پاکستان کی بڑی کامیابی۔۔

براڈ شیٹ نے برطانوی عدالت کا فیصلہ جاری کرنے کی پاکستان کی درخواست قبول کر لی

18

براڈ شیٹ نے برطانوی عدالت کا فیصلہ جاری کرنے کی پاکستان کی درخواست قبول کر لی۔ تفصیلات کے مطابق براڈ شیٹ نے برطانوی عدالت کا فیصلہ جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان کے وکلا نے براڈ شیٹ کے وکلا سے فیصلہ جاری کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ برطانوی فرم براڈ شیٹ کے چیف ایگزیکٹو کاوہ موسوی کہتے ہیں کہ آخرکار حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔

پاکستانی عوام اب حقائق جان جائیں گے۔ خیال رہے کہ براڈ شیٹ نیب کیس کا فیصلہ اگست 2016ء میں سُنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ براڈ شیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مشیر برائے وزیراعظم شہزاد اکبر اور شریف خاندان سے متعلق اہم انکشافات کر چکے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کو دئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران کاوہ موسوی نے انکشاف کیا کہ شہزاد اکبر نے مجھے بتایا کہ ظفر علی اس سے ملاقات کے لیے آیا تھا اور میں نے کہا کہ آپ اس سے ملاقات پر رضامند کیوں ہوئے؟ شہزاد اکبر نے کہا کہ ظفر علی کا ان سے تعارف پاکستان کی ایک بہت زیادہ طاقتور شخصیت نے کروایا تھا اس لیے میں ان سے ملاقات سے انکار نہیں کر سکتا تھا لیکن پھر اس سے ملاقات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس قابل نہیں اس لیے میں نے عملی طور پر اسے باہر کا راستہ دکھایا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لندن میں موجود فلیٹس ایون فیلڈ کے حوالے سے برطانیہ کی براڈ شیٹ کمپنی کے چیف کیوے مُوسوی نے اہم انکشافات کیے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ براڈ شیٹ سے جان چھڑوانے کی وجہ بھی شریف فیملی تھی، غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات سے پیچھے ہٹنے کے لیے رشوت کی پیش کش کی گئی، خود کو نواز شریف کا بھتیجا بتانے والے نے رشوت کی آفر کی تھی۔

دو روز قبل نجی ٹی وی چینل کو دئے گئے انٹرویو میں براڈشیٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر او کاوے موسوی نے انکشاف کیا کہ شریف فیملی کی جانب سے انجم ڈار نے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ انجم ڈار نے خود کو نواز شریف کا بھانجا یا بھتیجا ظاہر کیا اور ثبوت کے طور پر نواز شریف کے ساتھ اپنی تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ انجم ڈار سے ملاقات کا گواہ بھی ہے، ملاقات میں اس نے 25 ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی۔