دنیا کا وہ بادشاہ جس نے اللہ واحد القہار کی جنت کے مقابلے میں ایک جنت بنائی

The king of the world who created a paradise in comparison to the paradise of Allah Almighty

26

اسلا م آباد ( عوامی فیصلہ نیوز ) شداد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک جنت بنائی تھی جو بہت بڑی تھی اور اس کی تعمیر میں کئی سال لگے تھے لیکن شداد کو یہ جنت دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوئی، تاریخ کی کتابوں میں شداد کا واقعہ تواتر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ شداد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ قوم عاد کا بادشاہ تھا، اسی قوم کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غیرمعمولی قدوقامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔

 

 

ان میں ہر شخص کا قد کم از کم بارہ گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مِل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔ دو بادشاہ خاص طور پر ان میں بہت جاہ جلال والے ہوئے۔ وہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شدید تھاجو بڑا تھا۔

 

 

 

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں بڑھتے ہوئے کیسز ، بشریٰ انصاری نے مولانا طارق جمیل سے بڑا مطالبہ کردیا

 

 

 

دوسرے کا نام شدّاد تھا جو اس کےبعد تخت نشین ہوا۔ یہ دونوں وسیع علاقے پر قابض ہوگئے اور بے شمار لشکر و خزانے اُنہوں نے جمع کر لیے تھے۔ شدّاد نے اپنے بھائی شدید کے بعد سلطنت کی رونق و کمال کو عروج تک پہنچایا۔ دنیا کے کئی بادشاہ اس کے باج گزار تھے۔

 

 

اُس دور میں کسی بادشاہ میں اتنی جرأت و طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے اس کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کردیا۔ اُس وقت کے علما و مصلحین نے جو سابقہ انبیا کے علوم کے وارث تھے، اسے سمجھایا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگا،

 

 

جو حکومت و دولت اور عزت اس کو اب حاصل ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی کسی کی خدمت و اطاعت کرتا ہے، یا تو عزت و منصب کی ترقی کے لیے کرتا ہے یا دولت کے لیے کرتا ہے، مجھے تو یہ سب کچھ حاصل ہے، مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی کی عبادت کروں؟ سمجھانے والوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت و دولت ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اُخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔

 

 

اس نے پوچھا، یہ جنت کیسی ہوتی ہے؟ اسکی تعریف اور خوبی بتاؤ۔ نصیحت کرنے والوں نے جنت کی وہ صفات جو انبیائے کرام کی تعلیمات کے ذریعے ان کو معلوم ہوئی تھیں، اس کے سامنے بیان کیں تو اس نے کہا ”مجھے اس جنت کی ضرورت نہیں ایسی جنت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔“

 

 

اس دن سے شدّاد کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ وہ ایک ایسا شہر تعمیر کرائے جو ہر لحاظ سے جنّت جیسا ہو، اس نے اپنے بھانجے ضحاک کو جو ایران کا حاکم تھا، کہلا بھیجا کہ جتنا سونا چاندی تمہارے پاس جمع ہے وہ فوراًمیرے پاس بھیج دو۔ ضحاک نے ایسا ہی کیا۔ شدّاد نے پورے ملک میں اپنے کارندے روانہ کئے جو بہت بڑی مقدار میں سونا چاندی جمع کر کے لائے۔

 

 

شدّاد نے جنّت بنانے کے لیے مُلکِ شام میں ایک صحت افزا مقام کا انتخاب کیا اور ماہر معماروں کے ذریعے وہاں ایک مضبوط اور مستحکم فصیل تعمیر کرائی، جس کے اندر سونے اور چاندی کا محل تعمیر کرایا اور اس کی دیواروں کو قیمتی جواہر سے سجایا، اس نے شہر کے وسط میں ایک ایسی نہر بنوائی جس کے پانی میں سنگریزوں کی بجائے ہیرے جواہرات بہتے تھے، سونے کےایسے درخت لگوائے جن کے خوشوں میں مشک و عنبر بھرا گیا تھا، جب ہوا چلتی تو مشک و عنبر کی خوشبو پورے شہر میں پھیل جاتی۔

 

 

بیان کیا جاتا ہے کہ شدّاد نے محل کے چاروں طرف سونے کی اینٹوں سے بارہ ہزار کمرے تعمیر کرائے اور ہر کمرے کو یاقوت اور ہیرے جواہرات سے مزیّن کیا گیا اور اطراف و جوانب سے خوبصورت اور جوان عورتوں کو وہاں لایا گیا، یہ عظیم الشّان جنّت نُما شہر تین سو یا پانچ سو سال میں مکمل ہوا۔

 

 

کہا جاتا ہے کہ شداد کی عمر نو سو برس تھی، جنت مکمل ہونے کے بعد شداد کو اس کی تکمیل کی اطلاع دی گئی، اطلاع ملتے ہی شدّاد بہت بڑا لشکر لے کر اپنی جنّت کی جانب روانہ ہوگیا، ابھی شہر سے ایک منزل کے فاصلے پر تھا کہ اس نے ایک ہرن دیکھا جس کے پاؤں چاندی اور سینگ سونے کے تھے، ہرن کو دیکھ کر وہ لالچ میں آگیا اور اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے اپنا گھوڑا لگا دیا، بھاگتے بھاگتے وہ اپنے لشکر سے جدا ہو گیا،

 

 

اس نے شدّاد کو پکار کر کہا: شدّاد! تو نے عالیشان محل تعمیر کر کے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب تو موت کے پنجے سے بھی آزاد ہوچکا ہے۔ یہ سُن کر شدّاد کا رواں رواں کانپنے لگا اور اس نے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا: میں ملک الموت ہوں۔ شدّاد نے کہا اس وقت تمہیں مجھ سے کیا کام ہے

 

 

اور میری راہ میں کیوں روڑے اٹکا رہے ہو؟ ملک الموت نے کہا: میں صحرا میں تیری روح قبض کرنے آیا ہوں۔ شدّاد نے کہا: مجھے کم از کم اتنی مہلت دے دو کہ میں اپنی بنائی ہوئی جنّت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں۔ ملک الموت نے اجازت نہ دی، چنانچہ شدّاد گھوڑے سے گرا اور مرگیا اور اس کے لشکر نے ایک آسمانی چنگھاڑ سنی تو پورے کا پورا لشکر آن واحد میں ختم ہوگیا اور جنّت جانے کے بجائے ملکِ عدم پہنچ گیا۔