موجودہ بیہودہ سنگین حالات میں علما کا کردار تحریر: منشا قاضی

65

اسلام نے جو عورت کو مقام دیا ہے وہ دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا۔ اسلام عورت کو مرد کا غلام نہیں اس کا حقیقی خیر خواہ، ہمد دم و دمساز رفیق اور ساتھی قرار دیتا ہے۔ گزشتہ روز خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پورے ملک میں چند خواتین نے ترقی کے نام پر بیہودگی کی منتہا کر دی ہے۔ جس کی مثال قیام پاکستان سے لے کر آج تک نہیں ملتی۔ عورت اپنے مقام و مرتبہ کی بلندی سے کیوں گرتی جارہی ہے۔ اگر پھول سے اس کی خوشبو،شمع سے اس کی روشنی اور ماہتاب سے اس کی کرنیں چھین لی جائیں تو بتائیے کہ باقی کیا رہ جائے گا۔

 

بالکل اسی طرح اگر خواتین سے اُن کا وقار، اُن کی عظمت، ان کی نسائیت چھین لی جائے اور اُن کو کوچہ و بازار میں بھیج دیا جائے تو تقدس کا جوہر کس طرح برقرار رہ سکتا ہے؟ تہذیب و ترقی کے نام پر خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اور جس طرح چراغ خانہ کو شمع محفل بنا یا گیا کیا ایسا کرنے والوں نے بھی کبھی سوچا کہ وہ خواتین کے فطری جوہر کو پامال کرنے کی حماقت کر رہے ہیں۔ خواتین کا اصل اور جرأت آزما مقام گھر کی چار دیواری ہے اسے قدرت نے انسانی معاشرے کو انسانیت کے جوہر سے آشنا کرنے کا کام سونپا ہے۔ ہماری اعلیٰ مشرقی روایات کی تابندگی کو دھندلانے کی سازش کرنے والے 8ملکوں نے پاکستان کی اسلامی اقدار کو یومِ خواتین کا نام دے کر پامال کر دیا ہے۔

 

 

متحدہ علاء کونسل کے سربراہ حضرت مولانا عبدالرؤف ملک جب یہ دیکھتے ہیں کہ عورت کو اصل منصب سے ہٹا کر محنت و مشقت سے پیسہ کمانے والا بے روح سائنسی آلہ بنا دیاگیا ہے تو وہ خون کے آنسو روتے ہوئے اپنے اُن راہنما علما کو پکار رہے ہیں کہ آؤ اس عریانی، فحاشی اور بے شرمی کی مغربی یلغار کو روکنے کے لئے اپنے فروعی اختلافات بھلا کر اسلامی اور مشرقی خاندانی نظام کی عمارت کو بچایا جائے۔ اگر علمائے اکرام نے اپنے فرض منصبی کو نہ محسوس کیا تو پھر وہ بھی اس اندھی اور گندی تہذیب کی دلدل میں دھنس کے رہ جائیں گے۔ مولانا عبدالرؤف ملک صاحب علمائے اکرام سے چیخ چیخ کر فریاد کر رہے ہیں اور وہ اس کرب مسلسل سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ ہم مسجود ملائک ہو کر دنیا میں ذلیل و رسوا ہورہے ہیں۔ علمائے اکرام کی تبلیغ اور برقی ذرائع ابلاغ کے اینکر پرسنز کی تنقید دونوں میں ارض و سما کا فرق ہے۔

 

 

علمائے اکرام اپنے اخلاق کی قوت سے ملک کی چند گمراہ عورتوں پر غالب آسکتے ہیں مگر لفظی گولا باری اور دریائے خیال کی پراگندگی سے آداب و اخلاق کا درس نہیں دیا جاسکتا۔ مولانا فضل رحیم جو اسمِ با مسمیٰ ہیں آپ نے بھی چندمریض اور نفسیاتی خواتین کے مرض کی تشخیص کی ہے۔ آپ نے مریض سے لڑنے کی بجائے اُس مرض کو بیخ و بُن سے اکھاڑنے کی تجویز دی ہے۔ بقول علامہ اقبال کے کہ آداب و اخلاق تعلیم گاہوں سے نہیں ماؤں کی گود سے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ قوموں کی تاریخ اور اُن کے ماضی و حال کو اُن کی ماؤں کا فیض قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ماؤں کی پیشانیوں پر جو لکھا ہوتا ہے وہی قوم کی تقدیر ہوتی ہے۔ متحدہ علما کونسل کے سربراہ مولانا عبدالرؤف ملک نے علمائے کرام سے درد مندانہ فریاد اور اپیل کی ہے کہ وہ اس آزمائش میں ملت کی فلاح اور معاشرے کی اصلاح کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔

 

 

مغرب کی تہذیب عریانی کے تپتے ہوئے صحرا میں جھلس گئی ہے اور اس نے ایک سازش کی کاوش سے ہمارے اطمینان افروز ماحول کو پراگندہ کرنے کی پوری منصوبہ بندی کر لی ہے۔ اس وقت اُن کے عیار اور مکار منصوبہ ساز ذہن چند عورتوں کے ذریعے ہمارے مشرقی خاندانی نظام میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں تاکہ یہ نظام دھڑام سے زمین بوس ہوجائے اور مغر ب کا مشرق سے ملاپ ہوجائے جو کبھی بھی نہ ہوسکے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو علمائے اکرام کو ہی اس کا سزاوار قرار دیا جائے گا۔ اس وقت مولانا عبدالرؤف ملک نے علمائے اکرام کو وقت کی نزاکت، حالات کی سنگینی اور واقعات کی بے یقینی کی پوری داستان بیا ن کر دی ہے اور جدید عہد کے ابلاغی ویپن کے ذریعے کروڑوں لوگوں تک اپنی فریاد، اپنی اپیل اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے۔

 

 

آپ نے پروفیسر ڈاکٹر سلطان سکندر اور جناب ریاض آسی اور علمائے کرام کے علاوہ کل اللہ کے حضور لاکھوں انسانوں کی گواہی کو اپنی نجات کا باعث قرار دیا۔ انشاء اللہ۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا