توبہ۔۔۔دروازہ ہر لمحہ کھلا ہے تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی۔ملتان

85

حضرت ابراہیم ادہم رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا،کیا سبب ہے اللہ تعالیٰ مدعاؤں کو قبول نہیں کرتا؟آپ ؒنے فریایا تم اللہ تعالیٰ کو جانتے ہو لیکن اس کی اطاعت نہیں کرتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچانتے ہومگر ان کی پیروی نہیں کرتے،قرآن مجید پڑھتے ہو مگر اِس پر عمل نہیں کرتے،اللہ تعالیٰ کی نعمت کھاتے ہومگر شکر نہیں کرتے۔جانتے ہودرزخ گہنگاروں کے لیے ہے مگر اس سے ذرا نہیں ڈرتے،شیطان کو دُشمن سمجھتے ہو مگر اس سے نہیں بھاگتے،موت کو برحق سمجھتے ہومگر کوئی سامان نہیں کرتے۔خویش و اقارب کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے ہو لیکن عبرت نہیں پکڑتے،بھلا جو شخص اس طرح کا ہو اُس کی دُعا کیونکر قبول ہو سکتی ہے۔

درج بالا اقتباس”توبہ۔۔دروازہ ہر لمحہ کھلا ہے“سے لیا گیا ہے۔توبہ کا دروازہ قیامت کی آخری نشانی یعنی جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تک کُھلا ہے۔سچی توبہ اللہ تعالیٰ سے دوستی کی پہلی منزل ہے پھر ہم اللہ تعالیٰ سے دوستی کیوں نہیں کرتے۔یہ کتاب علامہ عبدالستار عاصم نے تالیف کی ہے۔اس کتاب کے اندر قرآنی آیات مبارکہ بمعہ ترجمہ اور احادیث کے حوالوں سے توبہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ان کے اندر توبہ کے ثمرات اور تقاضے،توبہ کا مطلب،توبہ کی جامع تعریف اور توبہ کی روایات و حکایات بیان کی گئیں ہیں۔یہی نہیں بلکہ بزرگان دین کے اقوالِ توبہ بھی دئیے گئے ہیں۔

علامہ عبدالستار عاصم کو میں ایک ناشر کی حیثیت سے جانتا تھا لیکن آپ نامور ادیب اور قلم کار بھی ہیں۔آپ کے قلم میں جولانی ہے جس کا اندازہ آپ کی کتاب ”انسائیکوپیڈیا رحمت اللعامین،قصہ ایک صدی کا،سکون قلب سے باخوبی ہو جاتا ہے۔آپ کا قلم حق اور سچ کے ساتھ رواں رہتا ہے۔یہ سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں سے اپنے پیاروں کے بارے لکھواتا ہے اور لکھنے کی طاقت بھی عطا کرتا ہے۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com

علامہ عبدالستار عاصم،قلم فاؤنڈیشن کے روح رواں ہیں۔اس ادارے سے کئی کتب شائع ہو چکی ہیں جوشہرت حاصل کر رہی ہیں۔آپ ناشر کے ساتھ ساتھ کتاب دوست شخصیت کے مالک ہیں۔صاحب کتاب ہیں اور صاحب کتاب دوست کا وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں۔کتاب کی خوشبوؤں میں رہتے ہیں اور پوری دُنیا میں کتب کی خوشبو پھیلانے میں ہمہ تن کوشاں ہیں۔

”توبہ۔۔۔دروازہ ہر لمحہ کھلا ہے“200صفحات پر مشتمل معیاری کتاب ہے۔جس کا انتساب نامور شخصیات کے نام کیا گیا ہے۔پیش لفظ میں لکھتے ہیں دین و دُنیا میں فلاح اور آخرت میں حصول نجات کا پہلا قدم اور آخری سہارا توبہ ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ انسان اللہ کے حضور اپنی غلطیوں اور گناہوں پر معافی مانگتا رہے۔گناہ اور نافرمانی انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں جو سراسر خسارہ کاسودا ہے،اس کے برعکس اطاعت اور ترکِ گناہ قرب الہٰی کا ذریعہ ہے۔توبہ اطاعت کی طرف مائل کرتی ہے اور ترک گناہ کی طرف ترغیب دیتی ہے۔

”توبہ۔۔۔دروازہ ہر لمحہ کھلا ہے“میں توبہ کے واقعات کے ساتھ ساتھ طالبوں کے لئے اہم فتاویٰ دئیے گئے ہیں۔ان سوالوں کے جوابات پڑھ کر یقینا آپ سکون پاسکتے ہیں اور ترِک گناہ کرکے سچی توبہ کرکے احکام دین پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔یہ کتاب دُعاؤں کے خزانوں کا مجموعہ ہے۔اس میں عاجزی و انکساری کی عمدہ مثالیں ہیں۔ایک گناہ گار کی توبہ کی التجا میں عاجزی سے دعا کی گئی ہے۔

یاالہٰی!یہ اولاد آدم بھی بڑی عجیب ہے جب تیری اطاعت پر آتی ہے تو فرشتے بھی ہیچ ہو جاتے ہیں۔قدم قدم پر تیرے نام پر جان فداکرتی ہے۔تیرے عشق میں گھربار،مال و دولت گویا کہ سب کچھ لٹادیتی ہے مگر جب تیری نافرمانی اور سرکشی پر آتی ہے تو ایسے ایسے گناہ کرتی ہے جو تقاضائے بشریت کو روند ڈالتے ہیں۔ہر سوبُرائیوں کی ہنگامہ آرائی سے اور اس سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔توبہ صرف اور صرف توبہ۔

نفس،توبہ کے راستے میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے جو انسان کو نیکی کی طرف نہیں آنے دیتا انسانی نفس خواہشات کی آماجگاہ ہے اور اس کی وجہ سے انسان کے دل میں طرح طرح کی بے شمار جائز اور ناجائز تمنائیں اور آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں۔نفس مادی جسم کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور تن آسانی پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور جب نفس کو دینوی سہولتیں میسر آجاتی ہیں،مادی دولت کی ریل پیل ہوتی ہے دنیاوی سکون خوب حاصل ہوتا ہے۔دنیاوی لذتیں اس طرح انسان پر سوار ہیں کہ انسان کے دل میں اللہ کا خوف ہی نہیں رہا اور یہی خواہشات انسان کو دُنیا کے حصول کی طرف اتنا محو کر دیتی ہے کہ انسان اللہ اور اس کے دین کی طرف سے غافل ہو جاتا ہے۔

 

اے حضرت انسان گناہوں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور کہہ دے اللہ!میری توبہ۔اللہ میری توبہ۔سو بار توبہ۔وہ ذات حمید بھی ہے مجید بھی۔ہمارے عیبوں پر پرڈا ڈالنے والی بھی ہے۔اے اللہ!جب میری زندگی کا ہر طرح کار سازتو ہے تو پھر میں ہر طرح تجھ ہی سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں۔میرے اللہ!معاف فرما۔۔معاف فرما۔

”توبہ۔۔دروازہ ہر لمحہ کھلا ہے“پڑھ کر بھٹکتے ہوؤں کو توبہ کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔آئیے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم والی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔علامہ عبدالستار عاصم کے علم وعمل میں برکت فرمائے۔آمین ثم آمین!۔ یہ کتاب ہر اچھے بک سنٹر پر دستیاب ہے۔ایسی کتاب کو ہر گھر کی زنیت بننا چاہیے۔خود مطالعہ کا معمول رکھیں اور اپنے بچوں کو مطالعہ کا عادی بنائیں تاکہ نسل نو خود کو سنوارے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکے۔دُنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو سنوار سکے۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com