حکومت گرانے کی بجائے جمہوریت بچائیں! تحریر:شاہد ندیم احمد

Save democracy instead of overthrowing the government! Written by Shahid Nadeem Ahmed

91

پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف تحریک کا پہلا راؤنڈ بخیر و خوبی مکمل ہو گیا،اس حکومت مخالف تحریک کا مقصد موجودہ حکمرانوں کو گھر بھیجنا ہے،پی ڈی ایم حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا واحد ہتھیار، نعرہ مہنگائی ہے۔

 

پی ڈی ایم کے پاس عوام کو اپنی جانب کھینچنے کی واحد تدبیر یہی ہے اور یہی حکومت کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اپوزیشن قیادت ایک بار پھر عوامی مشکلات کو جواز بنا کر ذاتی مفادات کے ایجنڈے پر گامزن ہے،اپو زیشن اتحادپی ڈی ایم قیادت کا دعویٰ ہے

 

کہ حکومت چار ہفتوں کی مہمان ہے، لیکن دسمبر کی ڈیڈ لائن کے مطابق ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے،حکومت نہ صرف قائم ہے،بلکہ فوری طور پر کہیں جاتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔

 

یہ امر واضح ہے کہ ملک پر پی ڈی ایم کی کچھ جماعتیں مدتوں حکمرانی کر چکی ہیں، ان کے ادوار میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں، نہ ان ادوار کو یادگار اور آئیڈیل قرار دیا جا سکتا ہے، ان جماعتوں کے عہد اقتدار میں عوام کے دن روتے دھوتے گزرے ہیں۔

 

عوام کا حافظہ بھی اتنا کمزور نہیں کہ ماضی قریب کی ان یادوں کو محو کردیں،یہ وہی لوگ ہیں جو پچھلی تین دہائیوں سے اس ملک کو چمٹے ہوئے ہیں،اس بارعوام نے اسمبلیوں سے باہر کر دیا‘تو گلی گلی شور ڈال رہے ہیں کہ ان کا مینڈیٹ چوری ہو گیا، حالانکہ اگر مینڈیٹ سچا ہو توکبھی چوری نہیں ہوتا، چوری کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔

 

پی ڈی ایم ٹولہ اپنے جلسوں میں جن موضوعات کو زیر بحث لاتا رہا ہے،اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ ان کا مقصد عوام کے مسائل کا تدارک نہیں،بلکہ حصول اقتدار ہے، اپوزیشن الیکشن میں دھاندلی کی بات کرتے ہیں،حکومت نے بار ہا واضح طور پر کہا ہے کہ جن حلقوں پر اعتراض ہے

 

،ہم انہیں کھولنے کے لیے تیار ہیں،لیکن اپوزیشن وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے لگی ہے،۔پی ڈی ایم نے لاہور جلسے سے قبل ایک ایسی فضا بنائی کہ جس سے یوں لگ رہا تھا کہ رات سے پہلے وزیر اعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے گی،

 

اپوزیشن نے استعفے دیئے نہ اگلے دو سال مستعفی ہوگی، پی ڈی ایم نے تحریک اور جلسے حکومت ہٹانے کے لیے نہیں سجائے ہیں، بلکہ اسی میں ان کی بقا ء ہے کہ یہ اگلے دو سال اسی طرح گلی گلی شور مچاتے رہیں،لانگ مارچ اور جلسوں کے دعوت نامے بانٹتے رہیں، تاکہ حکومت کی توجہ احتساب سے ہٹ کر احتجاج روکنے پر لگی رہے۔

 

پی ڈی ایم جتنا مرضی حکومت مخالف تحریک چلائے، ریاستی اداروں کے خلاف بولیں،نہ انہیں این آر او ملے گا، نہ حکومت اور ریاستی ادارے بلیک میل ہوں گے۔

 

یہ امر قابل افسوس ہے کہ عوام کے نجات کندہ ہی عوام سے بڑی بے دردی سے جھوٹ بولتے ہیں، پی ڈی ایم قیادت نے اپنے جلسوں میں جس طرح عوام سے جھوٹ بولا،جیسے لفظوں کی جادوگری دکھائی گئی اور عوامی مسائل پر صفِ ماتم بچھائی گئی،کیا یہ سب مسائل گزشتہ تین دہائیوں سے ان لوگوں کی نظر میں نہیں آئے تھے؟۔

 

اگراپوزیشن قیادت ملک اور ملکی اداروں سے اتنے ہی مخلص ہوتے تو آج اداروں کی حالت ایسی نہ ہوتی، مولانا فضل الرحمن کو بھی آج کشمیر کا سودا یاد آ رہا ہے، مولانا دس سال سے زائد عرصہ تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے،کشمیر کے نام پر ساری سرکاری مراعات کھاتے رہے،

 

اس وقت کشمیر کے عوام کا دکھ درد محسوس نہیں کیا،اب کشمیر کمیٹی کا عہدہ نہ ملنے پر پیٹ میں درد آٹھنے لگا ہے۔ بلاول زرداری اور مریم نواز بھی غریب عوام کی دہائی دینے لگے ہیں،حالانکہ دونوں کی پارٹیاں ایک طویل عرصہ ملک پرحکومت کر تی رہی ہیں، چونکہ اس وقت ان کی حکومت تھی،

 

اس لیے انہیں عوام کی مشکلات اورریاستی ادارے کمزور دکھائی نہیں دیتے تھے۔ایک طویل عرصے تک حکمرانی کر نے کے باوجود ابھی تک ان کی ہوس ختم نہیں ہوئی ہے،عوام نے پہلے بھٹو، زرداری اور شریف برادران کو بھگتا،اب ان کی اولادیں سامنے آ گئیں ہیں،کیا عوام صرف انہی دو خاندانوں کی غلامی کے لیے پیدا ہو ئے ہیں یا یہ ملک صرف شریفوں اور زرداریوں کی حکمرانی کے لیے بنایا گیا تھا۔

 

اس میں شک نہیں کہ عوام نے بڑی مشکل سے شریفوں اور زرداریوں سے پیچھا چھوڑا کر اقتدار عمران خان کو سونپا ہے،مگرانہوں نے بھی عوام حد سے زیادہ مایوس کر دیا ہے۔تحریک انصاف حکومت کے اڑھائی سال دور میں جس قدر تیزی سے مہنگائی بڑھی اور جتنی تیزی سے غریب عوام کو بے گھر کیا گیا ہے،

 

اس کا اندازہ ابھی تک حکومتی وزراء کو نہیں ہو سکا ہے،اسی لیے کار کردگی دکھانے کی بجائے کار گزاری میں لگے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کا اداروں کی اصلاحات سے لے کر عوام کی خوشحالی تک کے تمام وعدے وفا نہیں ہوئے ہیں،ایک احتساب کا نعرابچا تھا،وہ بھی وقت کے ساتھ کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے،کیسا احتساب،کس کا احتساب اور کون کرے گا؟اب تو احتساب کا نام سنتے ہی ہنسی آ نے لگتی ہے۔

 

اس ملک میں اشرافیہ کا کوئی احتساب نہیں، یہاں قانون، سزاو جزا صرف غریب کیلئے ہے،اُمرا کیلئے تو راہ فرار کے خود راستے نکالے جاتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان عمران خان کی دیانت داری اور صلاحیت پر شک نہیں، مگر کیا اُن کی کابینہ بھی مخلص ہے؟یہ سوال عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کئے رکھتاہے،

 

اگر حکومت ایسے ہی سارا وقت محض احتساب اور این آ ر او نہ دینے کا شور مچاتے گزار ے گی توعوام تو اپوزیشن کے بہکاؤئے میں آئیں گے،عوام آزمائے کو دوبارہ آزمانا نہیں چاہتے،مگر حکومت کو بھی تو عوامی مسائل پر توجہ دینے کے ساتھ کار کردگی بہتر بنانا ہو گی،

 

اگر حکومت اور اپوزیشن میں سیاسی تصادم یونہی جاری رہا تو ایک مرتبہ پھر وہی کچھ ہوجائے گا جو کچھ اِن حالا ت میں ہوتا رہا ہے،حکومت کی بجائے جمہوریت ہی چلی جائے گی،

 

اگر ایسا ہوا تو حکومت کو گرانے والے بچیں گے نہ اپوزیشن کو کھڈے لائن لگانے والے اپنے لیے کوئی راستہ نکال پائیں گے اورجمہوریت نامی چڑیا ایک مرتبہ پھر کہیں طویل عرصے کیلئے منہ چھپا کر بیٹھ جائے گی۔