دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔

وفاقی کابینہ نے آرٹیکل 63 ون سی تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم بل کی منظوری دے دی

71

اسلام آباد (عوامی فیصلہ نیوز) دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں سے متعلق کابینہ کمیٹی برائے قانون کیسز کا فیصلہ مسترد کر دیا گیا۔ تفصیل کے مطابق وفاقی حکومت نے دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔

دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں سے متعلق کابینہ کمیٹی برائے قانونی کیسز کا فیصلہ مسترد کر دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے آرٹیکل 63 ون سی تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم بل کی منظوری دے دی ہے۔ دہری شہریت کے حامل افراد کو حلف اٹھانے سے قبل شہریت ترک کرنا ہو گی۔واضح رہے کہ حکومت نے دہری شہریت کے حامل افراد کو الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دینے کی کے لیے آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

 

وفاقی حکومت نے ایک آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا جس کے تحت دہری شہریت کا حامل بھی الیکشن لڑ سکے گا۔۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ الیکشن لڑنے کے لیے دہری شہریت ترک کرنا لازمی نہیں ہو گا۔ ترمیمی مسودہ آئندہ چند روز میں قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی بھی دہری شہریت کے حامل تھے۔ حال ہی میں معاونیں خصوصی کے اثاثوں اور دہری شہریت کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد حکومت پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

اسی تنقید کے بعد معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا تانیہ ایدروس عہدے سے مستعفیٰ ہو گئی تھیں تانیہ ایدروس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ میری دہری شہریت پر تنقید کی گئی جس کی وجہ سے ڈیجیٹل پاکستان کا مشن مکمل نہیں ہو سکے گا، میں عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہوں لیکن وزیراعظم عمران خان کے مشن پر بطور پاکستانی کام کرتی رہوں گی۔ تانیہ ایدروس کو وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا تعینات کیا تھا۔

 

جس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جانب سے کہا گیاتھا کہ تانیہ ایدروس پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کی بہتری کے لئے کام کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری بھی دہری شہریت کے حامل ہیں۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں وفاقی کابینہ میں دہری شہریت والے معاونین خصوصی اور مشیران کو عہدے سے ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔