حکومت استعفوں سے نہیں جائے گی! تحریر:شاہد ندیم احمد

The government will not resign! Written by Shahid Nadeem Ahmed

29

حکومت کے خلاف پی ڈی ایم تحریک اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوکربات ایوان زیریں اورایوان بالاسے استعفوں تک جاپہنچی ہے،تاہم استعفوں کی ڈیڈ لائن دینے کے لئے بلائے جانے والے اجلاس میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا،

The government will not resign! Written by Shahid Nadeem Ahmed
پیپلز پارٹی نے یہ بات منوا لی کہ سندھ حکومت سے دستبردار ہو گی نہ سندھ ارکان صوبائی اسمبلی استعفیٰ دیں گے، البتہ جوش جذبات میں بعض مسلم لیگی ارکان اسمبلی نے مریم نواز کو خوش کرنے کے لئے اپنے استعفے لکھ کر قیادت کے حوالے کئے ہیں،مگر اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن آنے پر حقیقی آشکار ہو گا

 

کہ پنجاب کے کتنے مسلم لیگی ارکان قیادت کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں،بیرسٹر اعتزاز احسن نے قانونی پوزیشن بتا کر ارکان اسمبلی اور اپنی پارٹی کو آئینہ دکھایا ہے کہ استعفیٰ کارڈ کھیل کر اپوزیشن اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارے گی،ایسی صورت میں اول تو ضمنی انتخابات کی آپشن موجود ہے

 

لیکن اگر بالفرض نئے انتخابات کی نوبت آئی تو یہ وزیر اعظم عمران خان کی نگرانی میں ہوں گے،کیو نکہ کسی نگران حکومت کی گنجائش آئین میں نہیں ہے،

 

کیا اپوزیشن عمران خان کی زیر نگرانی نئے انتخابات کرانے کے لئے سارے جتن کر رہی ہے؟مایوس اور جذباتی مسلم لیگ(ن) قیاد ت شائد سوچنے کے لئے تیار نہ ہو، مگر عملیت پسند پیپلز پارٹی کو صورت حال کا بخوبی ادراک ہے۔

 

پی ڈی ایم تحریک کے پاس مستقبل کا کوئی ایجنڈا نہیں، بس اپنی قیادت کی مالی اور سیاسی غلطیوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے حکومت کے خلاف مہم جوئی شروع کررکھی ہے۔اس کے بظاہر مقاصد کچھ اور ہیں، لیکن اتحاد میں شامل تمام جماعتیں اپنے الگ اہداف رکھتی ہیں اور وہ ان کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں۔

 

مسلم لیگ (ن)سب کچھ لگادو کی کیفیت میں ہے،جبکہ پیپلز پارٹی کا معاملہ اس سے مختلف ہے، پیپلز پارٹی کبھی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دے گی۔ پیپلز پارٹی نے اس وقت استعفے دینے سے انکار کر دیا تھا،

 

 

جب کہ جنرل مشرف کیخلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ اپنے زوروں پر تھی۔ پیپلز پارٹی گرتی دیوارکو دھکا دینے کی بجائے بھرپور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کو ترجیح دیتی آئی ہے۔پیپلز پارٹی آج بھی لانگ مارچ کی حد تک پی ڈی ایم کا ساتھ ضرور دے گی، کیونکہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی اپنے لئے جو ریلیف چاہتی ہے،

 

اس کیلئے اپوزیشن کیساتھ مل کر چلنا مجبوری ہے،جبکہ مسلم لیگ(ن) دوگنا عذاب سے دوچار ہے، ایک طرف انہی مسائل کا شکار ہے کہ جن کا بدعنوانی کے مقدمات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو سامنا ہے، دوسری طرف لیگی ایم این ایز کی اپنے علاقائی مسائل کے حل کیلئے

 

 

حکومت کیساتھ رابطوں کی وجہ سے لیگی قیادت کو خدشہ لاحق ہے کہ آئندہ سینیٹ الیکشن میں ان کے ممبران اسمبلی اپنے اُمیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے،اس لیے مسلم لیگ(ن) قیادت اپنی سیاست اور پارٹی کو بچانے کیلئے تکودو کررہی ہے۔

 

مسلم لیگ (ن) کو بخوبی اندازہ ہے کہ پی ڈی ایم تحریک سے حکومت نہیں گرے گی، چنانچہ بظاہر شور شرابے کے پیچھے چھپا مقصد ایک تو لیگی قیادت کیلئے این آر او کی صورت میں ریلیف حاصل کرنا ہے،

 

جبکہ دوسرا مقصد اپنے اراکین کو اپنے ساتھ جوڑ ے رکھنا ہے۔ پی ڈی ایم تحریک ابھی تک تاثر قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے کہ حکومت جا رہی ہے، لیکن کارکنان کی موبلائزیشن کی بنیاد پر مسلم لیگ(ن) اپنے اراکین اسمبلی کو رفتہ رفتہ دباؤ میں ضرور لارہی ہے،جبکہ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان واضح دو ٹوک انداز میں اعلان کر تے رہتے ہیں

 

کہ کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن رہنماؤں کی چوری پر پردہ ڈالنے کیلئے این آر او نہیں دیں گے۔ وزیراعظم کی طبیعت اور موڈ کے پیشِ نظر نواز شریف نے فوجی قیادت پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنارکھی ہے۔

 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بظاہر ان کے بیانئے پر اختلافی مؤقف ضرور اختیار کئے رکھا ہے،لیکن اندر سے دونوں ہی ملے ہوئے ہیں،کیو نکہ بدعنوانی کے مقدمات سے چھٹکارا پانے کیلئے دونوں فوجی قیادت کی اپنے حق میں مداخلت چاہتے ہیں۔ فوجی قیادت کے انکار کے بعد طے شدہ منصوبے کے

 

تحت آرمی چیف کیخلاف ہرزہ سرائی کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، آرمی چیف پر کھلم کھلا تنقید سے مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ مزید بددل ہوئے ہیں،لیکن مسلم لیگی قیادت کو یقین ہے کہ بچاؤ کا رستہ یہیں سے نکلے گا۔

 

اپوزیشن جماعتیں ایک طرف جمہوری حکومت گرانا اور دوسری جانب جمہوریت کے راگ الاپتے ہوئے غیر جمہوری قوتوں سے مکالمہ کرنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خاں کی جانب سے اپوزیشن کو احتساب کے عمل کے سوا دیگر تمام معاملات پر مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے،

 

اگر فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو مفاہمت کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل سکتا ہے، اس لئے اپوزیشن کو وزیر اعظم کی پیش کش قبول کرتے ہوئے کوئی عارمحسوس نہیں کرنی چاہئے، کیو نکہ حکومت پی ڈی ایم تحریک یا استعفوں سے نہیں جائے گی۔

 

سابق وزیراعظم شاہد خاقان کے بقول اپوزیشن کی بات چیت حکومت سے نہیں، اداروں سے ہو گی تو پھر جمہوریت کے تحفظ کی یقین دہانی کون کرائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن ہی جمہوریت کی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں،

 

جسے باہمی افہام و تفہیم سے ہی سبک خرامی سے چلایا اور ٹریک پر رکھا جا سکتا ہے، اس لئے حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعاون پر ہی جمہوریت کی بقاء و استحکام کا دارومدار ہے، اس کا راستہ غیر جمہوری کی بجائے، جمہوریت پسند قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی نکالا جا سکتا ہے۔