علاج اور خدمت کا صلہ ہلال امتیاز تحریر :منشاقاضی

Reward for treatment and service Hilal Imtiaz Written by Mansha Qazi

79

حسب منشا انسان کی شرافت اور قابلیت اس کے عہدے یا بہت زیادہ دولت سے مالامال سے مشروط نہیں ھے اس کی توقیر اس کے نیک اعمال و کردار سے ھے نسل انسانی کے حقیقی خیر خواہ وہ لوگ ھیں جو خدمت خلق میں اپنی زندگیاں کھپا دیں اور اس تکریم کے لیئے ضروری ھے

 

 

کہ وہ اپنے ملک کے عوام کی بہبود کے لئیے ھی نہیں پوری انسانیت کی خدمت اور علاج مسیحائے ملت ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب کی طرح میدان عمل میں اپنا سب کچھ نچھاور کر دے ۔ سرگودھا میں پیدا ھونے والے اس بچے کو کون جانتا تھا کہ یہ ایک نہ ایک دن پاکستان کے ایک طاقتور محکمہ میں کلیدی عہدے پر فائز ھو گا اور دنیا اس کی تکریم کرئے گی ۔

 

 

یہ تحریر بھی پڑھیں: سفیدچھڑی، بصارت سے محروم افراد کیلئے تحفظ! اختر سردار چودھری

 

 

ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب کو اپنے محکمہ کسٹم میں ان کے ساتھی جانتے ھوں گے اور آپ سے سینئر افسران بھی موجود ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا مگر ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو ساری دنیا جانتی اور آپ کے خدمت خلق کے جذبے کو سراھتی ھے اس مقام کو عبدالستار ایدھی مرحوم کے بعد جس ھستی نے پایا ھے

 

 

وہ ڈآکٹر آصف محمود جاہ کی ھی ذات گرامی ھے جو تین درجن کے قریب کتب کے مصنف ھیں اور خدمت اور علاج کے علاؤہ آپ نے تھر کے لق دو صحرا کو سر سبز و شاداب وسیراب کر دیا ھے اس وقت پاکستان میں مفت شفا خانے کسٹمز ھیلتھ کئر سوسائٹی کے زیر اہتمام و انصرام چل رھے ھیں ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں بھی آپ کا لطف ابر رحمت بن کر بلاتمیز امیر و غریب سب پر برس رھا ھے

 

 

یہ سلسلہ جاری ھے اور اس نے بہت دور تک اپنی نیکی کی آب جو کو بہا دیا ھے ایران،عراق، ترکی ، برما کے مظلوم مسلمان اور بنگلہ دیش کے کیمپوں میں روھنگیا کے لٹے پٹے قافلوں کی بہبود کی سعادت ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے وجود کی رھین منت ھے ۔ آپ نے دنیا کو اعتبار و اعتماد دیا ھے اور دنیا نے آپ کا سیم و زر کی فراونیوں سے خیر مقدم کیا ھے ۔

 

 

 

علاج اور خدمت کا صلہ ہلال امتیاز تحریر :منشاقاضی
علاج اور خدمت کا صلہ ہلال امتیاز تحریر :منشاقاضی

 

ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا علاج اور خدمت کا کام ھمالہ صفت ھے ۔ میری بات پر اگر آپ کو یقین نہیں آ رھا تو تھر کے صحراؤں سے دریافت کرو اور تھر کے ھر گھر کے مکینوں سے پوچھو اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ تھر کے صحرا میں باد صبح گاہی کے خوشگوار جھونکوں سے ماحول کو بدل دینا والا انسان کتنا بڑا درد دل رکھنے والا مسیحا ھو گا جس نے تھر کے صحرا میں گلشن زیست کی شمعیں روشن کر دی ھیں اور بیابانوں کو گلستانوں میں بدل دیا ھے

 

 

 

یہ تحریر بھی پڑھیں: غربت کے خاتمے کے عالمی د ن 17 اکتوبر9 201کے موقع پر ایک خصوصی تحریر ۔ اختر سردار چودھری

 

 

 

 

اس کو سبز انقلاب کہتے ھیں اور اسی انقلابی تبدیلی کو پوری دنیا میں محسوس کیا جا رھا ھے پہلے آپ کو حکومت پاکستان نے ستارہ ء امتیاز سے نوازا اور اب 23 مارچ 2021 کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنے دست مبارک سے ھلال امتیاز کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازیں گے ۔

 

 

آپ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دنیا بھر سے آپ کو ھدیہ ء تبریک پیش کیئے جا رھے ھیں ھلال ءامتیاز کی نویدِ سحر اس وقت ملی جب موٹروے پر شدید حادثے میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب ھسپتال سے ڈسچارج کے بعد گھر میں صاحب فراش تھے اور زیر لب گنگنا رھے تھے کہ ۔ ۔۔

 

 

جہاں پر گروں گا وھی اپنے زخم شمار کر لوں گا ۔ میں زخم زخم ھوں مگر ابھی اڑان میں ھوں ۔ الللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو نوید مسرت دی ھوئی ھے کہ ھر تکلیف کے بعد راحت اور سکون کی دولت سےمالا مال کرئے گا اور ھم نے اپنی آنکھوں سے نظارہ کیا ھے کہ اس تکلیف میں ھی مژدہ ءجانفزا ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی سماعتوں سے ٹکرایا اور آپ الللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ء ریز تشکر ھو گئے اور تھر کی بے سہارا بیواؤں کی دعاؤں کی صدائے بازگشت بھی محسوس کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کون دعاؤں میں یاد رکھتا ھے ۔ میں ڈوبتا ھوں تو سمندر اچھال دیتا ھے

 

 

جن لوگوں نے یہ حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ھے کہ زخموں سے چور چور ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو کس غیبی قوت نے فضا میں اچھال کر کرسی پر اطمینان افروز کر دیا اور میں نے خود ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب کے چہرے پر اطمینان افروز روشنی کا ایک ھالہ دیکھا ،

 

 

 

 

یہ تحریر بھی پڑھیں: اپریل فول ، جھوٹ کے دن پورا سچ ! تحریر: اختر سردار چودھری

 

 

 

 

آپ ایک مطمئن دل لیکر پیدا ھوئے ھیں اور پوری دنیا آپ کی مادر وطن ھے اور مخلوق کی بھلائی کے کام کرنا خالق کی عبادت کرنے کے مترادف ھیں ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ھے اور ایک مومن کی زندگی کے سارے اوصافِ حمیدہ آپ کی ذات گرامی میں بدرجہ آتم پائے جاتے ہیں

 

 

کیونکہ مشرق علامہ محمد اقبال ھر لحظہ ھے مومن کی نئی شان نئی آن ۔۔ کردار میں گفتار میں الللہ کی برھان، مومن ساکن نہیں حرکت میں ھوتا ھے اور ھر روز اس کی شان و شوکت میں تبدیلی رونما ھوتی رھتی ھے جس طرح ڈاکٹر آصف محمود جاہ صلہ و ستائش سے بے نیاز دوسروں کی مدد کرتے رھتے ھیں

 

 

یہ تحریر بھی پڑھیں: حکومت کا احسن ا قدام،کفالت اجتماعیہ تحریر:اختر سردار چودھری

 

 

 

اور کار خیر کو کار کثیر میں بدل دیتے ھیں یہی مومن کی نشانی ھے اگر ھم لوگ تاریکی کو کوسنے کی بجائے ایک ننھا سا دیا روشن کر دیں تو ھم بھی کار خیر میں اپنی طرف سے حصہ ڈال سکتے ھیں ۔ آؤ ھم سب مل کر اس مرد حق آگاہ کے نہ صرف ھاتھ مضبوط کریں بلکہ پاؤں بھی مضبوط کریں کیونکہ پاؤں کی مضبوطی کا تعلق ثبات قلب سے ھے

 

 

 

علاج اور خدمت کا صلہ ہلال امتیاز تحریر :منشاقاضی
علاج اور خدمت کا صلہ ہلال امتیاز تحریر :منشاقاضی

 

 

اور ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو الللہ تعالیٰ نے نئی زندگی جو عطا کی ھے اس میں ڈاکٹروں کی ادویات پر ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے والدین، شریک زندگی، دختران آصف محمود جاہ،حافظ حظیفہ کے علاؤہ مولانا عبد الرؤف ملک صاحب، پروفیسر رفرف،ڈاکٹر کیوان قدر خان ملزئی، ڈان اخبار کے عاصم آفندی، فاروق تسنیم، اسداللہ غالب، ڈاکٹر انوار احمد بگوی، زرقا نسیم غالب صاحبہ، ڈاکٹر ماھا نسیم اور تھرکے ھر گھر سے نیم شبی دعاؤں کی تاثیر ادویات پر غالب آ گئیں حادثے کی شدید تکلیف میں مبتلا ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب کی شب وروز جس ھستی نے خدمت کے ریکارڈ توڑ دئیے ھیں

 

 

اس کو لوگ اشفاق احمد کہتے ھیں اور میں اشرف المخلوقات ہونے والے عظیم انسانوں میں شمار کرتا ھوں جس نے اس وقت وہ خدمت کی جس وقت ڈاکٹر صاحب کہہ رھے تھے ۔۔ ایک ضرب اور بھی اے زندگی ء تیشہ بدست ۔۔ سانس لینے کی سکت اب بھی میری جاں میں ھے ۔

 

 

 

یہ تحریر بھی پڑھیں: کرونا وائرس سے بچاؤ،احتیاطی تدابیر سے ممکن ہے! تحریر:اختر سردار چودھری

 

 

 

 

ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا حوصلہ جس نے آگ کو گلزار بنا دیا میں نے نہیں دیکھا اس کی گواھی اشفاق احمد صاحب دیں گے جب ڈاکٹر آصف محمود جاہ چارہ گروں کی چارہ گری کے بارے میں بقول احمد فراز کہہ رھے تھے کہ ۔

 

 

اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ھے ۔۔ اے چارہ گرو ، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے ۔ اس کیفیت کو محسوس اسلم مروت نے کیا جو سوات سے فرشتہ رحمت بن کر پہنچا تھا اس کی تفصیلات آئندہ اشاعت میں ۔