ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تحریر: خلیل احمد تھند

Rising drug prices By Khalil Ahmad Thand

32

حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد موقف اختیار کیا ہے کہ
” ادویات کی قیمتیں اس لئے بڑھائیں تاکہ مارکیٹ میں دستیاب ہوں "

 

 

 

 

عمران خان حکومت کی جانب سے عوام کے لئے یہ شاندار ریلیف ہے اگر حکومت یہ فیصلہ نا کرتی تو ہمارے ملک کے بے چارے بیمار بحران کے دنوں میں آٹے , چینی کی عدم دستیابی کی طرح ادویات سے بھی محروم رہ جاتے ہم اس عوام دوست فیصلے پر عمران خان حکومت کو داد تحسین پیش کرتے ہیں۔

 

 

 

ہمارے ملک میں جو بھی لیڈر اقتدار میں آتا ہے بہت سمجھدار ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ کسی جلسے میں عوام نے بھٹو صاحب کو جوتے دکھائے تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ مجھے معلوم ہے ملک میں جوتے مہنگے ہوگئے ہیں۔

 

 

 

محترمہ نصرت بھٹو کے جلسے میں لوگوں نے روٹی مہنگی ہونے کی شکائت کی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ روٹی کی بجائے بسکٹ کھایا کریں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار حکومت میں مذہبی حلقوں کی جانب سے میڈیا پر بڑھتی ہوئی فحاشی کی شکائت پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ ٹی وی نا دیکھا کریں ۔

 

 

یہ سب ذہانت پر مبنی مثالیں ہیں جن کا بوجھ بہرحال "دروغ بر گردن راوی” ہی تصور ہوگا کیونکہ راوی کی بھی دریائے راوی کی طرح کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کب ، کیا اور کیسا دکھائی دے اور دوسرا ہماری گردن بھی موٹی نہیں ہے اتنی بھاری بھرکم روایات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

 

 

 

آپ سب کو یاد ہوگا ابھی حال ہی میں حکومت نے پٹرول سستا کرنے کی غلطی کی تھی جس کے بعد پٹرول بہت ہوشیاری سے زیر زمین چلا گیا تھا اور عوام کو ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہا تھا پٹرول کو باہر لانے کے لئے مجبورا” حکومت کو اسے دوبارہ سے مہنگا کرنا پڑا سابقہ تجربے کی بنیاد پر ہمارے سمارٹ اور ذہین وزیراعظم نے ادویات کی قیمتیں بھی اسی خدشے کی بنیاد پر بڑھا دیں ورنہ پیناڈول جیسی عام سی دوا تلاش کرنے کے لئے عوام کو نجانے کتنی زمین کھودنا پڑتی اور پیناڈول سمیت دیگر اہم ادویات نا ملنے کی صورت میں بیماروں کو زیر زمین جانا پڑتا ۔

 

 

 

 

عوام کو اپنے محسن وزیراعظم کے لئے اجتماعی اظہار تشکر ادا کرنے تقریبات منعقد کرنا چاہئیں عوام پر جان نچھاور کرنے والے ہیرے روز روز تو پیدا نہیں ہوتے ۔

 

 

 

گزشتہ دنوں ہم نے ضروریات زندگی کی اشیاء کے مہنگے ہونے پر عوام کے دکھ بانٹنے کے لئے ایک پوری تحریر لکھ ڈالی تھی اب اس پر ہمیں ندامت ہورہی ہے

 

 

 

اور ہمیں اپنی دماغی صلاحیتوں پر شک ہونے لگا ہے کافی غور کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم جیسے کم وسائل بندے ذہین نہیں ہوسکتے کیونکہ بزرگوں کا قول زریں ہے کہ” جناں گھر دانے اوہناں دے کملے وی سیانے ” یہ قول بھی ہمارے حکمرانوں بالخصوص موجودہ وزیراعظم اور انکی ٹیم نے برحق ثابت فرما کر بزرگوں کے فرمان کی لاج رکھ لی ہے

 

 

جس پر ہم انکے تہہ دل سے ممنون ہیں۔

 

 

 

ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا مہنگائی پر لکھا گیا آرٹیکل حکمرانوں کی نظر سے نہیں گزرا خدانخواستہ وہ اسے پڑھ کر روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کردیتے تو آٹا چینی ، گھی اور زمین پر اگنے والی تمام سبزیان یقینی طور پر زیر زمین چلی جاتیں، گیس زمین سے باہر آنے سے انکاری ہو جاتی

 

 

 

اور اسکی جڑواں بہن بجلی اس سے ملاقات کے لئے زیر زمین چلی جاتی تو کتنا غدر مچ جاتا عوام بھوک سے تڑپتے اور ملک اندھیروں کی نظر ہوجاتا۔

 

 

 

صد شکر وزیراعظم نے یہ سب کچھ سستا نہیں کیا ہم عوام کی جان کی بچت ہو گئی ۔

 

 

 

ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اور روشن پہلو نشہ آور ادویات کا نشئی حضرات کی پہنچ سے دور ہوجانا ہے کیونکہ ہیروئین اور کوکین ان غریبوں کے بس سے پہلے ہی باہر تھیں اور ویسے بھی وہ امیر لوگوں کا شغل اور سٹینڈر ہے اس لئے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے غریب نشئی حیلوں بہانوں سے نشہ آور ادویات حاصل کر کے اپنا کام نکال لیتے تھے

 

 

 

اور ماحول کی خرابی کا باعث بن رہے تھے اب ادویات زمین کے اوپر رہیں گی اور نشئی زیر زمین چلے جائیں گے لہذا "خس کم جہاں پاک” یا باالفاظ دیگر "نا نو من تیل ہوگا نا رادھا ناچے گی "

 

 

 

البتہ ایک احسان نشئی حضرات کی زندگی برقرار رکھنے کے لئے بھی حکومت نے کیا ہے اور وہ ہے بھنگ کاشت کرنے کا منصوبہ !
بھنگ ایک طرح کا صاف ستھرا اور کم نقصان نشہ ہے جیسے سگریٹ اور حقے کے اثرات میں واضح فرق ہمارے اطباء بیان فرماتے ہیں

 

 

 

اسی طرح بھنگ میں بھی چونکہ پانی کی آمیزش ہوتی ہے اس لئے یہ بھی کم نقصان نشہ ہے سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی بچ جاتی ہے نشہ بھی پورا ہوجاتا ہے اور زندگی کی ڈور بھی برقرار رہتی ہے۔

 

 

 

اس سے بڑھ کر حکومت کی عوام دوستی اور انسانیت سے محبت کیا ہوسکتی ہے ؟

 

 

 

اپوزیشن والے خواہ مخواہ ہمارے وزیراعظم کو ناتجربہ کار کہتے ہیں وہ ہر معاملے کا اچھا خاصا تجربہ رکھتے ہیں کسی کا یقین متزلزل تو وہ انکی سابقہ زوجہ ریحام خان کی کتاب کا مطالعہ فرما کر اپنا دماغ درست اور آفاقہ حاصل کرسکتا ہے۔