شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم تحریر: نور حسین افضل

شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم صاحب کا مختصر تعارف

1,405

شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم صاحب کا مختصر تعارف

مفتی نعیم کے والد قاری عبدالحلیم جب چار برس کے تھے تو اپنے والد یعنی مفتی نعیم کے دادا کے ہمراہ ہندومت سے اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ان کا تعلق بھارتی گجرات کے علاقے سورت سے تھا ، تقسیم ہند سے قبل ہی پاکستان تشریف لے آئے تھے۔ 1958 میں مفتی محمد نعیم کی کراچی میں پیدا ہوئے.

ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اوراعلیٰ تعلیم جامعتہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون سے حاصل کی اور 1979 میں فارغ التحصیل ہوئے۔ فراغت کے بعد 16 سال تک جامعہ میں ہی بطور استاد خدمات انجام دیں اور ان کا شمار جامعہ کے بہترین اساتذہ میں ہوتا تھا۔ 1979 میں ان کے والد قاری عبدالحلیم نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کا قیام عمل میں لائے ۔

اس میں 52 ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ جامعہ میں مجموعی طور پر تقریبا پانچ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ مفتی محمد نعیم 7 جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور دیگر کتب کے مصنف ہیں۔ مرحوم کے سوگواروں میں 3 بیٹے مفتی محمد نعمان نعیم اور مفتی محمد فرحان نعیم ،حافظ حنظلہ ،اہلیہ، دو بیٹیاں ، 5 بھائی، تین بہنیں اور لاکھوں شاگرد اور عقیدت مند شامل ہیں۔

مفتی محمد نعیم وفاق المادارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ اور عاملہ کے متحرک رکن تھے۔ ان کے والد قاری عبدالحلیم کا انتقال 2009 میں ہو ااور ان کی تدفین بنوریہ عالمیہ کے قبرستان میں ہوئی ان کے والد قاری عبدالحلیم پارسی سے مسلمان ہوئے تھے ۔ مفتی نعیم کی تدفین بھی اسی قبرستان میں ہوگی ۔

 

بڑے صاحبزادے مولانا نعمان نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ میں بحیثیت وائس پرنسپل منسلک ہیں جبکہ درمیانے صاحبزادے مولانا فرحان نعیم بھی جامعہ کے دیگر امور دیکھتے ہیں اور حافظ حنظلہ اس وقت جامعہ میں زیرتعلیم ہیں