استاد کا مقام ۔۔۔ شاگرد کا کردار (حسب منشا) تحریر : منشا قاضی

79

جسم کے لئے ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور دماغ کے لئے استاد کی اور جو قومیں استاد کی عزت کرتیں ہیں وہ کامیاب ہوتی ہیں۔ دنیا میں صرف اُن لوگوں کو عزت و عظمت حاصل ہوتی ہے جنہوں نے استاد کا احترام کیا۔ سکندر سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ استاد کو باپ پر کیوں ترجیح دیتے ہیں جواب دیا اس لئے کہ باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد ارسطو مجھے زمین سے آسمان کی طرف لے گیا۔ استاد ہمیشہ اخلاقی برائیوں کو اخلاق کے ویپن سے ہی دور کرتا ہے اور وہ ایک حقیقی استاد کہلاتا ہے۔

کشمیر کی آزادی کا سورج ! تحریر۔ شیخ خالد زاہد

جو استاد بچوں کو زد و کوب کرتے ہیں انہیں اسلامی تاریخ کی ایک مثال پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ امام ابو حنیفہ ؒ کا پاؤں اتفاقاً ایک بچے کے پاؤں پر پڑ گیا بچے نے چیخ کر کہا کیا تجھے خدا کا خوف نہیں۔ یہ سننا تھا کہ امام صاحب غش کھا کر زمین پر گر گئے۔ واہ کیا خوب کسی شاعر نے کہا تھا کہ
اُس شخص کی تقسیم کا انداز تو دیکھو
اُس کا ہے خدا خوف خدا میرے لئے ہے
اساتذہ اکرام کا بڑا مقام ہے وہ قوموں کی تعمیر کرتے ہیں اور قومیں اپنے اعلیٰ کردار و اطوار کی بلندی پر پہنچ کر اپنے روشن نقش پا چھوڑتی چلی جاتیں ہیں جن پر آنے والی نسلیں اپنے لئے منزلوں کے نشان ڈھونڈ لیتی ہیں۔ مغر ب میں استاد کے مقام و مرتبہ پر جو بحث چل نکلی ہے وہ یہ ہے کہ عام استاد وہ ہوتا ہے جو سبق دے دینا کافی خیال کرتا ہو اور اچھا استاد وضاحت کے ساتھ سمجھاتا ہو او ر ذہن نشین بھی کرا دیتا ہو اس سے بھی آگے ایک منزل ہے احسن و اکمل کہ جوجذبہ حصول علم اور جذبہ عمل بھی ابھار دے۔ شاگرد ہمیشہ اُن استادوں پر جان چھڑکتے ہیں جو مہربان اور دور اندیش ہوتے ہیں۔ شاگردوں کے کام میں ان کے حالات میں دلچسپی لیتے ہیں۔

مکیں تلاش کروں یامکاں تلاش کروں تحریر:مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی

آج اُن استادوں پر بُرا وقت آیا ہوا ہے یا ہماری قوم کے مٹ جانے کا مقام ہے کہ ہم اُن اساتذہ اکرام کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں جن کی ڈانٹ میں نیکی ہے اور اُن کو اچھا کہہ رہے ہیں جن کی مسکراہٹ میں بدی کی آبِ جُو بہہ رہی ہے او ر وہ ہماری نسلوں کی اصلوں اور فصلوں کو تباہ کر رہے ہیں انہیں بد مزاج، سخت گیر کہنے والے اپنے والدین کو بھی بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ وہ اسلامی روایات کو دھندلا رہے ہیں اور شاگر اپنے استاد پر حملہ آور ہوچکا ہے۔ گذشتہ روز مولانا عبدالرؤف ملک جو ایک صاحب دل ملت اسلامیہ کے محسن ہیں وہ نہ صرف رو رہے تھے بلکہ آپ کا دل بھی رو رہا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد امین صاحب نے ماہنامہ البرہان لاہور میں یہ نیا پاکستان ہے، یہ نیا اسلام ہے، یہ ایک ریاست مدینہ ہے اور ہمارا نظام تعلیم …… نیا ماحول، نئی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مولانا عبدالرؤف ملک صاحب کے ہاتھ میں یہ رسالہ تھا اور وہ کہہ رہے تھے
دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

 

بات ٹماٹر کی نہیں ہے ! تحریر؛ مراد علی شاہدؔدوحہ قطر

اساتذہ اکرم پر طالبات جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جھوٹے الزام لگاتی ہیں۔ طلبہ اور استاد کے رشتوں کی پاکیزگی کو آلودگی میں بدلنے والے برقی ذرائع ابلاغ پر بڑے بڑے گفتگو طرازوں سے باز پرس ہوگی کہ تم نے پہلے شہوت کی آگ بھڑکائی اور پھر تماشائی بن کر اپنے چینل کو مقبول بنانے کے لئے واویلا مچا نا شروع کر دیا کہ دیکھو اخلاق اور کردار کا گھی پگھل رہا ہے۔ استاد کا مقام طلبہ کے دلوں سے گرایا جارہا ہے اور پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کو طلبہ کے ایک گروپ نے کار سے جس طرح نکالا ہے آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑا اور اُن طلبہ کے ہاتھ کیوں نہ شل ہوگئے جنہوں نے وائس چانسلر کو زد و کوب کیا اور جی بھر کر اپنی جہالت کا ثبوت دیا۔ ملتان میں پروفیسر اعجاز کو اس لئے سر عام شدید ترین پیٹا کہ آپ نے ایک تقریب میں بعض طلبہ کو اُن کی ”خر مستیوں“ پر ٹوکا تھا۔

”یونین سازی طلباء کا بنیادی حق ” تحریر: سلمان احمد قریشی

ہمارے ایک دوست تھنک ٹینک کے سربراہ جناب فاروق تسنیم نے ایک پریس کانفرنس میں اس کی پُر زور مذمت کی اور زوال زدہ قوم کو نیست و نابود ہوتے دیکھنے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اس پریس کانفرنس کا اہتمام سول سوسائٹی فورم ملتان کے شاہد انصاری اور جاوید اقبال خان نے کیا تھا اور اتفاقاً فاروق تسنیم ملتان میں تھے تو انہوں نے آپ کے احترام میں پریس کانفرنس میں انہیں مرکزی اہمیت دی۔ یہ سعادت مندی ہے۔ پاکستانی قوم مہنگائی کے جن سے، بجلی، پانی سوئی گیس، فون اور دیگر ٹیکسوں کے بوجھ تلے ابھی تک نہیں کراہی مگر اس زوال سے نہ بچ سکے گی۔ تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہوئے میری نگاہ اس واقعہ پر رک گئی کہ جب مولانا حسین احمد مدنی تبلیغی دورے پرسید پور بنگال گئے ہوئے تھے اور ایک نوجوان نے آپ کی ٹوپی سر سے اتار کر اپنے پاؤں تلے روند ڈالی تھی اور کچھ عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اوباش نوجوان ایک تالاب میں ڈوب کر مر گیا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری اپنے استاد کی اس بے حرمتی پر ایک احتجاجی جلسے میں آئے تو سر سے ننگے آئے تو احباب نے پوچھا شاہ جی آپ کی ٹوپی کہاں گئی۔ آپ نے فرمایا وہ بھی مدنی کی ٹوپی کے ساتھ گئی اور جس وقت تک اس اوباش نوجوان کی تالاب میں ڈوب کر موت نہیں ہوئی شاہ جی سر سے ننگے ہی رہے اور اسی احتجاجی جلسے میں آپ نے ایک اور واقعہ سنایا کہ میری زندگی ریل اور جیل سے ہمیشہ آشنا رہی ہے اور جب میں کلکتہ جیل میں گیا تو میں نے اپنی دستار اتار کر ہندو جیلر کے سپرد کر دی اور کہا کہ یہ میری عزت ہے اور تیرے حوالے ہے۔

وقت اور زندگی کا کیا بھروسہ ! تحریر۔۔۔علی رضا رانا (حیدرآباد، سندھ)

وہ ہندو رونے لگ گیا اور یقین دلایا شاہ جی میں اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ حفاظت کروں گا۔ شاہ جی نے ایک آہ بھری اورروتے ہوئے مخاطب ہوئے لوگوں میں کیا کہوں وہ بنگال کا ایک مسلمان نوجوان تھا کلکتہ کا ہندو نہ تھا۔ اگر بنگال کا مسلمان جیلر ہوتا تو وہ میری دستار کا ہر تار، تار تار کر دیتا۔ پورے پنڈال کے نالے افلاک تک جارہے تھے اور عرش و فرش میں ایک ہیجان اور تحرک پیدا کر رہے تھے۔ سعادت مندی بہت بڑی ظفر مندی ہے اور تعلیمی اداروں میں صالح طلبا اپنے سلیقہ شعار والدین کے چلتے پھرتے اشتہار ہوتے ہیں۔مولانا عبدالرؤف ملک، پروفیسر سعد صدیقی، محمد ریاض آسی، ملک افضل اور پاک یوتھ موومنٹ کے چیئرمین حیدر علی نے اساتذہ اکرام کی تعظیم اور تکریم کے لئے ایک بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

حریم شاہ ٹک ٹاک سٹار ایک سنجیدہ مسئلہ تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر