 

ریلوے کاخسارہ واضح طورپرکم ہواہے : شیخ رشیداحمد وزیرریلوے

 

اس آزمائش کی گھڑی میں وہ لوگ جو روزانہ کنواں کھود کر پانی پیتے تھے وہ دوگنا آزمائش کا شکار ہو گئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو فاقوں سے تو نہیں مرتے باتوں سے مر جاتے ہیں اور اپنا دست سوال کبھی بھی کسی کے سامنے دراز نہیں کرتے ہیں ایسے لوگوں تک پہنچنا بہت ضروری ہے
۔آگے کسو کے کیا کریں گے دست طمع دراز ۔
۔ وہ ھاتھ سو گیا ھے سرھانے دھرے دھرے ۔

 

رقصِ بسمل (خصوصی تحریر ) تحریر: محمد فاروق عزمی

خود دار لوگ احسانات سے دبی ھوئی زندگی کو موت سمجھتے ھیں اور انسانیت کی توہین گردانتے ھیں اس وبا میں کام کرنے والوں کو زمانہ کبھی نہ بھلا پائے گا جو خود دار اور سفید پوش لوگوں کے گھروں میں سامان پرورش پہنچاتے رہے ۔ مانگنے والوں کو تو ہر کوئی دے رہا ہے مگر وہ لوگ جو مانگتے نہیں ھیں ان تک رسائی کسٹمز ھیلتھ کیئر سوسائٹی کے سرپرست اعلی ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی ہدایات کی روشنی میں ہو رہی ہے ۔ کرونا وار میں یہ لوگ خدمت کی منتہا کو پہنچے ہوئے جذبات کے ساتھ متاثرین کو بے طلب دے رہے ہیں ۔

معاشرے میں بڑھتی ہوئی ’طلاق‘ کی وجوہات! تحریر (شیخ خالد زاہد)

صوبائی دارالحکومت لاہور میں اشفاق احمد اور وفاق اسلام آباد میں جہانگیر کی دستگیری امنگ کو جوان کرتی ہے ۔ بارہ کہو میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ نہ صرف مریضوں کو دیکھ رہےہیں بلکہ ایک وسیع دستر خوان کا بھی اھتمام کرتے ہیں ۔ جہاں ہر کوئی اپنی بھوک کا سامان وصول کر رہا ہے ۔ اس وقت جو صورت حال سامنےآ رہی ہےوہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ نوجوانوں کا ایک گروپ لوٹ مار کا بازار گرم کیئے ہوئے ہے ۔اور وہ بڑی قیمتی گاڑیوں والوں کو زبردستی روک کر زکوة مانگتے ہیں ان کےھاتھوں میں ھتوڑے اور کدالیں موجود ہیں وہ پہلے تو آپ ان کو دیہاڑی دار مزدور تصور کرو گے مگر جب ان کا جارہانہ طرز و اسلوب دیکھو گے تو آپ ان کی چیرہ دستی سے نہ بچ سکو گے ۔

 

کراچی۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے آن لائن اجلاس، رمضان المبارک کے دوران آن لائن دعوتی دروس کی پلاننگ پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لیا۔

تنہا ایک شخص معاشرے کے گرد آلود چہرے کو کیسے شفاف رکھ سکتا ھے ۔ ہمارے ایک بزرگ اذکار رفتہ برگیڈئیر محمد حنیف خان بہت آزردہ تھے انہوں نے بڑے دکھ اور درد بھرے لہجے میں اس افسوسناک منظر کو دیکھا اور محسوس کیا ۔اور اس غیر منصفانہ مدد کو رلیف نہیں تکلیف قرار دیا ان حالات میں بھی ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو مایوس نہیں دیکھا وہ اپنے سرکاری فرائض کی بجاآوری میں بھی کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے اور نہ ہی وہ خدمت خلق کی سرحدوں سے سر مو سرکتے ہیں۔ ان کی تازہ دم زندگی کا راز معلوم کرنے کے لیئے بارہادیکھا گیا ہے کہ وہ کام کام اور کام پر یقین رکھتے ہیں ان کی جوانی کا راز میں نے تو طشت از بام کر دیا ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ کام کرنے کی امنگ کا دوسرا نام زندگی ہےاور زندگی انسان کو ایک ہی دفعہ ملنی ہے اور اس کو سلیقے اور قرینے سے گزارو گے تو یہ مختصر بھی ہو گی تو لاجواب ہو گی زندگی خواہ مختصر ہو جائے ۔

 

لفافیت اور میریت ( آرزوئے سحر) تحریر : انشال راٶ

مگر سلیقے سے بسر ہو جائے ۔کام مقصد اور منزل ختم ہو جانے کا دوسرا نام بڑھاپہ ہے اور جاہ صاحب ان منزلوں کے لیئے سرگرم عمل رہتے ہیں ۔۔جاہ صاحب کی زندگی خدمت انسانیت سے عبارت ہے . دوسروں کی فکر کرنے والا ہی بہترین انسان ہے کیونکہ فکر سے بڑی کوئی سائنس نہیں اور فکر کسی بھی سچائی کی شہہ رگ ہے ۔ موجودہ حالات کی سگینیوں میں جو لوگ رنگینیاں تلاش کرتے ہیں وہ دوسرے کے لیئے ایثار اور قربانی کرتے ہیں موجودہ وبا کی تباہ کاریوں کو ایک مومن مسلمان کیسے دیکھ رہا ہے اس سلسلے میں چند سماجی سائنسدانوں سے اس کا جواب وصول ہوا ہے وہ آپ سے اشتراک کر رہا ہوں ۔جواں سال ماہر تعلیم سماجی سائنسدان فہد عباس نے اس وبا کے دوران لاک ڈاون کو فرصت نہیں مہلت قرار دیا ہے اور اپنے قول اور فعل پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔

 

”اس رزق سے موت اچھی..!!“ (تحریر : گلشن ناز)

قومیں اگر فکر سے محروم ہو جائیں تو ان کی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔ راجہ اسد علی خاں نے کہا کہ سچائی اور راست بازی کا گلا گھونٹنے والوں کے لیئے یہ وبا ریاکاری کی قبا کو چاک کر رہی ہے ۔ ممتاز سیاحتی سکالر مسعود علی خاں نے موجودہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے پرہیز اور احتیاط کا دامن نہ چھوڑنے پر زور دیا ہے ۔ محترمہ عذرا مرزا نے اس وبا کو پوری انسانیت کے لیئے بہت بڑی آزمائش قرار دیا ہے ۔ فاروق تسنیم کی فکر بھی مفکرین سے جدا نہیں ہے ۔ اس وقت ضروت اس امر کی ہے کہ اپنا ذاتی خیال ترک کر کے دوسروں کے لیئے ہر کوئی قربانی دے تو ہم ملکی معیشت کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھال سکتے ہیں ۔ ممتاز شاعرہ زرقا نسیم نے کہا کہ اس وبا کے بطن سے ایک توانا قوم جنم لے رہی ہے اور وہ پاکستانی قوم ہے جس قوم میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ جیسے قومی ہیرو ہوں گے اسے کوئی وبا اور بلا کچھ نہیں کہہ سکتی ۔

 

وزیراعظم عمران خان آج چین میں مصروف دن گزاریں گے

حفظان صحت کی سرحدوں پر کرونا وار سے لڑنے والی ڈاکٹر ماہا نسیم اور ڈاکٹر یمنا موجود ہیں اس قوم کو شکست سے دو چار نہیں کیا جا سکتا ۔ ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ اس وبا کو محسوس کرنے والے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس لیئے اپنی قوت مدافعت کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ جواں سال طالب علم ثمران خان جو اس وبا کے دوران اپنے علاقے میں جدید عہد کے ابلاغی ویپنز کے استعمال سے آگہی کی مہم چلائے ہوئے ہیں اس نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ وہ قومیں جو انسانیت کے لیئے نفع بخش کام کریں وہ دنیا میں زندہ رہتی ہیں ۔ ثمران خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے یہ موقع دیا ہے کہ ہم بے سرو سامان لوگوں کا سہارا بن جائیں ۔ ملک کی نامور خطیبہ نویرا بابر نے کہا کہ اس وبا سے نپٹنے کے لیئے معاشرے سے ناانصافی کا قلع قمع کر دینا چاھیئے اور وطن عزیز کی حرمت پر مر مٹنے والی پاک فوج کے جوانوں کو حقیقی تکریم دی جانی چاہیے اور ھمارے مصنوعی میعار زندگی میں حقیقت کا رنگ نظر آنا چاہیئے ۔

”تم پھرحکومت کرلینا“ تحریر:امتیازعلی شاکر

 

نویرا بابر نے اس وبا کو مسلمانوں کے لیے مہلک قرار دیا ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔۔ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے کہا کہ اس وقت تنہا حکومت اس وبا پر قابو نہیں پا سکتی اللہ نےعوام کو پاکستانی قوم میں بدلنے کی مہلت دی ھے ۔ممتاز ماھر تعلیم شہباز خان نے ان مخیر لوگوں کے جذبات و احساسات کو چھوتے ھوئے پیغام دیا ھے کہ ھم لوگ کرونا سے تو بچ جائیں گے مگر ھمارا ھمسایہ رات بھوکا رھا تو شدید باز پرس ھو گی ۔ انہوں نے اپنے واقف کاروں اور سفید پوش دوستوں کی خبر گیری کی ہے۔
آخر میں حتمی پیغام قرآنی فکر ھے اور ھم سب دین و دنیا کی بہترین سعادتیں حاصل کر سکتے ھیں کہ اگر ھم قرآن کریم کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو ھماری آخرت سنور سکتی ھے ۔

 

انا مارچ کی بھینٹ چڑھتا کشمیر! تحریر ۔ شیخ خالد زاہد

 

الللہ نے ھم سب کو مہلت دی ھےاس میں ھم بہت کچھ کر سکتے ھیں ۔ ورنہ بقول غالب ۔۔
بے کسی ھائے تماشا نہ عبرت ھے نہ ذوق ۔۔
بے دلی ھائے تمنا نہ دنیا ھے نہ دین

عید میلاد النبی ﷺدلوں میں جشنِ بہاراں، ہو نہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو (حسب منشا) تحریر۔ منشا قاضی

awamifaisla.com
awamifaisla.com