ماہ نور نعیم کی کتاب ” نیلم ” ایک بہترین تخلیق

Mahnoor Naeem's book "Neelam" is an excellent creation

112

"اللہ بہت بڑا ہے۔ اس کی ذات اپنی مثال آپ ہے۔ وہ کون و مکاں کا مالک اور زمین و آسمان کو بنانے والا ہے۔ وہی تو ہے جس نے رات کو چاند سے روشنی بخشی اور دن میں سورج سے اجالے بکھیرے۔

Mahnoor Naeem’s book "Neelam” is an excellent creation

وہ آب و آتش کو یکجا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس نے انسان کی ہر سانس میں اپنی سوچ رکھی ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنا سوچتا ہے، کتنا کھوجتا ہے۔ جتنا وہ رات کی تاریکی میں ڈوب کر اسے یاد کرتا ہے ، اتنی ہی اس کی صبح روشن اور پر نور ہوتی چلی جاتی ہے۔”

یہ احساس جان لیوا ہوتا ہے کہ کوئی نظر نہ آنے والی مخلوق آپ کے ساتھ بیٹھی ہے ، آپ کی باتیں سن رہی ہے اور سب سبے بڑھ کر یہ کہ وہ آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کر رہی ہے ۔

مجھے احساس ہوا تھا کہ اس نے میرے پاؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہیں، جس نے مجھے پہلی رات ہی اوپر اپنے پاس چھت پر بلایا تھا۔

ماہ نور نعیم ناول کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں:

"بچپن سے کہانیاں پڑھنے کا شوق کب لکھنے کے جنون میں بدلا، احساس ہی نہ ہوا۔ وقت اور حالات کے لبادے میں احساسات اور سوچوں نے کب سنجیدگی کا روپ ڈھالا ،

گزرتے وقت کے ساتھ اس بات کا پتا تب ملا ، جب لفظوں میں گھلے درد نے روح کو کرب سے آشنا کیا، مگر امید کا لرزتا دیا ہر گزرتے دن کے ساتھ روشن ہوتا چلا گیا اور چاند تاروں کو نگاہوں میں بسانے والی ایک لکھاری نے ، قلم سے ناطہ جوڑ لیا۔

تب احساس ہوا کہ خیالوں میں بسی چاند تاروں کی دنیا ، حقیقت کی دنیا سے قطعی مختلف ہے۔ سوچ کی پختگی کے ساتھ ہی کامیابی کے کٹھن راستے پر چلنا دشوار ہو گیا، مگر اس وقت ابر رحمت یوں برستا کہ گزشتہ ہر ناکامی ، کامیابی کے آسمان پر دم توڑتی محسوس ہوتی ۔

 

"زندہ کرداروں سے کشید ایک ایسی کہانی کہ جس کی سطر سطر آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کردے کہ کیا واقعی یہ سب کچھ ہماری دنیا میں ہو رہا ہے ؟ پھر احساس ہوگا کہ ایسا تو ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی انسان کے مسئلے مسائل وہی ہیں جو آدم علیہ السلام کے زمانے میں تھے، جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا۔ انسانی فطرت اٹل ہے۔ قیامت تک انسان ہی انسان کو ڈستا رہے گا۔

ایسی ہی تجسس اور عقل سے ماورا ایسی عورت کی داستان جسے سائنسی اصطلاح میں "Psychy”

 

مگر عام لوگ "سایہ ہے” کہہ کر نجانے کتنی زندگیوں کو جہنم بنا دیتے ہیں ۔
ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے ، کیسے ان دکھیارے انسانوں کو اس اذیت سے نکالا جا سکتا یے، یہ سب آپ کو ناول پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہو گا۔

 

میری اس کہانی میں ایک تلخ معاشرتی حقیقت چھپی آپ کو ملے گی ۔ معاشرے میں پھیلے غبن کے ناسور کو کاٹنا ممکن ہی نہیں ، جب تک آپ خود اس کے لئے عملی قدم نہ اٹھائیں۔

ہمارا ایک چھوٹاساخیال اور شوق نجانے کتنے انسانوں کی زندگی تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔کیونکہ انسان اپنی حدوں کو پھلانگتے ہوئے خدا کے وضع کردہ اصول بھلا بیٹھتا ہے کہ اس کی اوقات کیا ہے؟

 

انہی خیالات سے اخذ یہ ایک ایسا ناول ہے جس کا بیشتر حصہ حقیقت اور سچائی ہے۔نیلم کی زندگی جن کٹھنائیوں کا شکار رہی ، وہ حقیقت کے سمندر سے نکالا گیا ایک ایسا گوہر ہے، جو اپنی زندگی میں تو گمنام رہتا ہے ، مگر مرنے کے بعد اس دنیا میں اپنی خوشبو چھوڑ جاتا ہے۔

 

کہانی کیسی تھی؟ یہ آپ پڑھ کر ہی بتا سکتے ہیں ۔ مگر اتنا ضرور کہوں گی کہ آپ کو اپنے ارد گرد اس کہانی کے بے شمار کردار ، مختلف کہانیوں اور نئے انداز کے ساتھ ملیں گے۔

 

لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ خدا کی زمین پر اس کی بے شمار مخلوقات بستی ہیں جو قیامت تک انسانوں کے ساتھ ہی بسیرا کئے رکھیں گی۔ شیطان، جن پریاں ۔۔۔ان کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں ؟

 

اس کے بارے میں مختلف خیالات اور واقعات ملتے ہیں ، مگر زیر بحث ناول "نیلم "سے جڑا ہر کردار اپنی زندگی میں کسی نہ کسی خواب کے پیچھے دوڑتا محسوس ہو گا۔

 

کون اپنے مقصد میں کامیاب ہوا؟ کس کو کتنی دوڑ دھوپ کرنا پڑی اور کون پیچھا کرتے ناکامی کے بھوت سے ڈر کر اپنی راہ تبدیل کر بیٹھا؟حیران کن واقعات کا ایک نہ ٹوٹنے والا سلسلہ آپ کو ہر صفحے میں سحر پھونکتا محسوس ہو گا ، کیوں کہ حقیقی کردار اس کہانی کے ہر واقعےمیں آپ کو سانس لیتا مگر آپ کی سانسیں چھینتا محسوس ہوگا۔

 

اس ناول کے بارے میں محمد عرفان رامے لکھتے ہیں:
"ماہ نورنعیم کے لیے یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ وہ جو بھی لکھتی ہیں ہٹ کر لکھتی ہیں ۔ اُن کی تحریر میں صرف روایت نہیں، بغاوت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے ۔

 

یہ بغاوت اُن معاشرتی ناہمواریوںکے خلاف ہے جو عام انسان کو اندر ہی اندر کھائے چلی جارہی ہیں ۔ ’’نیلم‘‘ اُن کا پہلا ناول ہے ۔ اس پُر تجسس ناول میں صرف ماوراتی کش مکش ہی نہیں، تصوف کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے۔مصنفہ اپنے خیال کو تخلیق کے عمل سے گزار کر تحریر میں ڈھالنے کا فن خوب جانتی ہے ۔

 

اُن کی تحریر میں بہتے ہوئے پانی کی سی روانی ہے ۔ ناول میں منظر نگاری اس قدر خوب صورت انداز میں کی گئی ہے کہ پڑھنے والا خود کو کہانی کا کردار سمجھ کر الفاظ کے اس دریا میں بہتا چلا جاتا ہے ۔

 

مجھے یقین ہے کہ ایک بار ناول شروع کرنے کے بعد قاری ہر گز اسے ادھورا نہیں چھوڑے گا۔میں دُعا گو ہوں کہ ماہ نور کے قلم کی روانی برقرار رہے اور اُن کے مزید شاہ کار ناول ادبی خزانے میں اضافے کا باعث بنیں ۔

 

محمد عرفان رامے

معروف ناول نگار،مصنف ،کہانی کار

قیمت/-500روپے،ہوم ڈلیوری فری

کتاب گھر بیٹھے منگوانے کا طریقہ:

آپ اپنا مکمل نام و پتہ اور رابطہ نمبر یہیں پر عنایت کردیجیے، کتاب آپ کو بھجوا دی جائے گی،ان شاءاللہ 3سے 4دنوں میں کتاب آپ تک پہنچ جائے گی، آپ صرف /-500روپے دے کر وصول کر لیجیے گا،

Mahnoor Naeem's book "Neelam" is an excellent creation
Mahnoor Naeem’s book "Neelam” is an excellent creation

تمام تر معلومات اور تفصیلات کے لیے رابطہ کیجیے:

Call&what’s app
03004611953