پاکستانیت اور ڈاکٹر صفدر محمود تبصرہ نگار: علامہ عبدالستار عاصم

تاریخ، سیاست،تحریک پاکستان کے طالب علموں، محب وطن پاکستانیوں اور حقائق کے متلاشی ذوقِ مطالعہ رکھنے والوں کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔

247

پاکستانیت، تاریخِ پاکستان، تحریک پاکستان اوراس تحریک سے جڑے اُن تمام عظیم راہنماؤں پر محب وطن قلم کاروں اور مصنفوں نے بے شمار لکھا ہے اور آئندہ بھی لکھتے رہیں گے خصوصاً قائد اعظم ؒ، علامہ اقبال اور ان کے رفقاء پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن کچھ عرصے سے یہ رواج چل نکلا ہے کہ پاکستان، قائد اعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور ان کے دیگر ساتھیوں ا ورتحریک پاکستان کے اہم کرداروں کے بارے میں جھوٹی اور بے بنیاد باتیں پھیلا کر اور ہرزہ سرائی کرکے، پاکستانی قوم کو ان سے بد ظن کیا جائے اور خاص طور پر نوجوان نسل کے ذہنوں میں ایسی غلط فہمیاں اور نفرتیں بھر دی جائیں کہ وہ اپنے محسنوں کو ہی اپنا ستم گر سمجھنے لگیں۔ ایسا وہ نام نہاد دانشور اور محقق کر رہے ہیں، جو نہ تو دانش ور ہیں اور نہ ہی حقیقی محقق یا شاید جنہیں دانش اور تحقیق کی ہوا بھی نہیں لگی۔ لیکن سستی شہرت اور اغیار کی کاسہ گدائی نے انہیں اتنا پست کردار اور مُردہ ضمیر بنا دیا ہے کہ ”بند لفافوں“ کے تابوت میں اترتے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ جن چند ٹکوں کے لیے وہ اپنے ضمیر، اپنے وطن اور اپنے لوگوں کا سودا کر رہے ہیں، وہ ٹکے انہیں محب وطن اور سچے کھرے قلمکاروں کی نظر میں ”ٹکا ٹوکری“ کر رہے ہیں او سنجیدہ حلقے میں ان کی کسی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن بہرحال ایسے لوگوں کی اپنے ہی وطن کے خلاف ہرزہ سرائی اور پراپیگنڈے سے کچے ذہنوں کی فصل ضرورخراب ہورہی ہے۔

ایسے لوگوں کی خرافات کا جواب دینے کے لیے بھی اس خداداد مملکت پاکستان میں محب وطن لوگوں کی کمی نہیں ہے، انہی میں ایک بہت معتبر نام ڈاکٹر صفدر محمود کا ہے۔ جن کی حال ہی میں چھپنے والی کتاب ”سچ تو یہ ہے“ میرے سامنے ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے حقائق کو مسخ کرنے والوں کو تاریخی شواہد کی بنا پر بڑا مدلل جواب دیا ہے اور ایک ایک اعتراض اور ایک ایک نقطے کو اپنی تحقیق اور جستجو سے مکمل اور ٹھوس شواہد کے ساتھ رد کیا ہے کہ اب ان ”یوٹیوبیے“ دانشوروں اور محققوں کو اگر شرم ہو جی ہاں اگر شرم ہو تو اپنی زبانیں بند کر لینی چاہییں اور کہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب کے دیباچے میں رقم طراز ہیں:
”یہ کوئی سات آٹھ برس قبل کی بات ہے کہ ایک روز مجھے پنجاب کے ایک دور افتادہ ضلعی مقام سے بی اے کی ایک طالبہ کا فون آیا۔ اُس نے میری آواز سنتے ہی پوچھا انکل کیا آپ نے فلاں صاحب کا کالم پڑھا ہے؟ میرا جواب نفی میں سُن کر وہ رونے لگی۔ اُس نے روتے ہوئے مجھے بتایا کہ اُس دانشور نے قائد اعظمؒ کے بارے میں بڑی تکلیف دہ اور غلط باتیں لکھی ہیں اور اس کے اندازِ تحریر سے گستاخی یا بد تمیزی کی بُو آتی ہے۔ میں نے بچی کو دلاسہ دینے کے لیے کہا کہ ہر شہری کو آزادیِ اظہارکا حق حاصل ہے۔ میں وہ کالم پڑھتا ہوں اور شواہد کی بنا پر اُس کا مدلل جواب دوں گا۔ تم غم نہ کرو۔ میں نے وہ کالم پڑھا۔ پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ محترم لکھاری صاحب نے تحقیق کی ہے نہ ہی بنیادی تاریخی حقائق کا ادراک رکھتے ہیں۔ بس جوشِ تحریر میں قائد اعظمؒ پر الزامات لگانے کا شوق پورا کر لیا ہے۔ چنانچہ میں نے اُن کے کالم کا تاریخی مواد کے حوالے دے کر جواب دیا۔

انہوں نے چپ سادھ لی۔ البتہ یہ ہوا کہ مجھے قارئین کے ایسے خطوط موصول ہوئے جس میں انہوں نے پوچھا تھا کہ جب یہ حضرات بنیادی معلومات بھی نہیں رکھتے تو پھر لکھتے کیوں ہیں، انہیں کیا تکلیف ہے؟ یہ اُن کا ذاتی ایجنڈا ہے یا یہ فرض اُنہیں کسی غیر ملکی ایجنسی نے سونپا ہے!! اندرونِ ملک کسی کی خدمت کرر ہے ہیں یا یہ اُن کے منفی ذہن کا شاخسانہ ہے؟ مجھے اس حوالے سے معلومات ہیں نہ مجھے علم ہے اس لیے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ لکھاریوں یا مؤرخ ہونے کے دعوے داروں کا ایک مکتبہ فکر تو وہ ہے جو سورج پر تھوک کر شہرت حاصل کرناچاہتا ہے۔ وہ سیدھے سادے تاریخی حقائق کی من پسند اور عجیب و غریب توضیحات کرتے اور اپنے آپ کو قائد اعظم سے کہیں زیادہ عقلمند، ذہین اور بصیرت مند ثابت کرکے ہماری قیادت کے فیصلوں پر منفی تبصرے کرتے ہیں۔ سیدھا سادہ مقصد نوجوان نسلوں، طلبہ اور عام پاکستانیوں کے ذہنوں میں پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اور قائد اعظم ؒ کی ذات بارے شکوک و شبہات پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہ حضرات قائد اعظم کا قد گھٹانے کی آرزو پالتے ہیں اور باطنی طور پر قائد اعظم ؒ کو نا پسند کرتے ہیں۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com

یقین رکھیں میں نے یہ رائے ”جلدی“ میں قائم نہیں کی اس کے پس پشت کئی برسوں کا طویل مشاہدہ اور مطالعہ ہے۔ ان دانشوروں یا لکھاریوں کے ایجنڈے کا دوسرا پہلو قدرے زیادہ غور طلب ہے۔ آج کل یہ لوگ ایک منظم انداز سے سوشل میڈیا اور ذاتی چینلوں پر چھائے ہوئے ہیں جو تشہیر اور نظریات کے فروغ کا بہترین ذریعہ اور مؤثر وسیلہ بن چکے ہیں۔ اول تو وہ قائد اعظمؒ سے ایسے بیانات منسوب کرتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ناظرین وسامعین تحقیق کی طلب محسوس نہیں کرتے نہ سچ کا کھوج لگانے کی فرصت رکھتے ہیں چنانچہ وہ سادہ لوحی کے سبب اُن کے جھوٹے پراپیگنڈے کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ مجھے یو ٹیوب پر ذاتی چینلوں کے حوالے سے اِن پروفیسروں، دانشوروں اور لکھاریوں کو سننے کا موقعہ ملا ہے۔ اول تو اُن کا تعارف اس انداز سے کرایا جاتا ہے کہ جیسے پاکستان میں اُن سے بڑا کوئی محقق ہے نہ کوئی اُن سے زیادہ بیرونی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھتا ہے۔

پھر اُن کے بیانیے کو لفظ آخر کا درجہ عطا کر دیا جاتا ہے۔ میں نے ایسے سکالرز کی بیان کردہ بعض ایسے بیانات کی تحقیق کی جو اُنہوں نے قائد اعظمؒ سے منسوب کیے تھے تو حیران رہ گیا کہ اُن کا کوئی نام و نشان ہی موجود نہ تھا۔ قائد اعظمؒ ایک قومی راہنما تھے۔ اُن کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کتابوں کی صورت میں چھپ چکے ہیں بلکہ اُن کے بیانات کئی کئی جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اُن سے اس طرح کے بیانات منسوب کرنا کہ ”پنجابی پہلے پنجابی اور بعد میں مسلمان ہیں، بنگالی پہلے بنگالی اور بعد ازاں مسلمان ہیں“۔ ایک ایسا دلفریب جھوٹ ہے جس کے دام میں سادہ لوح پاکستانی پھنس کر سوچنے پر مجبور ہوگا کہ قائد اعظمؒ تو مسلمانوں کو ایک قوم کہتے اور اس پر یقین رکھتے تھے۔ حصولِ پاکستان کی جدو جہد کا یہی مرکزی نقطہ تھا اور یہی بنیاد تھی۔ 11/ اگست 1947ء کی تقریر جسے دین بیزار اور سیکولر حضرات دن رات اُچھالتے ہیں اور اُن کی کسی دوسری تقریر کا ذکر ”حرام“ سمجھتے ہیں۔ اُس میں بھی قائد اعظمؒ نے پاکستانی قوم سے لسانی، نسلی، علاقائی اور صوبائی شناختوں کو دفن کرکے پاکستانی بننے کی تلقین کی تھی۔

کیاایسا قائد اس طرح کا بیان دے سکتا ہے؟ کس کے پاس فرصت ہے ایسے بے بنیاد الزامات کی تحقیق کرے۔ یہی عدیم الفرصتی ان حضرات کے لیے فائدہ مند ہے اور انہیں کھلا میدان مہیا کرتی ہے۔ اس بیانیے، دانشوری اور ایجنڈے کا دوسرا پہلو فکر انگیز او رغور طلب ہے۔ اسی سے اُن کے اصل عزائم اور باطنی خواہشات بے نقاب ہوتی ہیں۔ اب اُن کے لیکچراور گفتگو سنیے۔ وہ بڑی معصومیت سے سامعین و ناظرین کو یہ پیغام دیں گے کہ متحدہ ہندوستان کا آپشن کہیں زیادہ بہتر تھا، گاندھی قائد اعظمؒ سے بڑا لیڈر تھا اور اگر پاکستان نہ بنتا تو ہندوستان دنیا میں سپر پاور سمجھا جاتا جس سے امریکہ بھی گھبراتا۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہندوستان میں کس طرح مسلمانوں کو ذلیل و خوار کیا جاتا رہا ہے۔

مسلمانوں کا قتل عام اور اُن کے مذہبی حقوق کو پامال کرنا ہندوستانی حکمرانوں کی طے شدہ حکمت عملی ہے۔ مودی جیسا وزیر اعظم مسلمان کے قتل کو کار کے نیچے کتا آجانے سے تشبیہ دیتا اور موازنہ کرتا ہے۔ کس چمک او رجادو نے اُن کی آنکھوں سے اس حقیقت کو اوجھل کر رکھا ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو متحدہ ہندوستان میں بیس کروڑ کی بجائے ساٹھ کروڑ مسلمان غلا مانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ جیسا لیڈر ملا جس نے اُنہیں انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلوائی“۔

جناب ڈاکٹر صفدر محمود کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ وہ جو بات بھی لکھتے ہیں مکمل دیانتداری، اخلاص اور قوم کی اصلاح کے لیے لکھتے ہیں۔ بغیر تحقیق کے کوئی بات ان کی نہ زبان پر آتی ہے اور نہ نوکِ قلم پر۔ وہ محض کالم کا پیٹ بھرنے اور خانہ پُری کرنے کے لیے کبھی نہیں لکھتے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ کبھی جانبداری سے کام نہیں لیتے، صرف اور صرف سچ ہی وہ قرطاس کے دامن پرچھڑکتے ہیں اور اسی چھڑکاؤ سے حقیقت کے پھول کھلتے اور سچ کی خوشبو پھیلتی ہے۔ اپنے اسی دیباچے میں وہ لکھتے ہیں:

”ایک صاحب نے مجھے ایک اینکر کے ذاتی چینل کا کلپ بھجوایا۔ اینکر صاحب نے بیرون ملک سے آئے پروفیسر صاحب کی عظمت کے گُن گائے اور پھر اُن کے ”خیالاتِ عالیہ“ کو ریٹنگ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔ مجھے اُن عالم و فاضل لکھاری کی ”معصوم گفتگو“ پہ حیرت ہوئی۔ فرمایا قائد اعظم کو انگریز ایک سافٹ (Soft) لیڈر سمجھتے تھے جن سے بات منوائی جاسکتی تھی جبکہ نہرو، گاندھی کا رویہ سخت تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے ان صاحب نے قائد اعظم ؒ کی سوانح پر کوئی معیاری کتاب پڑھی ہی نہیں۔ جس جناحؒ نے 1918 ء میں بمبئی کے انگریز حاکم سخت گیر اورمتکبر گورنر ولنگڈن سے ٹکر لی تھی، جسے بمبئی کے شہریوں نے بلا مقابلہ امپیریل لیجسلیٹوکونسل کا رکن منتخب کر دیا تھا، جس کی خدمات کو خراج تحسین ادا کرنے کے لیے بمبئی کے شہریوں نے ایک یاد گار تعمیر کر دی تھی، جس لیڈر نے برطانوی وزیر اعظم رامزے میکڈانلڈ کا ہاتھ جھٹک کر مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ میں آپ سے کبھی نہیں ملوں گا کیونکہ آپ نے مجھے سیاسی رشوت دینے کی جسارت کی ہے اور جس جناحؒ سے ماؤنٹ بیٹن بات کرتے ہوئے گھبراتا تھا، جس جناحؒ کے بارے ماؤنٹ بیٹن نے لکھا تھاکہ وہ جس بات پر اڑ جاتا ہے۔

 

اُس سے ہٹتا نہیں اور جس جناحؒ نے جون 1947 ء کے تقسیم ہند کے منصوبے پر مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر ہاں کہنے سے انکار کر دیا تھا، اُسے یہ پروفیسر صاحب انگریز حکمرانوں کے لیے ”نرم لیڈر (Soft)“ کہہ رہے ہیں۔ سٹینلے والپرٹ سے لے کر عالمی سطح کے تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ جناحؒ ایک اصول پرست، ایماندار، مستقل مزاج، نڈر، ذہین انسان اور عظمت کردار کا اعلیٰ نمونہ تھے اُسے یہ پروفیسر صاحب ”سافٹ“ لیڈر کہہ رہے ہیں۔ امریکی پروفیسر سٹینلے والپرٹ کا بیان ہے کہ جناح جیسا عظیم لیڈر تاریخ میں پیدا ہی نہیں ہوا اور یہ پروفیسر صاحب اُس جناح کا گاندھی کے مقابلے میں قد گھٹانے کی جسارت فرما رہے ہیں۔

تاریخی طور پر پاکستان کو سیاسی ورثے میں دو قسم کے مخالفین ملے۔ اول کانگرسی ذہن والے گاندھی کے پیرو او ردوم احرار… ان دونوں قوتوں نے ہندوستان کو متحد رکھنے او ر پاکستان کے قیام کو ناکام بنانے کی پوری کوششیں کیں۔ وہ ناکام ہوئے لیکن دل سے پاکستان کو تسلیم نہ کر سکے۔ چنانچہ اُنہیں جہاں بھی کہیں موقع ملتا ہے وہ قائد اعظمؒ کی تنقیص کرتے، منفی پراپیگنڈہ کرتے اور اُن کے دامن پر اعتراضات کے چھینٹے اُڑاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں سے سیکولر دانشوروں کی ایک منظم لابی بھی متحرک ہوگئی ہے جو خود کو لبرل اور روشن خیال کہتے ہیں۔ اُنہیں قائد اعظم ؒ کی اسلامی ریاست کے بیانیے سے چِڑ ہے اور اُن کا ایجنڈا پاکستان کو صرف ایک سیکولر جمہوری ملک بنا کر اِسے ہر قسم کی اخلاقی و اسلامی قدروں سے بے نیاز اور اسلامی اصولوں کی گرفت سے آزاد کرنا ہے تاکہ یہاں مغرب کی مانند مادر پدر آزاد معاشرہ قائم کیا جاسکے اور ناؤ نوش سے لے کر جسم فروشی تک ہر قسم کی آزادی حاصل ہو۔ بظاہر یہ حضرات سیکولرازم کی آڑ میں اقلیتوں کے حقوق کی وکالت کرتے ہیں حالانکہ اسلامی ریاست اقلیتوں کو برابر کے شہری حقوق دیتی ہے اور مذہبی آزادی کی ضمانت مہیا کرتی ہے۔ 1973 ء کا آئین ان تمام ضمانتوں کی عکاسی کرتا ہے لیکن سیکولر حضرات کو باطنی خواہشات کے مطابق کھل کھیلنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اس لیے یہ روشن خیال سیکولر مستقبل میں بھی اپنی جدو جہد بہر حال جاری رکھیں گے۔ اُن کی حکمت عملی کا پہلا نشانہ قائد اعظمؒ کے فرمودات اور تصورِ پاکستان ہے جسے وہ توڑ مروڑ کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن قائد اعظم ؒ کا تصور پاکستان…… ایک اسلامی جمہوری ریاست کا قیام اس قدر واضح اور مضبوط ہے کہ یہ ان حضرات کی راہ میں ہمیشہ دیوار چین بن کر کھڑا رہے گا۔ یہ حضرات اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت کبھی جگن ناتھ آزاد سے پاکستان کا قومی ترانہ لکھواتے ہیں، کبھی قراردادِ پاکستان (1940 ء) کو چودھری ظفر اللہ خان کا کارنامہ قرار دیتے ہیں، کبھی قائد اعظمؒ کی گیارہ اگست والی تقریر کا من پسند مفہوم نکالتے ہیں اور کبھی قراردادِ مقاصد (1949ء) کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں۔

awamifaisla.com
awamifaisla.com

اس کتاب کا مقصد انہی ارادوں او رکوششوں کا توڑ کرنا، تاریخ پاکستان کو مسخ کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانا اور قائد اعظمؒ سے بد ظن کرنے کے لیے لگائے گئے الزا مات، من گھڑت تاریخی افسانوں اور جھوٹے پراپیگنڈے کو تاریخی مستند شواہد سے بے نقاب کرنا او ر سچ کو سامنے لانا ہے۔ یوں تو قائد اعظمؒ پر اعلیٰ درجے کی سینکڑوں کتابیں چھپ چکی ہیں اور آئندہ بھی چھپتی رہیں گی لیکن مخصوص الزامات کا مستند جواب اور مدلل وضاحت آپ کو شاید کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔ یہ ایک طالب علم کی طالب علمانہ کوشش ہے اورقومی خدمات کے تقاضے نبھانے کی سعی ہے۔ اگر یہ مختصر انداز میں لکھی گئی تحریریں آپ کو پسند آئیں او رمنفی پروپیگنڈے کا اثر زائل کر سکیں تو میں سمجھوں گا کہ میں سرخرو ہوا“۔

ڈاکٹر صفدر محمود کا نام پاکستان کے ایسے چند گنے چنے صاحب علم و فضل لوگوں میں شمار ہوتا ہے، جو نہ صرف اپنے علم و فضل اور تجربے سے نوجوان نسل کے ذہنوں کی آبیاری کر رہے ہیں بلکہ وہ ایسے ننگِ وطن، ننگِ دیں، ملک و قوم کے دشمن نام نہاد دانشوروں اور بکاؤ لکھاریوں کو بھی بے نقاب کر رہے ہیں جو ہمیشہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستان کے خلاف اور تحریک پاکستان کے رہنماؤں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور جن کی زبان سے کبھی خیر کا کلمہ نہیں نکلتا، اپنی اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے ایسے تمام کرداروں کے چہروں سے نقاب نوچ کر پھینک دیا ہے۔

تاریخ، سیاست اور تحریک پاکستان کے طالب علموں، محب وطن پاکستانیوں اور حقائق کے متلاشی ذوقِ مطالعہ رکھنے والے اصحاب کے لیے یہ کتاب بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک طرح سے پاکستان کے 73 ویں یومِ آزادی پر قوم کو ایک ایسا تحفہ دیا ہے کہ جس کے لیے پاکستان کے عوام ہمیشہ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کے شکر گزار رہیں گے۔

یہ کتاب قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے اپنے روایتی انداز سے معیاری اور خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع کی ہے۔ قیمت مناسب ہے اور ٹائیٹل بہت خوبصورت۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور کینٹ۔ 0300-0515101 ای میل qalamfoundation3@gmail.com