بھارت میں مسلمان لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا

ہندو لڑکے سے شادی سے انکار کرنے پر گلناز نامی لڑکی کو ستیش کمار نے اپنے کزن کے ساتھ مل کر آگ لگائی تھی، پولیس نے واقعے کا مقدمہ ہی درج نہیں کیا

11

بھارتی شہر بہار کے علاقے ویشالی میں شادی سے انکار کرنے پر مسلمان لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا ۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق 20 سالہ گلناز کو شادی سے انکار پر ستیش کمار نامی نوجوان نے کزن اور دوست کے ساتھ مل کر آگ لگا دی، گلناز کچرا پھینکنے گھر سے باہر نکلی تھی جہاں ستیش کمار نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگائی ۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق گلنازکو ستیش نامی نوجوان کئی ماہ سے مسلسل تنگ کررہا تھا اور شادی کرنے پر اصرار کررہا تھا۔ آگ کے باعث گلناز کے جسم کا 75 فیصد حصہ بری طرح جھلس گیا تھا جہاں پندرہ روز تک ایڈمٹ رہنے کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکی

 

اور زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ موت سے قبل اپنے ویڈیو بیان میں گلناز نے بتایا کہ ستیش اسےکئی دنوں سے تنگ کررہا تھا

 

جس پر ایک دن اس نے صاف کہہ دیاکہ وہ مسلمان ہے اور اس سے شادی نہیں کرسکتی جس کے بعد جب وہ کچرا پھینکنے باہر گئی تو ستیش نے دیگر 2 افراد کے ہمراہ اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔

 

گلناز کی جانب سے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے جانے کے باوجود 2 ہفتوں سے زائد ہوچکے ہیں لیکن ملزمان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوسکا ہے۔

 

 

گلناز کے خاندان کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس جان بوجھ کر گلناز کے قاتلوں کیخلاف کارروائی نہیں کی ۔ گلناز کی وفات کے بعد اس کے اہلخانہ نے انصافکی فراہمی کے لیے میت کے ہمراہ دھرنا دے دیا

 

جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ گلناز کو انصاف فراہم کرے اور مجرموں کو سخت سزا دے۔

 

بھارتی حکومت سے گلناز کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے بڑی تعداد میں ہندو بھی سامنے آ گئے ہیں، اور سوشل میڈیا میں گلناز کو انصاف دو کا ٹرینڈ بھی بنا رہا ۔