” یاروں کے دم سے ہے چمن میں بہار ” ( ایک بہت مشہور ادیب، محقق، مدیر اور ناشر سے ملاقات کا احوال ) "” محبوب اعظم "” تحریر: عارف مجید عارف

"Spring in Chaman is from the tail of friends" (Report of meeting with a very famous writer, researcher, editor and publisher) "" Beloved Azam "" Writing: Arif Majeed Arif

53

اک وقت تھا کہ محبوب سے ملنے کے لیے سو جتن کرنے پڑتے تھے۔ کبھی کسی پڑوس کے بچے کی جیب گرم کرنی پڑتی تھی تو کبھی معشوق کے چھوٹے بہن بھائیوں کے ھاتھ جوڑنے پڑتے تھے۔ کیا لطف ہوتا تھا محبوب سے ملاقات کا۔اب تو اس موبائل اور نیٹ نے عاشقی معشوقی کا تمام مزہ ہی کرکرا کردیا ہے ۔یوں سمجھیے کے دریا کنارے بیٹھ کر کافی تگ و دو کے بعد مچھلی پکڑنا اور گھڑے کی مچھلی پکڑنے والا معاملہ ہے۔۔

"Spring in Chaman is from the tail of friends" (Report of meeting with a very famous writer, researcher, editor and publisher) "" Beloved Azam "" Writing: Arif Majeed Arif
"Spring in Chaman is from the tail of friends” (Report of meeting with a very famous writer, researcher, editor and publisher) "” Beloved Azam "” Writing: Arif Majeed Arif

آئیے ہم بھی آپ کو اک محبوب سے ملنے کی داستاں سناتے ہیں۔۔

 

” میرا محبوب آگیا۔۔۔میرا من لہرا گیا”۔ مسعود رانا مرحوم نے تو یہ کسی نازک اندام حسینہ کے لیے ہی گایا ہوگا لیکن ہم جن کے لیے گنگنارے ہیں وہ جگت محبوب ہیں یعنی محترم محبوب الہی مخمور صاحب۔۔۔

 

ویسے محبوب بھائی کتنے خوش قسمت ہیں کہ انہیں ان کی روح کو تڑپانے اور قلب کو گرمانے والی پڑوسنیں بھی محبوب کہتی ہونگی (ہوسکتا ہے کہ بھائی کا لاحقہ بھی لگاتی ہوں لیکن اسے غیر مستعمل یعنی سائلینٹ جانیے)۔ہوسکتا ہے کہ ہمارے ان الفاظ سے آپ کو حسد و جلن کی بو بھی محسوس ہو رہی ہو لیکن کیا کریں کہ یہ اک فطری امر ہے۔

 

شوہر اور خوش نصیب ۔۔۔ویسے تو یہ دو متضاد الفاظ ہیں لیکن شوہر قبیلے کے مظلومین میں کوئی ایک آدھ واقعی خوش نصیب نکل ہی آتا ہے۔۔۔انہی میں سے ایک محترم محبوب الہی مخمور بھی ہیں وہ یوں کہ انہیں ان کی بیگم محبوب کہتی ہونگی۔۔ہمیں تو بیس سال گزرگئے کہ ہماری بیگم ہمیں کبھی ایسے پیار کے القاب سے پکاریں۔ ہم تو صرف بوقت ضرورت بلوائے بلکہ یوں کہیئے کہ "اٹھوائے” جاتے ہیں۔۔۔

 

اب آپ بخوبی جان چکے ہونگے کہ محبوب صاحب کیوں خوش نصیب ہیں۔ اک بات یہ بھی توجہ طلب ہے کہ نہ جانے انہیں کس چیز کا خمار چڑھا ہوا ہے کہ جب ہم انیس سو اسی کی دھائی میں کچھ لکھا کرتے تھے تب بھی یہ مخمور تھے اور اب جب دوبارہ نوشاد عادل قلم قبیلے میں گھسیٹ لائے ہیں تو بھی یہ مخمور ہی ہیں۔حالاں کہ اس درمیان یہ بیگم شدہ ھی ہوگئے ہیں اور جب کوئی بیگم یافتہ ہو چاتا ہے تو پھر ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔

 

گہرے سے گہرا نشہ بھی ہرن ہوجاتا ہے۔۔اب تک وہ کیوں مخمور ہیں یہ تو وہی بتاسکتے ہیں۔ہمارے خیال کے مطابق تو ان کے لیے شوہر قبیلے کے پرانے رکن ہونے کے ناطے مجبور لکھنا زیادہ موزوں ہوگا۔۔۔

 

ہمارا ان سے غائبانہ تعارف تو تھا لیکن کبھی ملاقات نہ ہوسکی۔۔گزشتہ دنوں ہمیں ہمارے پیارے بھانجے محمد عفان کی شادی خانہ آبادی میں شرکت کے لیے کراچی جانا ہوا۔۔اتفاق کی بات ہے کہ جس ہال میں شادی کی تقریب منعقد ہونا تھی وہ شریروں کے شریر پیر قبلہ نوشاد عادل کی رہائش گاہ کے قریب واقع تھا تو ہم نے انہیں وہاں ملاقات کے لیئے آنے کی درخواست کی۔۔

 

۔جب ان سے بات ہوئی تو ایک ٹکٹ میں دو مزے والی بات ہوگئی کہ محبوب بھائی بھی آنے پر رضامند ہو گئے ویسےشوہروں کی فطرت میں رضا مندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے شاید اسی لیے وہ راضی ہوگئے۔۔۔

 

یہ تو ہوگئیں کچھ شوخ باتیں اب زرا محبوب بھائی کے متعلق بھی لکھ دیں کہ وہ ہم سے بہت سینیر اور بہت اعلی قلم کار ہیں۔۔جب ہم بچوں کے رسائل میں اپنا خط دیکھ کر خوش ہوتے تھے تب محبوب بھائی چارسو چھائے ہوئے تھے وہ متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ۔ کافی بارانعام یافتہ مصنف بھی قرار پائے ہیں۔۔۔

 

ان کا جو سب سے بڑا کارنامہ ہے وہ انوکھی کہانیاں کا اجرا ہے جس نے معیار کے ساتھ بہت سارے نئے سلسلے متعارف کروائے ہیں۔

 

وقت مقررہ پر دونوں کی آمد ہوگئی۔۔۔ہماری تو خوشی کا عالم نہ پوچھیے۔دونوں کو جھپی ڈالی اور ایک طرف سے محبوب بھائی کو اور دوسری طرف سے نوشاد عادل کو بازووں میں بھر لیا۔اب ہم سراپا ادب تھےکہ ہمارے دونوں اطراف میں ادب کے سمندر ٹھاٹھے مار رہے تھے۔۔چلیں کچھ کم وقت کے ہی لیے سہی ہم بھی باادب ہوگئے تھے ۔

 

محبوب بھائی اتنی محبت سے ملے کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اتنے بڑے ادیب ہیں اور پہلی بار مل رہے ہیں۔ان سے کافی باتیں ہوتی رہیں۔نوشاد عادل بھی لقمے دیتے رہے۔محبوب بھائی نے اپنی کتب اور انوکھی کہانیاں کے شمارے بھی تحفے میں دیے۔۔ہمارے سگے بھانجے کی تقریب تھی ۔

 

ہم صرف دو منٹ کے لیے تصویر بنوانے گئے اور پھر ان کے ساتھ آبیٹھے۔محبوب بھائی نے بہت کہا کہ اپنی فیملی کو وقت دیں تو ہم نے کہا کہ جب صلواتیں سننی ہی ہیں تو پھر گناہ بے لذت کیوں۔۔۔کچھ زیادہ سن لینگے۔ ویسے بھی معمول کی باتوں پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

 

کچھ ہی دیر میں طعام کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔کھانے سے انصاف بھی ہوتا رہا اور ہلکی پھلکی گفتگو بھی جاری رہی۔نوشاد عادل حسب معمول مختلف چیزیں لکھنے کی تاکید و اصرار کرتے رہے جب کہ محبوب بھائی نے آپ بیتی کا حکم دیا جو سر آنکھوں پر ہے۔ کچھ دیر میں ٹھنڈے مشروبات بھی آگئے ہم نے نوشاد عادل سے کہا کہ فی الحال یہی میسر ہے اسی سے شغل فرمایئے

 

تووہ شاید بات کی گہرائی تک ابھی پہنچ بھی بہ پائے تھے کہ محبوب بھائی قہقہے لگانے لگے انہی مسکراتی باتوں میں وقت گزرتا رہا۔پھر وقت رخصت بھی آ پہنچا۔دل تو نہیں چاہ رہا تھا کہ ملاقات ختم ہو مگر رخصتی کا وقت ہوگیا تھا ۔لڑکی والے اپنی بیٹی رخصت کر رہے تھے اور ہم دو ادیبوں کو ان کے گھریلو محاذ پر روانہ کر رہے تھے اسی لیے خدا حافظ کہنا پڑا۔۔ان سے مل کر مسعود رانا کا گانا ذہن میں گونجتا رہا کہ تمہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں۔۔۔۔

 

وہ حقیقت میں اپنی خدمات اور کردار کی وجہ سے بچوں کے ادب کے "محبوب آعظم” ہیں ہر ایک ان سے پیار کرتا ہے (اس "ہر ایک” میں بھابھی موصوفہ کا ہونا ضروری نہیں کیوں کہ یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے )۔۔۔نوشاد عادل کا تو کس طرح اور کتنی بار شکریہ ادا کریں کہ ان کی بدولت ہم انتہائی بےادب ہوتے ہوئے بھی حلقہ ادب میں گھس بیٹھے ہیں۔۔

 

بہرحال ان کا پھر شکریہ کہ ان کی وجہ سے ہمیں ایک عظیم، بااخلاق اور شفیق شخصیت سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔
رات گئے جب شادی کی دیگر رسومات(ہم خرافات کہتے ہیں) کے بعد استراحت کا موقع ملا تو فیس بک پر آگئے۔۔۔محبوب بھائی ملاقات کی پوسٹ لگا چکے تھے۔۔جو کچھ انہوں نے ہماری ادبی حیثیت کے متعلق لکھا ہے۔۔۔

 

اگر ہم اس کے پانچ فیصد بھی حامل ہیں تو محبوب بھائی جیسے مستند ادیب کی طرف سے یہ ہمارے لیے مثل سند ہے۔۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں ہمیں ملنسار، خوش اخلاق اور باغ و بہار شخصیت کا مالک قرار دیا ہے۔ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ محبوب بھائی نے ہمیں جس نظر سے دیکھا ہے

 

اس نظر کا زیادہ نہیں صرف پانچ سات فیصد ہی ہماری بیگم کو عطا فرمادے کہ جن اوصاف کا حامل ہمیں محبوب بھائی نے گردانا ہے بقول ہماری بیگم کہ ہم ان سے اتنے ہی عاری ہیں جتنی اخلا قیات ہماری سیاست سے دور ہے۔

 

رات نہ جانے کس پہر ہم وادی نیند میں داخل ہوئے ہمیں نہیں معلوم مگر یہ ضرور یاد ہے کہ وقت آخر تک محبوب بھائی اور نوشاد عادل سے ملاقات کا خمار چڑھا ہوا تھا۔آخر "مخمور” اور "نوشاد” سے ملاقات کے بعد سرشاری اور خمار تو ہونا ہی تھا۔

 

اللہ تعالی دونوں کو شاد و آباد رکھے۔ آمین۔