پیا گھر آئی بابل کی راج دلاری تحریر: عارف رمضان جتوئی، کراچی

The king of Babylon came home drunk Written by Arif Ramzan Jatoi, Karachi

19

”سب سے اچھا گھر کونسا ہوتا ہے، بابا کا یا اپنا؟“ اس نے معصومیت سے پوچھا۔ ”بابا کے گھر جیسا دنیا میں کوئی گھر ہے ہی نہیں، البتہ اپنا گھر تو آپ سے ہے، اگر آپ کا برتاﺅ اچھا ہوگا تو گھر جنت نظیر ہوگا“، میں نے مختصر جواب دیا۔

 

”کیا ایسا ہی ہے، وہاں پر جو ہیں ان کا بھی تو عمل دخل ہوتا ہوگا نا؟“ اس نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے بات پر زور دیا۔ ”بالکل ان کا عمل دخل بھی بہت اہمیت رکھتا ہے مگر عموما جانے والے پر ہوتا ہے کہ وہ کیسا ہے“، میں نے روایتی سا جواب دیا۔

 

”میرا نصیب کیسا ہوگا؟“ اس نے بہت دیر خاموش رہنے کے بعد پھر پوچھا۔ نصیب کے فیصلے اوپر والا کرتا ہے۔ ”جہاں تک میں سمجھتا ہوں آپ کا اخلاق اچھا، بات کرنے کی تمیز اور کچن پر گرفت اچھی ہے تو نصیب پر چاند لٹک رہے ہیں“۔

 

میں نے موبائل پر سے نظریں ہٹاتے ہوئے اسے جواب دیا۔ اس کے چہرے پر تفکرات کی لہریں نمایاں تھیں، میری بات سے تسلی ملی ، اطمینان کی جھلک چہرے پر محسوس ہونے لگی۔

 

صائمہ کی عمر تو زیادہ نہ تھی کہ اسے شادی کی فکر ہوتی مگر وہ گھر میں سب سے بڑی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر طرف سے شادی کا رخ اس کی جانب ہی ہوتا تھا۔ گھر میں اس کی شادی کو لے کر ابا اماں پریشان تھے یا نہیں مگر وہ کسی لمحے بھی بھی اس فریضے سے بے پروا نہیں تھے۔

 

ہر دوسری شادی کے تذکرے میں صائمہ کا زکر آہی جاتا۔ وہ ہر بار اپنا نام سن کر گھبرا جاتی، اس کے دل میں بس اپنی اچھی اور بری قسمت کے خیالات گردش کرنے لگتے۔ جس مقام پر وہ کھڑی تھی وہاں ایسے خیالات کا آنا فطری سی بات تھی۔

 

عمر کے اس حصے میں سوائے اپنے مستقبل کے فکر مند ہونے کے اور کچھ نہیں تھا۔ بعض اوقات بچپن اور لڑکپن کے بعد جوانی بعد میں آتی ہے فکریں اور پریشانیاں پہلے ڈیرہ ڈال لیتی ہیں۔

 

آج بھی ان کے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے، چہل پہل تھی، سب کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں تھے ایک وہ تھی کہ جو تفکرات چہرے پر سجائے مہمانوں کے لیے کچن میں انواع اقسام کے پکوان بنانے میں مصروف تھی۔

 

مہمانوں کے آنے اور جانے تک وہ ٹھیک ٹھاک تھک چکی تھی۔ سب کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں جاتے ہی لیٹ گئی۔ جسمانی تھکان سے زیادہ اس کا دماغ سوچوں کی وجہ سے تھک کرچکا تھا۔ سوالات اور خدشات کے بیچ میں جکڑی جانے کب اس کی آنکھ لگی گئی۔

 

باتوں باتوں میں صائمہ کو اندازہ ہوچکا تھا کہ اس کے رشتے کی بات پکی ہوچکی ہے۔ صائمہ کی نیم رضا مندی بھی شامل تھی۔ گھر میں خدشات بھی سر اٹھا رہے تھے کچھ باتوں کو لے کر امی بھی فکر مند تھیں مگر ابا جی کو لڑکا بہت پسند آیا تھا۔

 

اپنی برادری اور محکمے کا ہونے کے ناتے ابا پر جلد شادی کرنے کی دھن سنوار ہوچکی تھی۔ خدشات کی جانب غور و فکر کرنے کے بجائے انہوں نے تیاریوں کو حتمی مراحل دینے پر توجہ مرکوز کی ہوئی تھی۔

بھائی سنیے! آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے، صائمہ کے متوجہ کرنے پر اس دن ایک دم سے دل زور سے دھڑکا تھا۔ یا اللہ سب خیر ہو، دل ہی دل میں کہتے ہوئے میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ”جی جی کہیے، لگتا ہے آ پھر سے بریانی جل گئی ہے“۔

 

ارے نہیں ناں، ہر بات میں مذاق نہیں اڑایا کریں، اس نے ناراض ہوتے ہوئے کہا اور پھر بولیں ”وہ ابا نے بات پکی کردی ہے، شادی کی تاریخ بھی طے ہوگئی ہے“۔ ارے واہ! ماشاءاللہ یہ تو خوشی کی بات ہے“، میں نے جھٹ سے کہا۔

 

”وہ تو ٹھیک ہے پر لڑکا۔۔۔“ اس نے رکتے رکتے کہا۔ ”کیا ہوا لڑکے کو؟، ”کچھ خاص نہیں بس میں اسے نہیں جانتی“، اس نے دھیرے سے کہا۔

 

”اوہ اچھا، یہ بات ہے، تو شادی کے بعد اچھے سے جان پہچان کرلیجیے گا۔ ویسے آپ کو ابھی جاننا ضروری بھی نہیں، ابا نے جان لیا یہ کافی ہے۔“

 

میری بات پر وہ چپ ہوگئیں۔ ”دعا کیجیے گا میرے لیے سب خیر ہو“، اس نے آخری الفاظ کہے۔ یہ آخری الفاظ وہ کہنا کبھی نہیں بھولی تھی۔ ”دعا کب نہیں کرتا“، میں نے جوابا کہا۔

 

صائمہ شادی کے جوڑے میں اپنی مورت جیسی لگ رہی تھی۔ بہت ہی پیاری مگر ڈری ہوئی۔ تیز لائٹوں کی روشنی اور میک اپ کی کثرت کے باجود چہرے پر تفکرات کے رنگ چھپ نہیں پائے تھے۔

 

خواتین میں گھری ہوئی صائمہ کی نظریں مجھ پر پڑیں تو اس وقت بھی اس نے پھر وہی سوال پوچھا، ”بھائی! میرا نصیب۔۔۔۔“ میں نے ٹوکتے ہوئے کہا، ”بس چپ رہیں۔ اچھے نصیب لے کر آئی ہیں،

 

سب خیر ہوگا“ بہن اور بھائی کے درمیان یہ مکالمہ صرف نگاہوں کے درمیان ہوا۔ ویسے بھی بہن بھائی کے درمیان کی گفتگو کوئی سمجھ بھی نہیں سکتا۔

 

”آج وہ امی کے گھر آئی ہوئی تھیں۔ کال پر بات چل ہورہی تھی۔ اماں صلواتیں سنا رہی تھیں۔ اتنے دنوں کے بعد یاد آئی وغیرہ۔۔۔

 

”اماں! صائمہ کیسی ہیں؟ موبائل نہیں لیا ابھی تک“، میں نے بات کو رخ بدلتے ہوئے پوچھا۔ جیسی بھی ہیں خود بات کرلیں، انہوں نے پاس بیٹھی صائمہ کو موبائل پکڑاتے ہوئے کہا۔

 

”السلام علیکم بھائی۔۔۔“ اس با مودبانہ سلام کیا۔ ”وعلیکم السلام، کیسی ہیں؟ کہاں ہیں، کنجوس شوہر کی اہلیہ، ابھی تک بھائی صاحب نے موبائل نہیں دلایا؟“ میں نے سارے سوال ایک ہی سانس میں کر ڈالے۔

 

”نہیں۔“ اس نے مختصر جواب دیا۔ ”کاہے۔۔۔“ میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔ ”پتا نہیں“ اس نے پھر اختصارا کہا۔ ”ارے ایسے کیسے پتا نہیں“ میں کچھ اور کہتا، اس نے فورا کہا۔ ”چھوٹو کیسا ہے؟ آپ امی کی طرف چکر لگا جائیں ناں۔۔ ابھی میں ادھر ہی ہوں۔۔۔“

 

”جی کیوں نہیں لگاتے ہیں چکر پر آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟“، خوش و خرم اور ہر وقت چہکتی رہنے والی صائمہ کی مرجھائی ہوئی آواز نے مجھے فکر مند کردیا تھا۔

 

”جب آپ آئیں گے تو سب بتا دوں گی“۔ اس نے پھر مختصر جواب دیا اور اماں کو فون پکڑا دیا۔ شاید وہ رونے لگی تھی یا پھر اس کا دل بھر آیا تھا۔

 

اماں کیا ہوا صائمہ کو؟، میں نے اماں کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔ ”کچھ وی نہیں پتر۔ تسی اس اتوار نوں کر (گھر) آجاﺅ“۔ جی امی جی! میں نے کہا اور فون منقطع کردیا۔

 

آج اتوار تھا، صبح ہی اماں کی کال آگئی تھی۔ پتر کنی (کتنی) دیر میں نکلنا ہے؟“، انہوں نے پوچھا۔

 

”بس تیاری کرکے آپ کی طرف ہی آنا ہے“، میرے جواب پر وہ مطمین ہوگئیں اور پھر کال منقطع کردی۔ گھر پہنچے تو دروازے پر صائمہ منتظر تھیں۔

 

آج بابل کی راج دلاری اور پیا سدھار گئی میں بہت فرق محسوس ہورہا تھا۔ صائمہ کی فکریں حقیقت کا روپ دھار چکی تھیں۔ چہرے پر مایوسی اور ناامیدی عیاں تھی۔ وہ کچھ بتاتیں سب کچھ واضح دکھائی دے رہا تھا۔

 

”پتر۔۔۔!“ اماں نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ جسے اپنا سمجھ کر بھیجا وہ غیروں سے بدتر نکلے۔

 

بہو کی صورت میں بیٹی دی تھی مگر اس نصیبوں جلی کو تو بہو کی محبت بھی نصیب نہ ہوئی۔ صرف 6 ماہ میں وہ سب ہوا جو کسی عمر بھر کی خاتون کے ساتھ نہیں ہوتا ہے۔

 

مار پیٹ، طعنے، نوکرانی جیسا سلوک اور بہت کچھ اختتام یہ کہ بیٹی کی سانسیں چلتی رہیں اس لیے اب اسے واپس بابل کے گھر لے آئے ہیں۔

 

گھر میں صف ماتم بچھا ہوا تھا۔ سوگ جیسا ماحول تھا۔ کسی کا خون ہوا تھا جو بظاہر دکھ نہیں رہا تھا۔ وہ خون شاید ارمانوں کا تھا یا پھر امیدوں کا، دل بکھرے تھے یا پھر ایک زندگی ضائع ہوئی تھی۔ ہر فرد کو لگ رہا تھا

 

 

 

 

کہ صائمہ کی امیدوں کا قصور وار وہی ہے، خود ہی خود میں ٹھہری اپنے سوالوں کو دل میں بسائے صائمہ دیوار کے ساتھ کھڑی مجھ سے پھر وہی سوال کررہی تھی۔۔۔ ”بھائی وہ میرانصیب۔۔۔ “ آج تسلی دینے کے لیے بھی الفاظ نہ تھے ،

 

پتا نہیں کہاں سے میری آنکھوں کے کسی کونے سے 2 قطرے نکلے گالوں پر سے پھسل کر زمین میں دفن ہوگئے جنہیں میں نے بہت مہارت سے چھپا لیا تھا کیوں پتا تھا بہن ہے یہ قطرے بھی تکلیف دے جائیں گے۔

 

صائمہ کی نگاہیں مجھ سے شکوہ کررہی تھیں ۔۔۔ شاید وہ مجھ سے یہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے زیادہ کیا مانگا تھا، سوائے چند لقمے زندہ رہنے

 

کے لیے اور ایک محبت کرنے والا شوہر اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا۔ اس کی حالت زار بتا رہی تھی کہ اس نے اس کے لیے جدوجہد بھی کی ہوگی۔۔

 

 

مجھے سانسوں کی ہے تھوڑ پیا

میں نے پھونکے ورد کروڑ پیا

کری منت زاری تر لے سب

میں نے ہاتھ دئیے ہیں جوڑ پیا

میں نے پگ پگ تیری بلائیں لیں

مرا ساتھ ابھی مت چھوڑ پیا